پرینکا گاندھی نے یو پی کا ماحول گرم کر دیا... سہیل انجم

جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں میڈیا کی نگاہیں پرینکا پر گہری ہوتی جا رہی ہیں،ان کی انتھک محنت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور کہا جانے لگا ہے کہ پرینکا نے یو پی کے انتخابات میں گرمی پیدا کر دی ہے

پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
پرینکا گاندھی، تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

ہم نے گزشتہ کالم میں لکھا تھا کہ حکومت کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی مقبولیت سے خائف ہے۔ ہم نے اس کی متعدد وجوہات بھی بتائی تھیں۔ اب جوں جوں اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں حکومت کا یہ خوف بڑھتا جار ہا ہے۔ پرینکا گاندھی نے جس طرح لکھیم پور کھیری کے واقعہ کو اٹھایا اس سے یو پی حکومت گھبرا گئی ہے۔ اس نے ان کی حوصلہ شکنی کی بہت کوشش کی لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ لکھیم پور کے واقعہ کے بعد کانگریس پارٹی میں نیا جوش و خروش پیدا ہو گیا اور نہ صرف یو پی بلکہ پورے ملک میں پارٹی کارکنوں کے حوصلے بلند ہو گئے ہیں۔

جوں جوں انتخابات قریب آرہے ہیں میڈیا کی نگاہیں پرینکا گاندھی پر گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کی انتھک محنت کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور یہ کہا جانے لگا ہے کہ پرینکا نے یو پی کے انتخابات میں گرمی پیدا کر دی ہے۔ بلکہ اب تو بہت سے مبصرین یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ پرینکا گاندھی یو پی انتخابات میں ایجنڈہ سیٹ کر رہی ہیں۔ ابھی تک یہ کہا جاتا رہا ہے کہ بی جے پی انتخابی ایجنڈہ سیٹ کرتی ہے اور وہ جو ایجنڈہ پیش کرتی ہے دیگر سیاسی جماعتیں بھی اسی کے ارد گرد اپنا ایجنڈہ مرتب کرتی ہیں۔


لیکن اب ماحول بدل گیا ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ یو پی کے عوام بی جے پی سے بری طرح ناراض ہیں۔ وہ ہر قیمت پر یوگی حکومت کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ دن بہ دن عوام کی یہ ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ پرینکا گاندھی کی سیاسی حکمت عملی اس ناراضگی کو مزید بڑھا رہی ہے۔ اسی لیے یوگی حکومت پریشان ہو گئی ہے۔ پرینکا نے ہفتے کے روز بارہ بنکی کے دورے کے موقع پر جس طرح ایک کھیت میں دھان کاٹنے والی خواتین سے ملاقات کی اور ان کے درمیان چالیس منٹ تک رہیں اور جس طرح انھوں نے ان مزدور خواتین کے ہاتھوں سے کھانا کھایا اور ان کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا وہ یوگی حکومت کی فکرمندی میں اضافے کا سبب بنا ہے۔

یوگی کی گھبراہٹ اس وقت بھی دیکھنے کو ملی تھی جب خاتون پولیس کے ایک گروپ نے پرینکا کے ساتھ سیلفی لی تھی۔ پرینکا گاڑی سے اتر رہی ہیں اور انھیں خواتین پولیس گھیر لیتی ہیں اور خوشی خوشی سیلفی لیتی ہیں۔ پولیس کی یہ ادا یوگی کو بہت بری لگی اور یہ اشارہ دیا گیا کہ اس معاملے کی جانچ کی جائے گی اور سیلفی لینے والی خواتین کے خلاف کارروائی ہوگی۔ یہ اعلان یوگی کی گھبراہٹ کا پتہ دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی نیتا کے ساتھ سیلفی لینا کوئی جرم ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو سب سے پہلے ان لوگوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے جو وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ سیلفی لیتے ہیں۔ ایسا بارہا دیکھا گیا ہے کہ وہ کسی پروگرام میں گئے ہیں اور وہاں لوگوں نے ان کے ساتھ سیلفی لی ہے۔ اب اگر پرینکا کے ساتھ خاتون پولیس اہلکاروں نے سیلفی لی تو اس میں کیا برائی ہے اور یہ کون سا جرم ہے۔ کس قانون میں لکھا ہے کہ خاتون پولیس اہلکار کسی کے ساتھ سیلفی نہیں لے سکتیں۔


اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ پرینکا کی مقبولیت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ صرف عوام ہی میں نہیں بلکہ سرکاری ملازموں میں بھی ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے اور خاتون پولیس اہلکاروں کا یہ قدم یہ بھی بتاتا ہے کہ ان کو اس کی پروا نہیں ہے کہ ان کے خلاف کوئی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے نتائج سے بے پروا ہو کر یہ قدم اٹھایا ہے۔ یہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ سرکاری ملازموں میں بھی اندر اندر یوگی حکومت کے تئیں ناراضگی بڑھتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حکومت میں عوام تو عوام سرکاری ملازمین بھی خوش نہیں ہیں۔

پرینکا گاندھی نے بارہ بنکی میں عوامی فلاح و بہبود کے جو اعلانات کیے ان کی وجہ سے بھی یوگی حکومت کے سردر میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ عوام کے درمیان جا کر جو اعلانات کر رہی ہیں اس سے کانگریس کی پوزیشن مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔ انھوں نے سب سے پہلے تو یہ اعلان کیا کہ اگر یو پی میں کانگریس کی حکومت آتی ہے تو لڑکیوں کو اسکوٹی دی جائے گی اور اسمارٹ فون بھی تقسیم کیے جائیں گے۔ اس کے بعد انھوں نے بارہ بنکی کے کھیت میں خواتین کے ساتھ گفتگو کرنے کے بعد جو اعلان کیا اس نے خواتین کے دل جیت لیے۔ مجبور ہو کر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی اعلان کرنا پڑا کہ ان کی حکومت نومبر کے اواخر میں نوجوانوں کو اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ تقسیم کرے گی۔ ان کے اس اعلان سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یوگی پرینکا کے اعلان سے کس قدر پریشان ہیں۔


پرینکا گاندھی اس سے قبل انتخابات میں چالیس فیصد خواتین کو ٹکٹ دینے کا اعلان کرکے ہنگامہ برپا کر چکی ہیں۔ اس اعلان کے بعد لڑکیوں کو اسکوٹی اور اسمارٹ فون دینے کا اعلان سونے پر سہاگہ ثابت ہوا۔ دراصل خواتین نصف ووٹر ہیں۔ وہ جس کی جانب جھک گئیں اس کی جیت یقینی ہے۔ مغربی بنگال میں خواتین کی بڑی تعداد نے ممتا بنرجی کے حق میں اپنا ووٹ پول کیا تھا جو ان کی جیت میں اہم کردار ادا کر گیا۔ اسی طرح بہار کے انتخابات میں خواتین کی اکثریت نے جے ڈی یو کے حق میں پول کیا جو نتیش کے لیے وردان ثابت ہوا۔ لہٰذا بی جے پی اور دیگر پارٹیوں کو یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر واقعی پرینکا نے چالیس فیصد خواتین میدان میں اتار دیئے تو انتخابی لڑائی کا رنگ ہی بدل جائے گا۔

پرینکا کے اعلانات سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انھیں سیاست کی کافی سمجھ ہے اور وہ سیاسی ہوا کا رخ پھیرنا جانتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ وہ جس طرح محنت کر رہی ہیں اور خاص طور پر خواتین کے ساتھ مل بیٹھتی ہیں ان کی یہ ادا ان کی دادی کی یاد دلا دیتی ہے۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی بھی اپنے دوروں کے دوران عوام سے ملتی تھیں اور ان کے دکھ درد کے بارے میں بات کرتی تھیں۔ ان کی بہت سی خصوصیات پرینکا گاندھی میں نظر آرہی ہیں۔ یہ بات بیشتر مبصرین بھی کہہ رہے ہیں۔ وہ سیاسی مباحثوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ اندرا گاندھی نے اپنی انھی خوبیوں کی وجہ سے ایک طویل عرصے تک ملک پر حکومت کی تھی۔


بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ پرینکا گاندھی نے یو پی کے سیاسی ماحول کو کافی گرم کر دیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جوں جوں انتخابات قریب آئیں گے پرینکا گاندھی کی جانب سے مزید عوامی فلاح و بہبود کے اعلانات کیے جائیں گے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی طے ہے کہ ان کا ہر اعلان یوگی حکومت کے لیے گھبراہٹ اور تلملاہٹ کا سبب بنے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔