کراچی طیارہ حادثہ: پرندے کے ٹکرانے سے گئیں 97 افراد کی جان، ابتدائی رپورٹ میں انکشاف

انجمن شہری ہوابازی کے حکام کو طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ مل گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پرندے ٹکرانے کے سبب جہاز کے انجن جزوی طور پر بند ہو گئے اور طیارہ آبادی والے علاقہ میں گر کر تباہ ہو گیا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

اسلام آباد: پاکستان کے اہم شہر کراچی میں جمعہ کے روز پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے طیارے کو پیش آنے والے حادثے میں 97 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے جن میں سے بیشتر کی شناخت تاحال نہیں ہو پائی ہے۔ اس خادثہ میں کرشمائی طور پر دو افراد زندہ بچ گئے ہیں، دونوں کا علاج مختلف اسپتالوں میں کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کا جہاز رہائشی علاقہ میں کریش ہوا تھا۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق جائے حادثہ سے 97 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں جس کے بعد 25 متاثرہ گھروں کو کلیئر کر دیا گیا ہے اور رہائشیوں کو مقامی انتظامیہ کی مدد سے دوسرے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

ادھر، انجمن شہری ہوابازی کے حکام کو طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ مل گئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پرندے ٹکرانے کے سبب جہاز کے انجن بند ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق طیارہ کا لینڈنگ گیئر جام ہونے کے بعد پرندوں سے بھی ٹکرایا جس کے باعث حادثہ رونما ہوا۔

رپورٹ کے مطابق لینڈنگ گیئر خراب ہونے کے بعد پائلٹ طیارے کو قواعد کے مطابق لینڈنگ کے لیے نیچے لائے لیکن اس دوران بدقسمت طیارے سے ایک سے زیادہ پرندے ٹکرا گئے اور اسی دوران طیارے کے دونوں انجن جزوی طور پر بند ہوگئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انجنون سے کم طاقت ملنے کے سبب جہاز کی بلندی انتہائی کم ہوتی گئی اور کچھ ہی دیر میں جہاز اپنی بلندی برقرار نہ رکھ سکا۔ اس موقع پر پائلٹ نے ’’مے ڈے‘‘ کی کال بھی دے دی تاہم طیارہ رن وے پر پہنچنے سے پہلے ہی آبادی والے علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا اور جس وقت طیارہ مکانات کی بالائی منزل سے ٹکرایا اس وقت وہ گلائیڈ کر رہا تھا۔

درایں اثنا وفاقی حکومت نے طیارہ حادثہ کی چار رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی۔ ایئر کموڈور محمد عثمان غنی تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ ہوں گے جب کہ دیگر ارکان میں ونگ کمانڈر ملک محمد عمران، گروپ کیپٹن توقیر اور جوائنٹ ڈائریکٹر ایئر ٹریفک کنٹرول ناصر مجید شامل ہیں۔ سول ایوی ایشن ڈویژن نے تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل کا نوٹی فکیشن جاری کردیا ہے۔

Published: 23 May 2020, 4:11 PM