پرنب مکھرجی (2020-1935): دانشمند سیاستداں جو 'قسمت' سے نہیں بن پایا وزیر اعظم

میں نے خود ایک بار سیدھے ان سے پوچھا تھا "دادا، مجھے امید تھی کہ 2004 میں آپ وزیر اعظم بنیں گے، آخر کہاں گڑبڑ ہو گئی۔" انھوں نے مسکراتے ہوئے دیکھا، کندھوں کو جھٹکا اور صرف ایک لفظ بولا "قسمت۔"

تصویر Getty Images
تصویر Getty Images
user

ظفر آغا

"اوہ مائے فرینڈ، کہاں تھے تم..." جب میں ان سے عالیشان ساؤتھ بلاک کے ان کے دفتر میں ملنے گیا تھا، تو انھوں نے گرمجوشی سے میرا استقبال کیا تھا۔ وہ منموہن سنگھ حکومت میں نئے نئے وزیر دفاع بنے تھے۔ وہ بہت اچھے موڈ میں تھے اور انھیں اپنے کام میں مزہ بھی آ رہا تھا۔ اور اس سب کی چمک ان کے چہرے پر صاف نظر آ رہی تھی۔

میں پرنب دا (عام طور پر لوگ انھیں اسی نام سے پکارتے تھے) سے تب بھی ملا تھا جب 1989 میں تقریباً 5 سال کے 'سیاسی سنیاس' کے بعد ان کی کانگریس میں واپسی ہوئی تھی۔ 1985 میں وہ راجیو گاندھی کی نظروں سے اتر گئے تھے اور اسی لیے انھیں اپنی کابینہ کا حصہ بھی نہیں بنایا تھا۔ اگر سیاسی سرگوشیوں کی بات کریں تو کہا جاتا تھا کہ اندرا گاندھی کے قتل کے بعد انھوں نے کارگزار وزیر اعظم بننے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے عہدہ پر دعویٰ کیا تھا اور ان کے اس دعوے سے کئی کانگریسی لیڈر ناراض ہو گئے تھے۔


پرنب بابو 1982 میں ہندوستان کے وزیر مالیات اور راجیہ سبھا میں ایوان کے لیڈر تھے۔ اندرا گاندھی کے قتل کے وقت وہ ان عہدوں پر تھے۔ ایسے میں جب راجیو گاندھی نے انھیں اپنی کابینہ میں شامل نہیں کیا تو وہ اس اندیکھی کو برداشت نہیں کر پائے اور کانگریس چھوڑ کر اپنی الگ پارٹی بنا لی، لیکن یہ پارٹی کبھی کھڑی ہی نہیں ہو پائی۔ بالآخر 1989 میں ان کی کانگریس میں واپسی ہوئی اور اس کے بعد انھوں نے کبھی پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا۔

پرنب مکھرجی (2020-1935): دانشمند سیاستداں جو 'قسمت' سے نہیں بن پایا وزیر اعظم

ان کی سیاسی دانشمندی کو سب سے پہلے 70 کی دہائی میں مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سدھارتھ شنکر رے نے پہچانا۔ رے نے پرنب مکھرجی کو راجیہ سبھا بھیجا۔ راجیہ سبھا کا رکن بننے کے بعد پرنب مکھرجی کی نزدیکیاں اندرا گاندھی سے بڑھتی گئیں اور 1976 میں اندرا گاندھی نے انھیں اپنی حکومت میں وزیر مملکت بنایا۔


1980 میں جب اندرا گاندھی کی اقتدار میں واپسی ہوئی تو پھر سے حکومت کا حصہ بنے اور اس بار انھیں وزارت مالیات کی بڑی ذمہ داری دی گئی۔ یہی وہ وقت تھا جب پرنب دا نے اقتدار مینجمنٹ، کارپوریٹ اور سیاسی رشتوں کو بنانے-سمجھنے کا ہنر نہ صرف سیکھا بلکہ اس میں ماہر بھی ہو گئے۔ دھیرو بھائی امبانی سمیت بمبئی (آج کی ممبئی) کے بڑے کارپوریٹ نام ان کے دوستوں کی فہرست میں شامل ہوئے اور آخر تک رہے۔ ذکر تو یہ عام رہا کہ پرنب دا کو دہلی میں کارپوریٹ کا نمائندہ ہی مانا جانے لگا تھا۔

کانگریس پارٹی میں پرنب دا کو 'سنکٹ موچک' (مسئلہ کا حل نکالنے والا) کی شکل میں بھی پہچان ملی۔ 90 کی دہائی کے آغاز میں نرسمہا راؤ کو جب سیاسی ساتھیوں ارجن سنگھ اور شرد پوار سے چیلنج ملا تو پرنب دا نے مسئلہ کا حل نکالا۔ وزیر اعظم بننے کی اپنی خواہش کا مظاہرہ کر ہاتھ جلا چکے پرنب دا نے اقتدار میں خود کو نمبر دو پر مضبوطی سے قائم کر لیا۔ اور اس کام کو انھوں نے اتنی کامیابی سے کیا کہ کانگریس کا ہر وزیر اعظم ان کا قائل رہا۔ 2004 میں جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تو انھوں نے ہر مشکل گھڑی اور سیاسی فیصلوں کے لیے ہمیشہ پرنب دا کی طرف دیکھا۔ منموہن سنگھ حکومت کی دونوں مدت کار میں پرنب مکھرجی ہمیشہ 'سنکٹ موچک' کے طور پر سامنے آتے رہے۔ اور دلچسپ بات یہ رہی کہ کانگریس صدر اور یو پی اے چیئرپرسن سونیا گاندھی بھی پارٹی اور سیاسی مسائل پر ان کے ساتھ صلاح و مشورہ کرتی رہیں۔


کئی بار کچھ شرارتی رپورٹر پرنب دا کو چھیڑتے تھے کہ آپ کے وزیر مالیات رہتے تو منموہن سنگھ آر بی آئی گورنر تھے۔ لیکن پرنب دا ہمیشہ ان صحافتی گگلی کو اچھے سے کھیلتے اور کہتے "میری ہندی اچھی نہیں ہے نہ، اس لیے میں وزیر اعظم نہیں بن سکا۔" لیکن کیا وہ جو کہتے تھے اس کا وہی مطلب ہوتا تھا، کہنا مشکل ہے۔

پرنب مکھرجی (2020-1935): دانشمند سیاستداں جو 'قسمت' سے نہیں بن پایا وزیر اعظم

پرنب مکھرجی کے قریب رہنے والے بہت سے لوگ جانتے ہیں کہ جب منموہن سنگھ وزیر اعظم بنے تو وہ خود وزیر اعظم بننا چاہتے تھے۔ میں نے خود ایک بار سیدھے ان سے پوچھا تھا "دادا، مجھے امید تھی کہ 2004 میں آپ وزیر اعظم بنیں گے، آخر کہاں گڑبڑ ہو گئی۔" انھوں نے مسکراتے ہوئے دیکھا، کندھوں کو جھٹکا اور صرف ایک لفظ بولا "قسمت۔"


لیکن قسمت ان پر خوب مسکرائی۔ وہ ملک کے سب سے بڑے صدر جمہوریہ کے عہدہ پر 2012 میں فائز ہوئے۔ انھوں نے اس عہدہ کی ذمہ داری باوقار طریقے سے نبھائی۔ کیا کوئی تصور کر سکتا تھا کہ جو شخص 5 دہائی تک کانگریسی رہا، اسے نریندر مودی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت نے 2019 میں بھارت رتن سے نوازا۔

نریندر مودی اکثر پرنب دا سے متاثر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور عوامی طور پر مانتے رہے ہیں کہ انھیں پرنب مکھرجی کی صلاح سے ہمیشہ فائدہ ہوا۔ سبھی باشعور سیاستدانوں کی طرح پرنب مکھرجی بھی رِجھانے والے لیڈر رہے۔ پرنب مکھرجی نے صدر جمہوریہ عہدہ سے سبکدوش ہونے کے بعد جب آر ایس ایس کے دفتر جانا منظور کیا تو کئی لوگوں نے آنکھیں دکھائی، لیکن نریندر مودی نے ان کی کھل کر تعریف کی۔ انھوں نے آر ایس ایس کے دفتر میں تقریر کی، جس سے کئی کانگریسی اور ان کے لبرل دوستوں کو جھٹکا بھی لگا تھا۔


پرنب دا نے تقریباً پانچ دہائی تک ملک کی خدمت کی اور حکومت کے تقریباً ہر اہم محکمے میں ان کا کبھی وزیر کے طور پر تو کبھی صدر کے طور پر دخل رہا۔ صدر جمہوریہ کے طور پر انھوں نے سنٹرل یونیورسٹیوں کو لے کر کافی سرگرمی دکھائی۔ انھیں یونیورسٹیز کے وائس چانسلروں کے ساتھ بات کرنے میں مزہ آتا تھا۔ وہ کئی بار طویل ورکشاپ کے لیے ملک بھر کے وائس چانسلروں کو راشٹرپتی بھون بلاتے رہے۔ انھوں نے راشٹرپتی بھون کے ایک حصہ کو میوزیم میں تبدیل کیا اور اسے عام لوگوں کے لیے کھولا۔

حالانکہ وہ اصولوں پر چلنے والے صدر جمہوریہ بننے کی کوشش کرتے رہے، لیکن مودی حکومت کو متنازعہ فیصلے لینے سے نہیں روک پائے۔ ان میں رافیل طیارہ کا معاہدہ بھی شامل ہے۔

آخر ایسا کیوں تھا، اس کا جواب شاید ان کی بایوگرافی کی تیسری قسط میں پڑھنے کو ملے گا جس کی انھوں نے وصیت کی تھی کہ ان کے جانے کے بعد ہی شائع کی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تیسری قسط میں یو پی حکومت اور ان کے راشٹرپتی بھون کے تجربات کے بارے میں جاننے کو ملے۔ بایوگرافی کی پہلی دو قسطیں تو بہت ہی سیاسی تول مول کے ساتھ لکھی گئی ہیں۔ دیکھنا ہوگا کہ تیسری قسط میں پرنب دا نے اپنی یادوں میں کیا لکھا ہے۔

الوداع پرنب دا... اوم شانتی... ہم سب آپ کی کمی محسوس کریں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 31 Aug 2020, 8:11 PM