گنیش وسرجن پر موہن بھاگوت کا ’پروَچن‘

موہن بھاگوت نے کہا کہ لارڈ گنیش ایک طاقتور دیوتا تھے جنہوں نے کبھی بھی طاقت کا بیجا استعمال نہیں کیا۔ فی الحال ملک میں کس کا اقتدار ہے؟ اور اس کا غلط استعمال کون کررہا ہے؟ یہ ہر کوئی جانتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

اعظم شہاب

اعظم شہاب

گنیش چترتھی مہاراشٹر کا تہوار ہے۔ آر ایس ایس کا صدر دفتر مہاراشٹر میں ہے۔ اس کے سرسنگھ چالک کا تعلق مہاراشٹر کے چندرپور سے ہے اس کے باوجود انہوں نے کسی پنڈال میں جاکر گنیش کی پوجا ارچنا نہیں کی۔ گنیش وسرجن کے کون سے جلوس میں شرکت کی اور وہاں کیا کہا یہ کوئی نہیں جانتا۔ یہی درست بھی ہے کیونکہ یہ ان کا اپنا ذاتی معاملہ ہے۔ اس کی تشہیر نہ تو ضروری ہے اور نہ مناسب ہے لیکن حیدر آباد کے بھاگیہ نگر گنیش اُتسو سمیتی نے اِس سال گنیش فیسٹیول کےموقع پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کو مہمان خصوصی کی حیثیت سے بلایا۔ 12 ستمبر کو اس تقریب میں شرکت کرکے انہوں نے بڑی اہم باتیں کہیں۔ موہن بھاگوت نے معظم جاہی مارکیٹ کے قریب گنیش بھکتوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرکے کہا کہ لارڈ گنیش ایک طاقتور دیوتا تھے جنہوں نے کبھی بھی طاقت (اقتدار) کا بیجا استعمال نہیں کیا۔ فی الحال ملک میں کس کا اقتدار ہے؟ اور اس کا غلط استعمال کون کررہا ہے؟ یہ ہر کوئی جانتا ہے۔ اس شخص یا جماعت کا تعلق اگر سنگھ پریوار سے نہیں ہوتا تو بھاگوت جی اور بھی بہت کچھ بولتے، مثالیں دیتے اور نام تک بتا دیتے لیکن ’ہونٹ بھی اپنے دانت بھی اپنے‘ اس لیے تھوڑے پر اکتفاء کیا۔

اس موقع پر بھاگوت جی نے جو دوسری بات کہی اس کا اطلاق نہ صرف اکثریتی سماج بلکہ اقلیتوں پر بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ گنیش پر اعتقاد رکھتے ہیں ان بھکتوں کواس حوالے سے اپنے دیوتا کی پیروی کرنی چاہیے۔ آج کل تہوار کا استعمال صرف موج مستی کے لیے ہوتا ہے۔ کوئی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتا کہ وہ کون سی اقدار ہیں جس کی خاطر یہ جشن منایا جارہا ہے اور کن تعلیمات پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اس لحاظ سے یہ بات وہاں موجود عقیدتمندوں کے لیے تھی لیکن جب انہوں نے اسے دوہرایا کہ (دیوتا کی) اتباع اس طرح کی جائے کہ طاقت یا اقتدار کاغلط استعمال نہ ہو۔ یہ سن کر بے ساختہ وزیراعظم نریندر مودی کی وہ تصویر آنکھوں میں آجاتی ہے کہ جو انہوں نے مہاراشٹر میں اپنے دورے کے موقع پر گنیش مورتی کی پوجا کرتے ہوئے کھنچوائی تھی۔ ذرائع ابلاغ نے بڑے اہتمام سے اسے شائع کیا تھا۔ ویسے مودی جی اپنا کوئی عوامی کام کیمرے کی غیر موجودگی میں نہیں کرتے اور گودی میڈیا کی کیا مجال ہے کہ اسے نظر انداز کرے۔ وہ تو اسے اپنے لیے سعادت اور منافع بخش تجارت کا ذریعہ سمجھتا ہے لیکن اس تصویر کو بھاگوت جی کی تلقین کے ساتھ دیکھیں کہ محض پوجا پاٹ کے بجائے ان تعلیمات پر عمل بھی کیا جائے تو پوشیدہ طنز واضح ہوجاتا ہے۔

طاقت کے بیجا استعمال سے روکنے کی نصیحت کے بعد بھاگوت جی نے اس کے صحیح استعمال کی رہنمائی بھی کی۔ انہوں نے فرمایا اس کا بہترین استعمال خود اپنے تحفظ اور ان لوگوں کی حفاظت کے لیے ہونا چاہیے جو اس کے متقاضی(مستحق) ہوں۔ فی الحال ہجومی تشدد کی وباء ملک میں بری طرح پھیل چکی ہے۔ پہلے یہ فرقہ وارانہ رنگ لیے ہوئے تھی لیکن اب عام ہوگئی ہے۔ کسی سے دشمنی نکالنی ہو یا کسی پر غصہ اتارنا ہو تو اس کا سہل ترین طریقہ ہے کہ اس کو بچہ چور کا نام دے دیا جائے۔ بلا تفریق مذہب و ملت عوام کی ایک بھیڑ جمع ہو جاتی ہے اور بلا تحقیق وتفتیش اس بے قصور پر لوگ پلِ پڑتی ہیں۔ پولس کے آنےتک وہ شخص ادھ مرا ہوچکا ہوتا ہے یا کبھی کبھار داغِ مفارقت دے جاتا ہے۔ اس طرح کے بیشتر سانحات فی الحال یوگی جی کے جنگل راج میں ہو رہے ہیں جہاں ہجومی تشدد میں ملوث لوگوں کے خلاف این ایس اے لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ سشاسن بابو نتیش کمار کا بہار بھی اس سے محفوظ نہیں ہے۔ یہ عوام کی قوت کا بیجا استعمال ہے جو نہیں ہونا چاہیے۔ بھاگوت جی کے مطابق اپنے تحفط میں اس کا شکار ہونے والوں کو طاقت کا استعمال کرنا چاہیے۔ طاقت کا یہ جائز استعمال صرف اپنی ذات کی حد تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان لوگوں کو بچانے کی خاطر بھی ہونا چاہیے جو اس ظلم کا شکار ہو رہے ہیں۔ یعنی عوام کو مارپیٹ میں حصہ لینے یا خاموش تماشائی بنے رہنے کے بجائے طاقت کا استعمال مارپیٹ کرنے والوں کے خلاف کرنا چاہیے۔

کاش کے ملک کے بھگوا دھاری دہشت گرد بھاگوت جی کی اس ہدایت پر عمل کریں اور دیگر لوگ بھی اس کا خیال رکھیں تو موب لنچنگ رک سکتی ہے۔ اس معاملے میں عوام کے علاوہ انتظامیہ کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ وہ اگر ظالموں کو بچانے کے بجائے اپنی طاقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچائے تو اس مصیبت سے نجات ممکن ہے۔ یہاں پر یہ بات پیش نظر رہے کہ انتظامیہ اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی کی خاطر اپنی طاقت کا بیجا استعمال کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 2014 کے اندر مودی حکومت کے بعد نفرت کی بنیاد ہونے والی قتل و غارتگری میں بے شمار اضافہ ہوا ہے کیونکہ پولس نے ظالموں کو تحفظ دینا شروع کردیا ہے۔ پہلو خان کے قاتلوں کو بچا کر اس کے بھائی پر مقدمہ درج کردیا جاتا ہے۔ تبریز کو زدو کوب کرنے والوں کو گرفتار کرنے کے بجائے خود اسی کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ٹھونس دیا جاتا ہے اور اب فرد جرم سے قتل کی دفعہ ہٹا کر انہیں بچانے کی سعی کی جاتی ہے۔ ان لوگوں کو بھی بھاگوت جی کا یہ پروچن غور سے سننا، سمجھنا اور اس پر عمل کرنا چاہیے۔

Published: 15 Sep 2019, 7:10 PM