جو سلوک مزدوروں کے ساتھ ہوا اسے یہ محنت کش طبقہ کبھی معاف نہیں کرے گا

2020 میں ہندوستان نے اپنے ہی مہاجر مزدوروں کے ساتھ جس طرح کا رویہ اختیار کیا، ویسا نہ تو گزشتہ کسی حکومت نے اپنے یہاں، نہ ہی دنیا میں کہیں بھی کسی حکومت نے کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سجاتا آنندن

بائبل میں قصہ ہے کہ مصر میں غلاموں کی طرح رہ رہے لوگوں کو جب غلامی سے آزاد کرایا گیا تو وہ لوگ مصر سے اسرائیل کثیر تعداد میں بھاگے۔ ان کی یہ ہجرت ایک طرح سے زنجیروں کو توڑنے اور جان بچا کر بھاگنے کی طرح تھی۔ آج جو ملک بھر میں اپنے گاؤں کی طرف جاتے مہاجر مزدور نظر آ رہے ہیں، اس کا موازنہ اسی ہجرت سے کیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہ ہمارے اپنے لوگ ہیں، انھیں کوئی غلام بنا کر کہیں نہیں رکھا گیا تھا۔ وہ بھی اسی طرح ہندوستان کے شہری ہیں جس طرح سماج کے باقی خاص طبقات کے لوگ۔ پھر بھی اس واقعہ نے ملک تقسیم کے وقت ہوئی اجتماعی ہجرت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

1947 میں جو ہجرت ہوئی تھی، اس میں سرحد کے دونوں طرف کافی تشدد ہوا تھا اور خونریزی بھی۔ آج جو مزدور اپنے گاؤں کی جانب جا رہے ہیں، وہ تقسیم کے وقت کے پناہ گزیں جیسے نہیں ہیں لیکن حاکموں نے انھیں پوری طرح کنارہ کر دیا ہے۔ انھوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو جی توڑ محنت کرنے والے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے دہائیوں سے ہماری معیشت کا چکہ تھام رکھا ہے اور جنھیں آج امیر لوگوں، انھیں روزگار دینے والے لوگوں، حکومت، متوسط طبقہ... سب نے کنارہ کر کے چھوڑ دیا ہے۔ یہ لوگ ان لوگوں کو سڑک پر جاتے دیکھ کر ان سے صرف اس لیے نفرت کر رہے ہیں کہ وہ اپنے خاص ہونے پر شرمندہ ہیں، پھر بھی یہ ان کی مدد نہیں کریں گے۔

تکلیف دہ مثالوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کسی بھی قومی شاہراہ پر دن رات جاتی بھیڑ کے کسی بھی شخص سے بات کیجیے، آپ کو سمجھ میں آئے گا کہ لوگوں کا اعتماد کس طرح ڈول گیا ہے۔ بے شمار داستانیں ہیں... بچے، جوان، بوڑھے، خواتین، مرد... سب بتا رہے ہیں کہ انھوں نے کیا کیا برداشت کیا، ان کا بھروسہ کس طرح ٹوٹ گیا اور وہ کس طرح اپنی زندگی نئے ڈھنگ سے جینے کی سوچ رہے ہیں۔

ہندوستان نے 2020 میں اپنے ہی مہاجر مزدوروں کے ساتھ جس طرح کا سلوک کیا ہے، ویسا نہ تو گزشتہ کسی حکومت نے اپنے یہاں، نہ دنیا میں کہیں بھی کبھی کسی حکومت نے کیا ہے۔ تقسیم کے بعد اپنے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے جب ایک پناہ گزیں کیمپ کا دورہ کیا تھا، تب ایک خاتون نے ان کا کالر پکڑ لیا تھا اور چیخ کر پوچھا تھا "میں نے اس آزادی سے کیا پایا؟" انھوں نے عاجزی کے ساتھ کہا تھا "اپنے وزیر اعظم کا گلا پکڑنے اور جواب کے لیے جھنجھوڑ دینے کا اختیار۔"

لیکن آج؟ پی ایم نریندر مودی کسی مہاجر مزدور کے پسینے بھرے ہاتھوں کو اپنے 10 لاکھ قیمت والے سوٹ کو پکڑنے نہیں دیں گے۔ جب راہل گاندھی گاؤں لوٹ رہے لوگوں سے بات کرنے کے لیے سڑک کنارے بیٹھ جاتے ہیں تو پنجاب اور مہاراشٹر بینک گھوٹالہ میں اپنا سارا پیسہ لٹا دینے اور کڈنی ٹرانسپلانٹ کرانے والے مریض کی بات بھی نہ سننے والی غیر مدلل اور اناپرست وزیر مالیات نرملا سیتارمن ہمدردی بھرے اس قدم کو ڈرامہ بتاتی ہیں۔ یہی نہیں، وہ یہاں تک کہتی ہیں کہ راہل گاندھی کو اپنے سر پر ان مزدوروں کا سوٹ کیس ڈھونا چاہیے تھا۔

یہ صاف ہے کہ اس کورونا بحران کے دوران ہندوستان نے اپنی روح اور اخلاقیات کے گھیرے کو ختم کر دیا ہے۔ یا کم از کم مرکزی حکومت اور ملک کے اس امیر اور خاص طبقہ کے بیشتر حصے نے خود کو پوری طرح اس طرح ظاہر کر دیا ہے جیسے ان کے پاس دل نہ ہو۔ وہ نہ پروا کرنے والے اور ظالم لوگ ہوں اور ان کی فکر صرف اپنی تجوری کی ہو۔

بیشتر صنعت کاروں نے لاک ڈاؤن کے پہلے اور دوسرے فیز کے دوران اپنے مزدوروں کی ادائیگی کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی۔ جب تیسرے فیز کے دوران کچھ چیزیں کھولنے کی اجازت دی گئی تو ان مزدوروں کو اپنے گھر نہ جانے دینے کے لیے ایک طرح سے ان لوگوں نے ٹرین روکنے کی بھی کوشش کی۔ کرناٹک اس کی مثال ہے۔ ان لوگوں کو اندازہ ہے کہ یہ لوگ گئے تو پھر نہ لوٹیں گے اور تب ان کا جو فائدہ اور بینک بیلنس ہے، وہ بری طرح متاثر ہوگا۔

بنگلورو جنوب سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ تیجسوی سوریہ نے تو اس قدم کو مہاجر مزدوروں کے خوابوں کو پورا کرنے کی بات کہہ کر مناسب ٹھہرانے کی کوشش تک کی جب کہ وہ یہ بھول گئے کہ اس طرح انھیں روکا جانا ایک طرح سے ان کے ساتھ غلامی یا بندھوا جیسا رویہ اختیار کرنا ہے۔

چلے گئے یا جا رہے مزدور شہر کی جانب لوٹیں گے، یہ تو مشتبہ ہے ہی، بی جے پی حکمراں ریاست مدھیہ پردیش، اتر پردیش اور یہاں تک کہ گجرات میں لیبر ایکٹ میں اس قسم کی تبدیلی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جو مزدوروں کو کسی طرح کے اختیار کا استعمال کرنے کو مشکل بنا دیں گے۔ مزدوروں کے درمیان اچھی خاصی گرفت رکھنے والے مزدور ایسو سی ایشن والا آر ایس ایس بھی مالکوں کے ہاتھوں میں پوری طاقت دینے والے اس طرح کے قدم پر اعتراض کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اہم صنعتوں والی ریاست گجرات اور مہاراشٹر میں ان کی معیشت کے پہیے تھمنے والے ہیں۔

ان ریاستوں میں تعلیم اور ترقی کی سطح ایسی ہے کہ یہاں کے بہت زیادہ لوگ مہاجر مزدوروں کے ذریعہ چھوڑے روزگار کو کرنے میں دلچسپی نہیں رکھنے والے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ معیشت پوری طرح سے ڈوبنے والی ہے۔ اور ایسا اس لیے بھی کہ کورونا بحران کے پہلے سے ہی نریندر مودی حکومت نے اپنے شہریوں کا دھیان نہیں رکھا، خوشحال اور عام طبقہ کے درمیان شگاف مزید بڑھا دی، دوسرے طبقہ کے شہریوں کی پوری نئی کیٹگری بنا دی اور انھیں اپنے تھوڑے بہت وسائل پر جینے کھانے کے لیے چھوڑ دیا۔

وہ ان باتوں کو بھولنے والے نہیں ہیں۔ وہ اپنی حکومت، اپنے مالکوں اور ان لوگوں کو معاف کرنے والے بھی نہیں ہیں جنھیں ان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے تھا، لیکن ان لوگوں نے ایسا نہیں کیا۔ وہ اب ملک کے تئیں نہیں، اپنے تئیں محتاط رہیں گے۔ اور ہم جو ان سے بہتر خوشحال ہیں، جو زیادہ خاص ہیں، اپنے منھ پر اس طمانچے کے لائق بھی ہیں کیا!

Published: 23 May 2020, 8:40 PM