بی جے پی کے پرانے وعدے ہوا ہوئے، نئے وعدوں میں دم نہیں

بی جے پی نے بھی اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے لیکن اسے منشور کا نام دینے کی بجائے ’سنکلپ پتر‘ یعنی عہد نامہ کہا گیا ہے۔ اس عہد نامہ میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں ’قوم پرستی ‘کا اِشوسرِ فہرست ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

م. افضل

ابھی نتائج آنے میں دیر ہے لیکن عوام کو یقین اور اعتماد دلانے کے محاذ پر، بی جے پی جہاں ناکام رہی وہیں کانگریس کامیاب نظر آتی ہے۔ کانگریس نے سب سے پہلے اپنا انتخابی منشور جاری کیا جو سیاسی صحافتی اورسماجی حلقوں میں اب تک موضوعِ بحث ہے۔ اس کو پڑھ کر کانگریس مخالف لوگ بھی یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہیں کہ اس بار کانگریس کا جو انتخابی منشور جاری ہوا، وہ بہت سوچ سمجھ کر اور طویل غور وخوض کے بعد تیار ہوا ہے۔ ملک وقوم کی تعمیر وترقی کے حوالہ سے، ایسا کوئی بھی شعبہ نہیں ہے جس کا ذکر منشور میں نہ ہوا ہو اور جس پر کوئی تسلی بخش بات نہ کہی گئی ہو۔ روزگار کا شعبہ ہو یا زراعت کا، کسانوں کی ابتر حالت ہو یاملک کی گرتی ہوئی معیشت، شہریوں کی بہتر زندگی کا معاملہ ہو یا غریبوں کے معیار زندگی کو اوپر اٹھانے کی بات۔ اس منشور میں سب کچھ موجود ہے اور اس تعلق سے کانگریس کے عزم کا اظہار بھی۔

پچھلے دنوں، بی جے پی نے بھی اپنا انتخابی منشور جاری کر دیا ہے لیکن اسے منشور کا نام دینے کی بجائے ’سنکلپ پتر‘ یعنی عہد نامہ کہا گیا ہے۔ اس عہد نامہ میں جو کچھ کہا گیا ہے اس میں ’قوم پرستی ‘کا اِیشوسرِ فہرست ہے۔ درحقیقت پچھلے چند مہینوں کے دوران ’قوم پرستی‘ کی آڑ میں جو کچھ ہوا، اس کا مقصد جہاں ایک طرف لوگوں کو ’قوم پرستی‘ کے نام پر گمراہ کرنا تھا، وہیں دوسری طرف قوم پرستی کے شور میں، سرکار کی ناکامیوں پر پردہ ڈالنا، اور ان سوالوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانا تھا جو ان ناکامیوں کو لے کر وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں سے پوچھے جا رہے تھے۔ اس سنکلپ پتر میں متنازعہ ایشوز کو لے کر جہاں کھلے لفظوں میں بات کہی گئی ہے وہیں 2019 کے ان اہم وعدوں سے دانستہ انحراف کیا گیا ہے جن کی بنیاد پر لوگوں نے بی جے پی کو ووٹ دیا تھا۔ چنانچہ اس میں اس بار نہ تو 15لاکھ دینے کا کوئی وعدہ ہے اور نہ غیر ممالک سے کالادھن لانے کا عہد نہ تو نوجوانوں کو روزگار دینے کی بات کہی گئی ہے اور نہ ہی ملک کی ابتر معاشی حالت کا ہی کوئی ذکر ہے۔

عام طورپر اب تک یہی ہوتا رہا ہے کہ الیکشن کے موقع پر جہاں اپوزیشن پارٹیاں اپنے منشور میں اپنے عزائم اور منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں وہیں برسراقتدار جماعت، مستقبل کے منصوبوں سے آگہی فراہم کرتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ اپنے دورِ حکومت میں اس نے کیا کچھ کیا، مگر بی جے پی کے اس ’سنکلپ پتر‘ میں پرانے دنوں کا کوئی حوالہ تک موجود نہیں ہے۔ یہ بتانے کی بھی زحمت نہیں کی گئی کہ مودی جی کے تابڑ توڑ غیر ملکی دوروں سے ملک کو کیا حاصل ہوا، کتنی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی اور راست سرمایہ کاری کی اجازت دینے سے ملک کی معیشت کا کتنا بھلا ہوا۔ یہ سب نہیں تو کم ازکم بی جے پی کے لوگوں کو یہ تو ضرور بتانا چاہیے تھا کہ عوام سے انہوں نے جو دلکش دعوے کیے تھے، ان کا کیا ہوا؟ مگر اس ’عہد نامہ‘ میں کچھ بھی موجود نہیں ہے بلکہ ان وعدوں کا کوئی ذکر تک موجود نہیں ہے۔ قارئین جانتے ہوں گے 2014 کے الیکشن میں ’اچھے دن‘ لانے کا وعدہ کتنا مؤثر وعدہ تھا، بلکہ انتخابی مہم میں تو اس وعدے نے ایک نعرے کی شکل اختیار کرلی تھی مگر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس بار کے سنکلپ پتر میں ’’اچھے دن‘‘ کا حوالہ تک نہیں ہے۔ ویسے مودی جی کی اگر تقریر سنیں، ان کے وزراء کے بیانات دیکھیں یا پارٹی کے دوسرے لیڈروں کی باتیں سنیں، سب ایک زبان ہوکر کہتے رہے ہیں کہ ’اچھے دن‘ آگئے۔ اگر ان لوگوں کے بقول ’اچھے دن‘ آگئے تو اس کا حوالہ سنکلپ پتر میں کیوں نہیں ہے؟

اس ’سنکلپ پتر‘ کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو صاف پتہ چلتا ہے کہ کچھ نئے وعدوں اور ارادوں کے ساتھ بہت خوبصورتی سے ’پرانے وعدوں‘ کو فراموش کردینے کی کوشش ہوئی ہے کیونکہ اگر ان پرانے وعدوں کے تعلق سے اس میں کچھ کہا جاتا تو سوال ہوسکتے تھے اور وزیراعظم سے پوچھا جاسکتا تھا کہ سنکلپ پتر میں کیے گئے دعوؤں کی سچائی کیا ہے اس لئے بہت شاطرانہ انداز میں پرانے وعدوں سے درگزر کرتے ہوئے ’قوم پرستی‘ سے بات شروع کی گئی ہے، جی ہاں! یہ وہی قوم پرستی جس کا اظہار سرحدوں اور دشمن ملکوں کی بجائے سڑکوں پر ہوتا ہے۔ قوم پرستی کا یہ نظریہ آر ایس ایس کی دین ہے اور اس کی بنیاد پر ہی وہ ’ہندوراشٹر‘ کا قلعہ تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے ’ہندتوا‘ سے جوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ ’سنکلپ پتر‘ میں اسے اولیت حاصل ہے اور کہا گیا ہے کہ بی جے پی ’قوم پرستی‘ کو لے کر کوئی سمجھوتے نہیں کرے گی اور اس جذبہ کو فروغ دے گی۔ دہشت گردی کے تعلق سے زیروٹالریشن پالیسی اپنائی جائے گی۔ دفعہ 370 اور 35اے کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا گیا ہے۔ خواتین کے تحفظ کی بات بھی کہی گئی ہے اور اس ضمن میں طلاق ثلاثہ کو بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ اس کے خاتمہ کے لئے بی جے پی قانون سازی کرے گی۔

پچھلے پانچ سال کے دوران ان کی قوم پرستی کا بدترین مظاہرہ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ کشمیر سے دفعہ 370 کو ختم کرنے کی جہاں تک بات ہے، یہ صرف ایک چھلاوہ ہے کیونکہ اسے ختم کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ الحاق کی جہاں شہ رگ ہے وہیں اس کو ختم کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے تجویز کا منظور ہونا ضروری ہے بعد ازاں جموں وکشمیر اسمبلی سے منظوری حاصل کرنا بھی ضروری ہے جوکہ تقریباً ناممکن ہے۔ بی جے پی اس بات کو جانتی ہے اور اگر وہ اسے ختم کرنے کی مسلسل گردان کر رہی ہے تو اس کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ اس کے ذریعہ لوگوں اور خاص طور پر نوجوانوں کے ذہنوں میں ’قوم پرستی‘ کا جنون بھرا جائے۔ اسی لئے طلاق ثلاثہ کا راگ بھی الاپا جارہا ہے۔ اوپر آگیا ہے کہ اس طرح کے غیر ضروری دعوؤں اور ارادوں کے ذریعہ بی جے پی ہمیشہ کی طرح اس بار بھی فرقہ وارانہ صف بندی قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اس لئے تمام تر مخالفت کے باوجود ’شہریت ترمیمی بل‘ کو نافذ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دوسری طرف کانگریس نے اپنے منشور میں سیدھے سیدھے اور آسان لفظوں میں اپنے مستقبل کے منصوبوں اور پالیسیوں کو ایک آئینہ کی صورت پیش کر دیا ہے۔ بی جے پی کے ’سنکلپ پتر‘ کے طور پر جہاں مودی جی کی مسکراتی ہوئی تصویر موجود ہے وہیں کانگریس کے منشور کے ٹائٹل پر جلی حروف میں ’ہم نبھائیں گے‘ درج ہے۔ اس مختصر مگر پر اثر جملہ کے ذریعہ عوام کو باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ منشور میں جو کچھ کہا جارہا ہے یہ کوئی ہوا ہوائی وعدے نہیں ہیں بلکہ کانگریس انہیں اقتدار میں آنے پر پورا کرے گی۔ اسی طرح منشور میں ’’غریبی پروار 72ہزار‘‘ جیسا دلکش نعرہ بھی موجود ہے جس میں ملک کے20 فیصد غریب خاندانوں کو 6 ہزار روپے ماہ مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری اداروں میں 22 لاکھ خالی عہدوں کو پُر کرنے کی جہاں بات کہی گئی ہے وہیں بجٹ کا 6 فیصد حصہ تعلیم پر خرچ کرنے کا اہم وعدہ بھی ہے۔ تعلیمی لون پر سود نہیں لینے کا وعدہ بھی کیا گیا ہے۔

اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ انتخابی منشور کے ذریعہ اپنے پروگراموں اور منصوبوں کا اعلان کرکے کانگریس بی جے پی کو شکست دے چکی ہے دوسرے جس طرح پہلے اسے جاری کیا گیا، اس سے بی جے پی حواس باختہ ہوگئی کیونکہ اس کے بعد اس کے پاس نیا کچھ کہنے کو بچا ہی نہیں۔ چنانچہ اسے دفاعی حالت میں آنا پڑا اور منشور کی جگہ ’سنکلپ پتر‘ لانے پر مجبور ہونا پڑا۔ کانگریس ’اب انصاف ہوگا‘ نعرہ کے ساتھ تشہیر کے میدان میں اترچکی ہے اور جس طرح راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کی ریلیاں کامیاب ہو رہی ہیں وہ اس بات کا اشارہ ہے کہ پارٹی کا انتخابی منشور لوگوں کی سمجھ میں آچکا ہے اور لوگوں میں یہ یقین بھی پختہ ہو گیا ہے کہ اقتدار میں آنے پر کانگریس واقعی انصاف کرے گی۔ حال ہی میں ایسوسی ایشن فارڈیموکریٹک ریفارمس نے ایک سروے کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اس بار ووٹر مودی سرکار کے کام کاج سے ناخوش ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران اس کا نظارہ بھی دکھائی دے رہا ہے، مودی کی ریلیوں کے لئے جہاں پیسے پر بھیڑ جمع کرنے کی کوشش کی جارہی ہیں وہیں راہل اور پرینکا کی ریلیوں میں ایک عوامی سیلاب نظر آتا ہے۔ سچ ہے کہ یہ جو پبلک ہے سب کچھ جان چکی ہے اس پر مودی اور بی جے پی کی اصلیت کھل چکی ہے!