ندائے حق: اب برطانیہ آزاد ہے!... اسد مرزا

یوروپی یونین میں شمولیت اور علیحدگی، دونوں مہم کی داغ بیل کنزرویٹیو پارٹی نے ڈالی تھی۔

بریگزٹ / آئی اے این ایس
بریگزٹ / آئی اے این ایس
user

اسد مرزا

گزشتہ چار سال 27 ہفتے اور 2 دن تک چلنے والے بریگزٹ کا عمل انتہائی نازک اور پیچیدہ گفت و شنید کے بعد بالآخر اپنے اختتام کو پہنچا۔ تاریخی طور پر اس عمل کا اختتام 31 دسمبر 2020ء کی رات سے کیا گیا۔ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ بریگزٹ کی مہم جس کی وجہ سے دو برطانوی وزرائے اعظم کو اپنے عہدے چھوڑنے پڑے، جھوٹ اور دھوکہ دہی پر مبنی تھی جس کے دوران عوام کو گمراہ کیا گیا اور غلط و اشتعال انگیز معلومات فراہم کی گئیں جس کا نتیجہ چند سیاست دانوں کے حق میں مثبت ثابت ہوا۔ جیسے کہ بورس جانسن نمبر 10 پر قابض ہونے میں کامیاب ہوئے۔ نئے سال کے اپنے پیام میں برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے بڑی حد تک بریگزٹ کو نظرانداز کیا۔ یہ وہ مسئلہ تھا جس نے ان کے سیاسی کیریر کو دوسروں سے کہیں زیادہ بہتر شکل اور ثمر دیئے۔ بجائے اس کے انہوں نے کووڈ-19 کی صورتحال پر اپنی توجہ مرکوز کی، جسے انہوں نے 2020 ء کا المیہ قرار دیا۔

2019 کے اپنے پیام میں بورس جانسن نے جب حالیہ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ آنے والا سال برطانیہ کے لئے ایک شاندار سال اور ایک یادگار دہائی ہوگا۔ انہوں نے اس لمحہ کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانیہ کے سامنے تجارت اور اختراع کے وسیع تر امکانات موجود ہیں اور ان کا ملک اب دنیا کے ساتھ تجارتی معاہدات کرنے میں آزاد ہے۔ ساتھ ہی وہ سائنس میں سپرپاور بننے کے اپنے ارادوں کو عملی شکل دینے کے لئے بھی آزاد ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہماری آزادی ہمارے ہاتھوں میں ہے اور یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کس طرح حاصل کریں۔

سیاسی ردعمل

برطانیہ اور یوروپی یونین میں سیاست دانوں نے برطانیہ کے اخراج کی مدت، جو کہ نئے سال کے موقع پر عمل میں آئی، ملا جلا ردعمل ظاہر کیا۔ اگرچہ کئی قدامت پسند قائدین اور سیاست دانوں نے جیسے نائجل فراج نے اپنے پیامات میں اس کی ستائش کی۔ تاہم فرانس کے صدر ایمانویل میکرون نے اپنے نئے سال کے پیام میں افسوس کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ ہنوز ہمارا پڑوسی ہے ساتھ ہی ہمارا دوست اور اتحادی بھی ہے۔ یوروپ چھوڑنے کی ان کی خواہش دیگر جھوٹ اور فریب پر مبنی وعدوں کی بدولت ہے۔ اسکاٹ لینڈ جس نے 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم میں بریگزٹ کے خلاف رہنے کے لئے سخت ووٹ دیا تھا۔ وہاں کی فرسٹ منسٹر نکولااسٹرگن نے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کی مہم جاری رکھنے کا یقین دلایا ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ اسکاٹ لینڈ بہت جلد یورپ میں واپس آجائے گا۔ ان کے اس بیان پر بورس جانسن نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ کے باشندے خواب دیکھنا جاری رکھ سکتے ہیں، جو کہ ہماری حیات میں شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپائے گا۔

نائجل فراج نے جنہوں نے 2016 کے ریفرنڈم میں اہم کردار ادا کیا تھا، ٹوئٹ کیا کہ ’’25 سال پہلے سب مجھ پر ہنستے تھے۔ اب وہ نہیں ہنس رہے ہیں۔‘‘ برطانیہ کے بریگزٹ مذاکرات کے سربراہ لارڈ فراسٹ نے کہا کہ برطانیہ کا مستقبل بہت تابناک ہے اور ہم سب کے لئے معاشی طور پر بہتر ملک تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ کنزرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ بل کیش نے جنہوں نے کئی دہوں تک بریگزٹ کے لئے مہم چلائی تھی کہا کہ یہ جمہوریت اور سالمیت کی فتح ہے۔

یوروپی آراء

کئی یوروپی مبصرین نے اس بات پر توجہ دلانے کی کوشش کی کہ یوروپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کا کیا مطلب ہے؟ کئی مبصرین کا خیال ہے کہ اس مہم کے ذریعہ برطانیہ کے وقار کو مجروح کیا گیا جو کہ اس کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بریگزٹ کے بعد برطانیہ کے مستقبل پر غیریقینی کا اظہار بھی کیا ہے۔ اخبار ’دی گارجین‘ نے نیدرلینڈ کے ایک تھنک ٹینک کا حوالہ دیتے ہوئے خبر دی ہے کہ زیادہ تر مبصرین کی رائے تھی کہ ہمارے لئے برطانیہ ہمیشہ ہم خیال ملک رہا ہے۔ معاشی طور پر خوشحال، سیاسی طور پر مستحکم، قانون کا احترام کرنے والا اور ایک روشن مغربی آزاد جمہوریت تاہم گزشتہ 4 برسوں سے اس کی اس پہچان کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ بریگزٹ ایک جذباتی مہم تھی نہ کہ تعصب پسندی اور یہ واضح نہیں تھا کہ یہ کس طرح ختم ہوگی۔ جرمن انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ سیکورٹی افیرس کے نکولائی اون اونڈرزا نے رائے ظاہر کی ہے کہ برطانیہ کی بہترین عالمی امیج کو سنگین نقصان پہنچا ہے۔ فرانس میں رابرٹ شومین فاونڈیشن کے جیان ڈومینک گلیانی نے دی گارجین کو بتایا کہ کنٹرول واپس لینے کا نعرہ قوم پرست اور مقبولیت پسندی ہے جس میں ایک آزاد دنیا کی حقیقت کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ ہمارا اندیشہ ہے کہ اس عمل کے بعد ہمارا بحری پڑوسی مزید کمزور ہوجائے گا۔

جرمنی کے تاریخ دان ہیلینے اون بسمارک نے خدشہ ظاہر کیا کہ کیا بریگزٹ اکثریت پسندی کے برطانوی فطور کا خاتمہ کرسکتا ہے۔ برطانوی عسکریت پسندی ایک سیاسی کھیل ہے نہ کہ ایک نظریہ اور بریگزٹ کے ساتھ اس کی اہمیت ختم نہیں ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طریقہ کار میں دو کلیدی عناصر ہیں۔ ایک جذباتیت اور دوسرا پیچیدہ مسائل کو آسان بنانا جیسا کہ بریگزٹ، کووڈ وبا یا نقل مکانی اور اندرون و بیرون ملک میں موجود دشمنوں یا توہم پرستوں پر انحصار۔ اکثریت پسند ان دشمنوں پر انحصار کرتے ہیں چاہے وہ حقیقی ہوں یا تصوراتی تاکہ اپنے اقدامات کو حق بجانب قرار دے سکیں اور اپنی کمزوریوں کو چھپا سکیں۔ انہوں نے رائے ظاہر کی کہ اگر یوروپی یونین برطانیہ کا بیرونی دشمن تھا تو اس کی جگہ اب تیزی کے ساتھ اندرون ملک دشمن تلاش کیے جائیں گے اور عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان کے ذریعے دیگر سیاسی کھیل کھیلے جائیں گے۔

فرانس کے انسٹی ٹیوٹ جیکس ڈیلورس کے ایلویر فیئرے نے بتایا کہ گزشتہ 4 برسوں میں یہ دیکھنے میں آیا کہ یوروپینس اور برطانوی باشندے ایک دوسرے کو کتنا کم جانتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ اس عمل کے دوران یہ دیکھنے میں آیا کہ پارلیمانی نظام کو کس طرح ایک جماعت یا پارٹی اپنے حق میں استعمال کرسکتی ہے۔ ڈیراسپیگل میں نکولاس بلوم نے رائے ظاہر کی کہ بریگزٹ کے بارے میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے۔ یہ کبھی واقع نہیں ہوتا اگر کنزرویٹیو پارٹی کے سیاست دان اپنے حامیوں سے جھوٹ نہیں بولے ہوتے۔

ناقدین نے مزید خبردار کیا ہے کہ برطانیہ اور اس کے تاجروں اور شہریوں کو جس طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اس کا ابھی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ کیوں کہ ابھی تک ایک جامع معاہدے اور اس کی مختلف شقوں پر پر اتفاق رائے قائم نہیں ہو پائی ہے۔ علاوہ ازیں راستے الگ کرلینے سے برطانیہ کے لئے اندرون ملک بحران بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ شمالی آئرلینڈ جس کی سرحدیں یوروپی یونین کے رکن ممالک سے ملتی ہیں ہنوز معاشی طور پر ان ممالک سے قربت رکھتا ہے۔ خدشہ ہے کہ اس وجہ سے آئر لینڈ میں برطانیہ سے الگ ہونے کی خواہش جنم لے سکتی ہے۔ اسکاٹ لینڈ پہلے ہی آزادی کا مطالبہ کررہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو متحدہ برطانیہ تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا اور جس چیز کا وعدہ کیا گیا تھا وہ عمل میں نہیں آپائے گی۔ بلکہ عملی طور پر برطانیہ کا خاتمہ بھی ممکن ہوسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next