ندائے حق: 2021ء نئی طرزِ زندگی کا سفر... اسد مرزا

آج ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے زیادہ مختلف مسالک میں اتحاد کی ضرورت ہے اور ہمارے مذہبی قائدین کی جانب سے سرگرم عمل ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک جامع اور دور رس حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔

نیا سال 2021 / Getty Images
نیا سال 2021 / Getty Images
user

اسد مرزا

حالیہ تاریخ میں دنیا بھر میں کسی سال کے ختم ہونے کا اتنی بے چینی اور شدت سے انتظار نہیں کیا گیا ہوگا، جتنا کہ 2020 کا کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح حالیہ تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا جس کے اتنے دور رس اثرات مرتب ہوئے ہیں جیسا کہ حالیہ کورونا وائرس کے اثرات، دنیا اور اس کی بیشتر ملکوں پر پڑے ہیں۔ سال 2020 کافی صبرآزما رہا، جس نے کئی طرح سے لوگوں کی طرز زندگی میں تبدیلیاں لائیں اور ہر شعبہ ہائے حیات اس سے متاثر ہوا۔ مجموعی طور پر سال 2020 کو نئی طرز زندگی کا پیش خیمہ بھی کہا جاسکتا ہے۔

زندگی کا نیا طرز

2020 ء نے ہمیں سکھایا ہے کہ کس طرح ایک دوسرے سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے بھی ہم اپنی روز مرہ کی زندگی اور مصروفیات کو بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ اس میں گھر سے کام کرنا، گھر پر پڑھنا لکھنا اور یہاں تک کہ گھر پر ہی سماجی پروگراموں کا اہتمام کرنا، زندگی کا ایک لازمی جز بن گئے اور ان سب کے لئے انٹرنیٹ کا استعمال کرنا ایک لازمی ضرورت بن کر سامنے آیا۔ اس وبا نے ہمیں شادیوں اور دیگر خاندانی تقاریب میں مہمانوں کی تعداد کو محدود کرنے پر مجبور کیا۔ اس کے نتیجہ میں اس حقیقت سے آشنا ہوئے کہ ان سرگرمیوں کے لئے ہم غیرضروری طور پر کتنا کچھ خرچ کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے ہم اس رقم کا استعمال غریب اور ضرورت مندوں پر آسانی سے کرسکتے ہیں۔


یہ بات ہندوستانی مسلمانوں پر زیادہ لازم ہوتی ہے کہ اسلام کے بنیادی اصولوں سے منحرف ہوتے ہوئے ہم صرف دنیاوی دکھاوے پر اپنی شادی بیاہ اور غیر اسلامی رسموں پر کتنی فضول خرچی کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ ہم اس پیسے کا استعمال قوم کی تعلیم یا غریب بچیوں کی شادی یا بیواؤں کی فلاح و بہبود کے لیے کریں؟ ضرورت صرف محسوس کرنے اور عمل کرنے کی ہے۔ کورونا نے ہمیں سکھا دیا ہے کہ غیر ضروری اشیاء اور رسموں پر خرچ کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

لاک ڈاون نے تجارتی اداروں کو کام کا نیا طرز اور نئی تکنیکیں اختیار کرنے کے لئے مجبور کیا جس میں سماجی فاصلہ اور دیگر قواعد کی پابندی کی گئی۔ گھر سے کام اب ایک نیا اصول بن گیا ہے اور کمپنیوں کو اس حقیقت سے واقفیت ہوئی ہے کہ انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال ملازمین کی حمل و نقل، اجلاسوں و کانفرنسوں اور نمائشوں پر خرچ کرنے کے بجائے نتائج کو حاصل کرنے کے لئے ٹیکنالوجی کی مدد سے منفرد طریقے بھی اختیار کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں ملازمین کی ذہنی و جسمانی صحت بھی بہتر ہوئی کیوں کہ انہیں اب روزانہ سفرنہیں کرنا پڑ رہا تھا اور وہ ثمر آور سرگرمیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت مختص کر پارہے تھے۔


قدرت کا حسین رنگ

ایک سکہ کے دو رخ کی طرح کورونا بھی غیرمعمولی چوکسی اور خوف اپنے ساتھ لایا۔ فوری طور پر دنیا بھر میں اس سے نمٹنے کے لئے جوابی اقدامات شروع کیے گئے۔ اس نے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ہمیں فطرت کے ساتھ لڑنا نہیں ہے۔ اگرچہ کورونا کی تباہیوں کی خبریں ابھی جاری ہیں اور اس کے نتیجہ میں دنیا بھر میں لاک ڈاون بھی ہو رہا ہے۔ تاہم قدرتی تبدیلیوں سے متعلق چند مثبت واقعات بھی سامنے آرہے ہیں جو یقینی طور پر ہمارے چہروں پر مسکراہٹ لانے میں کامیاب ہوئے۔ یہ خلاف قیاس محسوس ہوگا، لیکن اسے مختصر طور پر ایسے بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کورونا ہماری روئے زمین اور خود ہمارے لئے بھی ایک بروقت بہتری کا پیغام لایا ہے۔ ہندوستان میں کانپور اور وارانسی میں گنگا کی صفائی کی اطلاعات آرہی تھیں جو کہ دو ایسے شہر ہیں جہاں گنگا انتہائی آلودہ پانی کی شکل میں بہہ رہی تھی۔ دہلی میں بھی جمنا کا پانی صاف اور شفاف ہوا ہے۔ پنجاب میں پہاڑیوں کے نزدیک رہنے والے شہریوں کو اب ہمالیہ کے پہاڑی سلسلہ اپنے گھروں کی چھتوں سے صاف نظر آتے ہیں اور ان پہاڑی شہروں میں اب پرندوں اور چڑیوں کا چہچہانا روز مرہ کی بات ہوگئی ہے جس نے وہاں کے مکینوں کو ایک نئی مسرت سے آشنا کیا ہے۔

2020 میں عام ہندوستانی

2020 میں عام ہندوستانی کو مزدوروں اور کم و متوسط آمدنی والے خاندانوں کی دشواریوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے، جنہوں نے بڑے شہروں سے خاص طور سے دہلی سے راہ فرار اختیار کی۔ یہ مجبوری میں کی گئی نقل مکانی ایک ایسے اعلان کا نتیجہ تھی جس نے پورے ملک کو ایک غیرمتوقع لاک ڈاون میں جھونک دیا۔ یہ عمل کسی پیشگی تیاری یا منصوبہ بندی کے بغیر کیا گیا تھا۔ عام ہندوستانی نے اپنے آپ کو تسلی دی کہ یہ فیصلہ ہندوستانیوں کو وائرس کے خطرہ سے محفوظ رکھنے کے لئے لیا گیا تھا۔


تاہم عام ہندوستانی شہری آزادی کے بعد سے اب تک اس حق کا دعویدار ہے کہ ہم عام ہندوستانی ایک عام مزدور، ایک عام کسان، عام کلرک اور ایک عام و ایماندار ٹیکس دہندہ کے طور پر ملک کی ترقی میں تعاون کرتے ہیں اور راحت سرگرمیوں کو انجام دینے میں حکومت کی مدد کرتے ہیں چاہے جنگ ہو یا آفت سماوی سے نمٹنا۔

لیکن اس کے برعکس یہ دیکھا گیا ہے کہ حکومت عام ہندوستانی شہریوں کے معاملہ میں بار بار ناکام ہوتی رہی۔ عام شہری حیران ہیں کہ اس کی سخت محنت کی کمائی جو ٹیکس کے طور پر ادا کی جاتی ہے کہاں جارہی ہے؟ کئی دہوں سے عام ہندوستانی شہری حکومت کی ایک اپیل پر اپنی رقم کا عطیہ دیتے آرہے ہیں جو انہوں نے اپنی بیٹی کی شادی یا تعلیم یا اپنے عقائد کے سفر وغیرہ کے لئے جمع کر رکھی تھی۔ مختلف سیاست دانوں کی جانب سے وائرس کے نام پر فنڈس قائم کیے گئے لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں دیکھا کہ کسی عوامی شخصیت نے اپنی بچت یا ماہانہ آمدنی سے کوئی رقم ایسے کام کے لئے دی ہے۔ اگرچہ وہ اس عہدہ سے ہنوز فائدہ حاصل کر رہے ہیں جس کے لئے عوام نے ان کا انتخاب کیا ہے۔ عہدہ سے سبکدوشی کے بعد بھی انہیں وظائف اور دیگر سہولتیں حاصل ہوتی ہیں۔ عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟


2020 ء کے دوران جو واقعات سامنے آئے ہیں انہوں نے عام ہندوستانی کو خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا یہ وہی حقیقی ہندوستان ہے جو ہمارے آباء و اجداد تعمیر کرنا چاہتے تھے یا نہیں؟ اگر نہیں تو عام ہندوستانی شہری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سیاسی آقاوں سے کچھ ناپسندیدہ سوالات کریں تاکہ وہ ملک کو صحیح راستہ اور سمت کی جانب دوبارہ گامزن کرسکیں۔

2020ء میں ہندوستانی مسلمان

2020ء کے دوران کئی ایسے واقعات پیش آئے جس نے ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ان واقعات پر مسلمانوں کے مذہبی اور سماجی قائدین کا ردعمل قوم کے لئے بہتر تھا یا نہیں، لیکن ہمیں یہ سمجھنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم مسلمانوں پر بہ حیثیت ہندوستانی شہری ایک مثالی مسلمان بننے کی کوشش کرنے کے علاوہ اور بھی دیگر ذمہ داریاں ہیں۔


ایک مثالی مسلمان کے لئے مسلم علماء کا رول اہم ہے۔ غیرتعلیم یافتہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے مذہبی قائدین کی پوری دل جمعی کے ساتھ اندھی تقلید کرتے ہیں تاہم انہیں اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ انھیں اپنی اور اپنے مذہب کی مثبت شبیہ کو پیش کرنا ہے اور اسلام کی بنیادی تعلیمات پر سب سے پہلے عمل کرنا ہے۔ جیسا کہ اسلام میں سکھایا گیا کہ انہیں اپنے لئے اور اپنے افرادِ خانہ کے لئے تعلیم کے حصول کی کوشش کرنا چاہیے۔ اپنی بستیوں کو صاف رکھنا چاہیے اور ان طریقوں پر عمل کرنا چاہیے جس سے خود کی اور دوسروں کی حفاظت یقینی ہو۔

آج ہندوستانی مسلمانوں کو سب سے زیادہ مختلف مسالک میں اتحاد کی ضرورت ہے اور ہمارے مذہبی قائدین کی جانب سے سرگرم عمل ہونا ضروری ہے۔ اس کے لیے انہیں ایک جامع اور دور رس حکمت عملی وضع کرنی ہوگی۔ ہر مسئلہ پر پیشگی رہنمائی فراہم کرنا ہوگی کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ہنوز ان کی باتوں پر عمل کرتا ہے نہ کہ سماجی قائدین کی۔


ہمارے مذہبی قائدین کی یہ ذمہ داری بھی بنتی ہے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں میں اتحاد قائم کریں اور ساتھ ہی سیاسی، سماجی، معاشی اور مذہبی زندگی میں امت مسلمہ کی رہنمائی کریں۔ اس کے لئے انہیں ایک پیشگی مثبت حکمت عملی وضع کرنا چاہیے۔ ہندوستانی مسلمانوں میں خود اصلاح کی ضرورت بھی ہے اور ملک میں تیزی سے بدل رہی صورتحال میں باوقار طور پر بھائی چارہ کو فروغ دینے کے لئے نئی راہیں تلاش کرنے کی بھی ضرورت ہے۔

امید کرتے ہیں کہ 2021ء میں اس وبا کے بعد اللہ ہماری پریشانیوں کو کم کرے گا اور ہمارے سیاست دان اور حکمران حکومت کرنے اور چلانے کے لیے مزید نئے جمہوری طریقے تلاش کریں گے جس کے ذریعے زیادہ سے زیادہ عوامی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جاسکے۔

(مضمون نگار سینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔