ایک نظریاتی مملکت بننے کی راہ پر ہندوستان... م۔ افضل

رپورٹ کے مطابق آمریت کے لئے سب سے پہلے میڈیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور تعلیم وتدریس سے وابستہ لوگوں پر نکیل کسی جاتی ہے، اسی کے ساتھ پولرائزیشن میں اضافہ اور مخالفین کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

م. افضل

کیا دنیا کی ایک عظیم اور بڑی جمہوریت اب ایک نظریاتی مملکت میں تبدیل ہوتی جارہی ہے اور کیا جمہوریت یہاں اب آخری سانسیں لے رہی ہے؟ یہ دو سوال نہ صرف اہم ہیں بلکہ تمام جمہوریت پسندوں سے جواب بھی طلب کر رہے ہیں، ایک بڑا سوال یہ بھی پوری شدت کے ساتھ اب اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ کیا آزادی کے بعد ہمارے رہنماؤں نے آئین کے جن اصولوں پر جمہوریت کی ایک عظیم عمارت کی بنیاد رکھی تھی وہ اتنے کمزور تھے کہ محض 6 سال کے اندر ہی وہ کھوکھلے ہوگئے؟ اس سے پہلے کسی نے اس پر غور نہیں کیا اور شاید اس سے پہلے اس کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی گئی، لیکن کہیں نہ کہیں کوئی کج یا خامی تو ضرور ہے جو نوبت اب یہاں تک آن پہنچی ہے کہ اپنوں کو تو چھوڑیئے اب غیر بھی برملا کہنے لگے ہیں کہ ہندوستان میں جمہوریت ختم ہوچکی ہے اور اب وہاں ایک منتخب مطلق العنانیت کا دور شروع ہو چکا ہے۔

ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا جب ایک امریکی ادارہ فریڈم ہاؤس نے ہندوستان کو جزوی طور پر آزاد ملک قرار دیا تھا، مگر اب سوئڈن کے ایک معروف ادارہ وی ڈیم (ورائیٹیز آف ڈیموکریسی) انسٹی ٹیوٹ نے ہندوستان کی جمہوریت کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہارکرتے ہوئے اس کو منتخب مطلق العنان ملک کے زمرہ میں رکھ دیا ہے، وی ڈیم انسٹی ٹیوٹ کی ڈیموکریسی رپورٹ 2021 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں ایک منتخب شدہ آمریت ابھر رہی ہے، اور سنسرشپ کے معاملہ میں وہ پاکستان کی صف میں آگیا ہے اور اس کی حالت نیپال اور بنگلہ دیش سے بھی بدتر ہے۔


قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ رپورٹ سوئڈن کے نائب وزیراعظم کی موجودگی میں جاری ہوئی ہے، جس میں تجزیاتی طور پر کہا گیا ہے کہ پچھلے دس سال میں ہندوستان میں میڈیا، تعلیمی دنیا اور سول سوسائٹی کی آزادی میں کمی کی گئی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ مودی حکومت ناقدین کو خاموش کرنے کے لئے غداری، ہتک عزت اور انسداد دہشت گردی کے قوانین استعمال کرتی ہے، اور اس حکومت کے آنے کے بعد سے تقریباً سات ہزار افراد پر غداری کا الزام عائد کیا گیا ہے جن میں سے بیشتر وہ ہیں جنہوں نے حکومت کی تنقید کی تھی۔

رپورٹ میں یہ بھی مذکور ہے کہ غیر قانونی سرگرمی انسداد قانون یو اے پی اے کو سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے، دھمکانے اور انہیں خاموش کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، یہاں تک کہ شہریت ترمیمی قانون کی مخالفت کرنے والے یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء پر بھی اس قانون کا استعمال کیا گیا، رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندتوا نواز تنظیموں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دے دی گئی ہے جس کے نتیجہ میں ہندوستان جو کسی زمانہ میں دنیا کا سب سے بڑاجمہوری ملک تھا ایک منتخب آمریت میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔


رپورٹ میں اعدادوشمار کا تجزیہ کرتے ہوئے اس بات کی وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی ملک میں آمریت کا آغاز کیسے ہوتا ہے، رپورٹ کے مطابق آمریت کے لئے سب سے پہلے میڈیا کو کنٹرول کیا جاتا ہے اور تعلیم وتدریس سے وابستہ لوگوں پر نکیل کسی جاتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ پولرائزیشن میں اضافہ کے لئے سیاسی مخالفین کے ساتھ نارواسلوک کیا جاتا ہے اور سرکاری ذرائع کا استعمال کرکے پروپیگنڈہ کیا جاتاہے، ان سب کے بعد جمہوریت انتخابات اورحکومتی اداروں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔

وی ڈیم کی اس رپورٹ میں جو کچھ کہا یا بتایا گیا ہے ہم اپنی آنکھوں سے اس کا ہر روز مشاہدہ کر رہے ہیں محض چھ برس کی قلیل مدت میں انتہائی منظم طریقہ سے تمام تر وسائل و ذرائع بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اقتدار کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ملک کو وہاں پہنچادیا گیا ہے جہاں سے آمریت کی سرحد کا آغاز ہوتا ہے، اس سے زیادہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ آئین اور قانون کی قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں، جمہوریت کی شان میں قصیدہ بھی پڑھے جاتے ہیں اور مہاتماگاندھی کے عدم تشدد کے فلسفہ کا ذکر بھی پوری شدت سے کیا جاتا ہے۔


کسی بھی جمہوری ملک کی بنیاد تین ستون پر ہوتی ہے، قانون سازیہ، مقننہ اورعدلیہ، صحافت کو بھی جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، المیہ یہ ہے کہ حالیہ کچھ برسوں کے دوران ان تمام بنیادوں کو پوری طرح کمزور کر دیا گیا ہے، جمہوریت میں اپوزیشن پارٹیوں کا کردار بہت اہم ہوتاہے ایوان میں ان کی بات سنی جاتی ہے لیکن مودی سرکار اکثریت کے ساتھ کیا اقتدار میں آئی سارا منظرنامہ ہی بدل کر رکھ دیا، اکثریت کے زعم میں اپوزیشن کی تشویش اور تنقید کو نظرانداز کرکے قانون لائے جاتے ہیں اورانہیں عوام پر جبراً تھوپا بھی جا رہا ہے، حکومت کے جو ادارے ہیں وہ اپنے فرض کی ادائیگی میں ناکام رہے ہیں۔

یہاں تک کہ جو آئینی حیثیت والے ادارے ہیں اور جن کو اپنے معاملات میں خود مختاری حاصل ہے اب وہ بھی پوری طرح حکومت کے کنٹرول میں ہیں، ڈر اور خوف کے ساتھ ساتھ انتقام کی سیاست کا نتیجہ یہ ہے کہ اب عدلیہ بھی خود پر غیر ضروری دباؤ محسوس کر رہی ہے بلکہ بہت سے لوگ تو یہ بھی کہنے لگے ہیں کہ اب حکومت کو خوش کرنے والے فیصلہ ہونے لگے ہیں، اب رہ گیا جمہوریت کا چوتھا ستون صحافت تو اب اس کا کوئی وجود نہیں رہ گیا ہے، پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا کی اکثریت حکومت کی ہمنوائی میں مصروف ہے اور جو چند لوگ غیر جانبدارانہ صحافت کا فرض ادا کر رہے ہیں انہیں بھی طرح طرح سے خوف زدہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے، اس کے نتیجہ میں حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔


فرقہ پرست تنظیموں کو کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے، مذہبی شدت پسندی کو پورے زور شور سے بڑھاوا دیا جا رہا ہے، ہرطرف جھوٹ کا بازارگرم ہے ایسے میں اگر کہیں سے کچھ سچ کی آوازیں ابھرتی بھی ہیں تو انہیں خاموش کرنے کے لئے ایک پوری فوج آئی ٹی سیل کی میدان میں آجاتی ہے، اور اگر وہ تب بھی خاموش نہیں ہوتے تو ان کے گھروں اور دفتروں پر سی بی آئی اور ای ڈی کے حکام کو بھیج دیا جاتاہے۔

یہ سب کچھ تب ہو رہا ہے جب یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ عوام نے انہیں بہتر حکمرانی کے لئے جمہوری طریقہ سے منتخب کیا ہے، اب آزادی کے 75 سال مکمل ہونے پر حکومتی سطح پر جشن منایا جا رہا ہے، مہاتماگاندھی کے ڈانڈی مارچ کو یاد کرتے ہوئے اس جشن کا آغاز احمدآباد کے سابرمتی آشرم سے ہوا اس سے پہلے ان لوگوں کو پٹیل عزیز تھے اب انہیں چھوڑکر انہوں نے گاندھی کو اپنالیا ہے، 12 مارچ کو آزادی کے اس جشن کا افتاح کرتے ہوئے ہمارے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں جو کچھ کہا اور ملک کی جدوجہد آزادی کے حوالہ سے جن لوگوں کا حوالہ دیا وہ یہ ظاہر کر دیتا ہے کہ ان لوگوں کے عزائم اورمقاصد کیا ہیں۔


اب گاندھی کے نام سے ہندوتوا کی تبلیغ شروع ہوگئی ہے، مایوس کن بات یہ ہے کہ اس کے خلاف ملک میں جس طرح کی آواز اٹھنی چاہیے نہیں اٹھ رہی ہے، رہ رہ کر ایک راہل گاندھی کی آواز ہے جو گونجتی رہتی ہے، وی ڈیم نے اب جو کچھ اپنی رپورٹ میں کہا ہے اس کی پیش گوئی راہل گاندھی بہت پہلے سے کرتے آئے ہیں۔ یہ تو ابھی ابتدا ہے اور اگر سیاسی سطح پر خود کو سیکولر کہنے والی دوسری پارٹیوں کے قائدین کی خاموشی نہیں ٹوٹی تو آنے والے دنوں میں یہ ملک آمریت کی کس سطح پر ہوگا کہا نہیں جاسکتا اور تب شاید ان پارٹیوں کا وجود بھی برقرار نہیں رہ سکے گا۔

کچھ لوگ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کے خلاف ہیں اور ان کی سرگرمیوں سے ان کا کوئی نقصان نہیں ہونے والا وہ نوشتہ دیوار کو پڑھنا نہیں چاہتے آرایس ایس کا جو منشور اور ایجنڈا ہے وہ بہت خطرناک ہے، یہ ملک کی اقلیتوں کے ساتھ ساتھ دلتوں اور پسماندہ طبقات کے بھی خلاف ہے، آرایس ایس دلتوں اور پسماندہ طبقات کی سیاسی اور سماجی بالادستی کے شروع ہی سے خلاف ہے اور یہ جو کچھ اب ہو رہا ہے۔


یہ آرایس ایس کی منشا اورمرضی کے عین مطابق ہے اور اسی لئے جمہوریت کو ختم کرکے آمریت کو مضبوط کیا جا رہا ہے آر ایس ایس کی سوچ کے مطابق ملک کو پہلے ہی پولیس اسٹیٹ میں بدلا جا چکا ہے اور اگر خود کو سیکولر اور جمہوریت نواز کہنے والے لوگ خواب غفلت سے بیدار نہ ہوئے تو وہ دن دور نہیں جب یہ ملک ایک ایسی نظریاتی ملکیت میں تبدیل ہوجائے گا جس میں اقلیتوں کے ساتھ ساتھ پسماندہ طبقات اور دلتوں کے لئے بھی جگہ نہیں رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔