پرینکا گاندِھی سے سیاسی انتقام مہنگا پڑے گا... سہیل انجم

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پرینکا گاندھی سے ان کا بنگلہ خالی کروانے کے پس پُشت دراصل حکومت کا انتقامی جذبہ ہے۔ خود کانگریس نے بھی اسے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

تصویر ٹوئٹر @brijdutt
تصویر ٹوئٹر @brijdutt
user

سہیل انجم

آج کل سوشل میڈیا پر ایک مذاق خوب وائرل ہو رہا ہے۔ وہ مذاق یوں ہے کہ نریندر مودی کو سرحد پر چین سے اپنی زمین خالی کرانی چاہیے تھی مگر انھوں نے پرینکا گاندھی سے ان کا بنگلہ خالی کرا لیا۔ ایک دوسرے میسیج میں اسے یوں لکھا گیا ہے کہ نریندر مودی کو چین کی زمین پر قبضہ کرنا چاہیے تھا مگر انھوں نے پرینکا گاندھی کے بنگلے پر قبضہ کر لیا۔ یہ مذاق اس وجہ سے چل رہا ہے کہ گزشتہ دنوں حکومت کی جانب سے پرینکا گاندھی کو یہ نوٹس ملا ہے کہ وہ یکم اگست سے قبل لوٹین زون کے لودھی اسٹیٹ میں واقع اپنا بنگلہ خالی کر دیں کیونکہ وہ اس کی حقدار نہیں ہیں۔ اگر مقررہ تاریخ تک انھوں نے بنگلہ خالی نہیں کیا تو ان سے کرایہ وصول کیا جائے گا اور جو نقصان ہوگا اس کی بھرپائی کرائی جائے گی۔ اس کے علاوہ ان سے تین لاکھ 26 ہزار روپے کی ادائیگی کے لیے بھی کہا گیا جو انھوں نے فوراً آن لائن ادا کر دیا۔

سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو اس سے قبل ایس پی جی یعنی اسپیشل پروٹکشن گروپ کی سیکورٹی حاصل تھی۔ یہ سیکورٹی اس خاندان کو سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قتل کے بعد دی گئی تھی۔ اس سے قبل وی پی سنگھ کی حکومت کی جانب سے ان کی سیکورٹی میں تخفیف کے بعد سری پیرومبدور میں ان کو ایک خود کش دہشت گردانہ حملے میں بہیمانہ انداز میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہی حکومت نے نہرو گاندھی خاندان کو، اس وجہ سے کہ ان کو سیکورٹی کے شدید خدشات لاحق ہیں، ایس پی جی سیکورٹی دی تھی۔ اس کے بعد سے ہی یہ سیکورٹی جاری تھی۔ لیکن موجودہ حکومت نے ایس پی جی قانون میں تبدیلی کی اور یہ کہا کہ صرف سابق وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو ہی ایس پی جی سیکورٹی حاصل رہے گی سب کو نہیں۔ پرینکا گاندھی چونکہ پارلیمنٹ کے کسی ایوان کی رکن نہیں ہیں اس لیے ان سے ایس پی جی قانون کے تحت ملنے والا بنگلہ واپس لے لیا گیا۔ یہ بنگلہ انھیں 1997 میں الاٹ کیا گیا تھا۔ حالانکہ مذکورہ قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری کو نو ماہ ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان سے بنگلہ کیوں نہیں خالی کرایا گیا اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے۔

کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ پرینکا گاندھی بی جے پی پر اور بالخصوص اترپردیش کی یوگی حکومت پر کھل کر تنقید کر رہی ہیں اور اس پر زوردار انداز میں حملہ کر رہی ہیں اس لیے ان سے انتقام لینے کے لیے یہ حکم صادر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پرینکا گاندھی کافی پہلے اس بنگلہ سے کہیں اور منتقل ہونا چاہتی تھیں لیکن سیکورٹی کی جانب سے کہا گیا کہ چونکہ ان کو کافی خطرات لاحق ہیں اور وہ جہاں منتقل ہونا چاہتی ہیں وہاں ایس پی جی سیکورٹی میں دشواریاں ہوں گی لہٰذا انھوں نے منتقل ہونے کا فیصلہ رد کر دیا تھا۔ مگر اب وہ کہیں اور منتقل ہونے کے لیے آزاد ہیں۔

کانگریس کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرینکا گاندھی لکھنؤ منتقل ہو رہی ہیں اور وہ اس شہر کو اپنا بیس کیمپ بنانا چاہتی ہیں۔ انھوں نے وہاں اپنی نانی اندرا گاندھی کی رشتے دار شیلا کول کا مکان دیکھ لیا ہے اور اسے انھوں نے پسند بھی کر لیا ہے۔ وہ وہیں سے پارٹی کی سرگرمیاں انجام دیں گی۔ اس مکان کی چھ ماہ قبل ہی مرمت ہو چکی ہے اور اسے اب ان کے معیار کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔ وہاں وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ میٹنگس کیا کریں گی۔

پہلے ہی ایسی خبریں آرہی تھیں کہ پرینکا گاندھی نے بہت پہلے ہی لکھنؤ کو اپنا بیس کیمپ بنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ نوٹس ملنے کے بعد یہ سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ اب اس کی تصدیق اتر پردیش کانگریس کے ترجمان للن کمار نے کر دی ہے۔ اگر ان کو بنگلہ خالی کرنے کا نوٹس نہیں ملتا جب بھی وہ وہاں منتقل ہونے والی تھیں۔ وہ چھ ماہ قبل ہی وہاں جانا چاہتی تھیں۔ لیکن لاک ڈاون کی وجہ سے اور پھر اپنی بیٹی مرایا کے بورڈ کے امتحان کی وجہ سے ان کو اپنا پروگرام ملتوی کر دینا پڑا تھا۔

پرینکا گاندھی کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اترپردیش کی انچارج ہیں۔ کانگریس کے بعض حلقوں کی جانب سے یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ ان کا نام یو پی کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر پیش کر دیا جائے۔ پارلیمانی انتخابات سے قبل جب اس وقت کے کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے انھیں جنرل سکریٹری اور یو پی کا انچارج بنایا تھا تو اسی وقت سے وہ ریاست میں سرگرم ہیں۔ دسمبر 2019 میں سی اے اے مخالف احتجاج کے دوران لکھنؤ پولیس کے ساتھ ان کا ٹکراؤ ہوا تھا۔ انھوں نے الزام عاید کیا تھا کہ پولیس نے ان کو دھکا دیا اور وہ گرتے گرتے بچیں۔ وہ اس وقت احتجاج کی وجہ سے گرفتار ایک سابق آئی پی ایس افسر ایس آر داراپوری کے گھر ملنے جا رہی تھیں۔

اس کے بعد سے لے کر اب تک وہ یوگی حکومت پر حملہ کرتی آئی ہیں۔ وہ لاک ڈاون کے دوران مہاجر مزدوروں کے معاملے پر، ٹیچر گھوٹالہ کے معاملے پر اور بے روزگاری کے معاملے پر یوگی حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ مہاجر مزدوروں کو ان کے گھروں تک پہنچانے کے لیے انھوں نے دس ہزار بسوں کے انتظام کا اعلان کیا تھا جسے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ناکام بنانے کی کوشش کی تھی اور اس معاملے پر دونوں میں براہ راست ٹکراؤ ہوا تھا۔ یوگی آدتیہ ناتھ نہیں چاہتے تھے کہ پرینکا گاندھی مزدوروں کے لیے بسوں کا انتظام کریں اس لیے ان کی جانب سے عجیب و غریب قسم کی شرائط عاید کی گئی تھیں۔

گزشتہ دنوں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی بھی ان کے نشانے پر آئیں۔ مایاوتی نے ہندوستان چین تنازعے پر ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں بی جے پی کے ساتھ کھڑی ہیں۔ اس پر پرینکا گاندھی نے کہا تھا کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو بی جے پی کے غیر اعلانیہ ترجمان ہیں۔ خیال رہے کہ راہل گاندھی ہند چین معاملے پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف تقریباً روزانہ بیانات دے رہے ہیں۔

بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پرینکا گاندھی سے ان کا بنگلہ خالی کروانے کے پس پشت دراصل حکومت کا انتقامی جذبہ ہے۔ خود کانگریس نے بھی اسے انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔ دراصل موجودہ حکومت اپنے خلاف ایک بھی بیان بازی برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جو بھی حکومت کے خلاف یا اس کی پالیسیوں اور فیصلوں کے خلاف بولتا ہے تو اس کے خلاف فوراً کارروائی کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے خلاف اسی وجہ سے کارروائی کی جا رہی ہے کہ وہ حکومت کے متعدد فیصلوں کے خلاف بولتے رہتے ہیں۔

لہٰذا یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ چونکہ پرینکا گاندھی یوگی حکومت کے خلاف کھل کر بول رہی ہیں بلکہ اس پر حملہ آور ہیں اس لیے ان سے سیاسی انتقام لیا جا رہا ہے۔ بہرحال اب جبکہ پرینکا گاندھی لکھنؤ منتقل ہو رہی ہیں تو قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ یوگی حکومت سے ان کی براہ راست ٹکر ہوگی اور یہ ٹکر یوگی حکومت اور بی جے پی دونوں کو بھاری پڑے گی۔ گویا حکومت نے پرینکا سے بنگلہ چھین کر اپنے لیے دشواری مول لے لی ہے اور یہ کارروائی بی جے پی کے لیے بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔

Published: 5 Jul 2020, 7:11 PM
next