ابھی مزید کئی ’بدھو‘ گھر واپسی کی قطار میں ہیں... اعظم شہاب

بنگال بی جے پی کو اب خود اپنے لوگوں پر اعتماد نہیں اور خوف کا عالم یہ ہے کہ بی جے پی لیڈران میٹنگ تک بلانے سے کترانے لگے ہیں کہ کہیں کسی کی عدم شرکت اس کے ٹی ایم سی میں شامل ہونے کا اعلان نہ بن جائے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

بی جے پی کے قومی نائب صدر مکل رائے اپنے بیٹے شبھرانشو کے ساتھ اب دوبارہ اپنے پرانے گھر ٹی ایم سی میں واپس آچکے ہیں۔ بی جے پی کے ایک اور لیڈر راجیو بنرجی بھی ممتا دیدی کی ہری جھنڈی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان کے علاوہ بی جے پی کے منتخب شدہ 35 سے 40 ممبرانِ اسمبلی بھی ٹی ایم سی میں شامل ہونے کے لیے پرتول رہے ہیں۔ ریاستی بی جے پی اس قدر سراسیمگی کی شکار ہے کہ اسے خود اپنے لوگوں پر اعتماد نہیں رہ گیا ہے اور خوفزدگی کا یہ عالم ہے کہ بی جے پی کے لیڈران تنظیمی میٹنگ تک بلانے سے کترانے لگے ہیں کہ کہیں کسی کی عدم شرکت اس کے ٹی ایم سی میں شامل ہونے کا اعلان نہ بن جائے۔ یوں بھی ہرروز بی جے پی چھوڑنے والوں کی فہرست میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جو جتنی تیزی سے بلندی پر جاتا ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ نیچے بھی آتا ہے۔ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے ہیں جب ٹی ایم سی کے لیڈران قطار در قطار بی جے پی میں شامل ہو رہے تھے جس سے ایسا محسوس ہونے لگا تھا کہ ٹی ایم سی اب ختم ہوجائے گی۔ شاید اسی کو محسوس کرتے ہوئے ہمارے پردھان سیوک نے بھی اعلان کر دیا تھا کہ نتائج آنے کے بعد ممتا دیدی اکیلی رہ جائیں گی اور کوئی ان کے ساتھ نہیں رہے گا۔ دوسری جانب سے امت شاہ صاحب دو سو سے زائد سیٹیں جیتنے کا اعلان فرما رہے تھے۔ ان کا تو کہنا تھا کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت سمجھو بن چکی ہے، بس اعلان باقی رہ گیا ہے۔ مگر جب نتیجے آئے تو معلوم ہوا کہ بلند بانگ دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان بہت فرق ہوتا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ہمارے پردھان سیوک اور امت شاہ کو اپنا گھر ہی بچانا مشکل ہو رہا ہے۔ یہ تو ایسا ہی ہے کہ آپ کسی کو کنگال کرنے کی دھمکی دیں اور وہ آپ کا پورا گھر ہی صاف ہو جائے۔


کہا جارہا ہے کہ مکل رائے بی جے پی میں حاشیے پر چلے جانے کی وجہ سے ناراض تھے اور اسی ناراضگی کی سبب انہوں نے گھر واپسی کی ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی اپنے گھر کے لوگوں سے ناراض ہوکر گھر چھوڑ دے، مگر کیا ایسی صورت میں گھر کے لوگ اس شخص کی شکایت دور نہیں کریں گے اور خاص طور سے ایسے شخص کی جس نے گھر کی تعمیر کی ہو؟ لیکن مکل رائے کے معاملے میں دیکھا یہ گیا کہ بجز پردھان سیوک کے ذریعے خانہ پری کے ایک فون کے انہیں روکنے کی کوئی خاص کوشش نہیں کی گئی۔ بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش اور انچارج کیلاش وجے ورگیہ بھی اس پورے منظرنامے میں کہیں نظر نہیں آئے جنہوں نے مکل رائے کے ساتھ مل کر پارلیمانی الیکشن میں بی جے پی کو 2 سے 18؍ تک پہنچایا تھا۔

تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی کو مکل رائے کے موہ بھنگ کا اندازہ قبل ازوقت ہوگیا تھا؟ تو اس کا جواب ممتا بنرجی نے مکل رائے کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے پریس کانفرنس سے مل جاتا ہے جس میں ممتابنرجی نے یہ کہا کہ مکل رائے غدار نہیں ہیں اور یہ کہ وہ غداروں کو پارٹی میں شامل نہیں کریں گی۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ممتابنرجی کے یہاں بھی مکل رائے کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔ اگر ممتابنرجی کے اس بیان کے حوالے سے مکل رائے کے دورانِ انتخاب کے بیانوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں جبکہ شوبھیندوں ادھیکاری سے لے کر پردھان سیوک تک سب کا تان ممتابنرجی کو لعن طعن کرنے پر ٹوٹ رہا تھا، مکل رائے اپنے حلقہ انتخاب کرشنانگر میں سمٹے ہوئے اپنے انتخابی مہم میں مصروف رہے۔


مکل رائے کہ کہنا ہے کہ وہ اسمبلی الیکشن نہیں لڑنا چاہتے تھے بلکہ ریاست گیرسطح پر وہ الیکشن کی مہم چلانا چاہتے تھے۔ لیکن ان کی مرضی کے بغیر انہیں کرشنا نگر شمال سے الیکشن لڑنے پر مجبور کیا گیا۔ گوکہ وہ کامیاب ہوئے مگر اس کے ذریعے ریاستی سطح پر ان کے قد کو کم کردیا گیا۔ انہیں قصداً الیکشن کی مہم سے دور رکھا گیا تھا کیونکہ امت شاہ و کیلاش وجیہ ورگیہ نے الیکشن جیتنے کی جو حکمت عملی ترتیب دی تھی وہ مکل رائے کی حکمت عملی سے قطعاً مختلف تھی۔ جبکہ پارلیمانی انتخاب میں بی جے پی نے مکل رائے کی ہی سربراہی میں بڑی کامیابی حاصل کی تھی۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ اسمبلی انتخابات میں مکل رائے کو ریاستی سطح پر مہم چلانے سے روکا گیا؟ تو اس کا جواب ’جے شری رام‘ سے لے کر ’دیدی..او دیدی...‘ سے مل جاتا ہے۔ بی جے پی نے اس الیکشن میں پولرائزیشن کو اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنایا تھا۔

بہر حال اب مکل رائے ٹی ایم سی میں شامل ہوچکے ہیں اور ان کے بعد بی جے پی کے لیڈر راجیوبنرجی بھی قطار میں ہیں۔ اس کے علاوہ کولکاتا کی گلیوں میں یہ منظر بھی دیکھا جارہا ہے کہ بی جے پی لیڈران وکارکنان لاؤڈسپیکر کے ذریعے ٹی ایم سی وعوام سے علانیہ معافی مانگتے گھوم رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیشِ نظر رہے کہ چند روز قبل بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ گھوش کی صدارت میں 24پرگنہ میں ہوئی میٹنگ میں بھی تقریباً آدھے درجن بی جے پی کے ایم ایل اے شریک نہیں ہوئے تھے۔ ان کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ وہ مکل رائے کی سربراہی میں ٹی ایم سی میں بہت جلد شامل ہوسکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے جس کا امکان نہایت قوی ہے تو کیا یہ سمجھا جائے کہ مودی جی کا ممتا کو تنہا کرنے کی دھمکی ممتا کو محض خوفزدہ کرنا تھا؟


کرما یعنی کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی کے فلسفے سے تو ہر کوئی واقف ہے، مگر یہ فلسفہ اس قدر تیز ی سے ظاہر ہوگا؟ یہ شاید ہمارے پردھان سیوک جی کے بھی وہم وگمان میں نہیں رہا ہوگا۔ مکل رائے کا ٹی ایم سی میں دوبارہ شامل ہونا اس بات کا اعلان ہے کہ انہوں نے بی جے پی میں شامل ہوکر غلطی کی تھی۔ ایسی ہی غلطی کا احساس ان تمام ریاستوں میں ان لوگوں کو ہونے لگا ہے کہ جو اقتدار کے لالچ یا مرکزی حکومت کے ذریعے کسی دھمکی سے خوفزدہ ہوکر بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔ مہاراشٹر کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں 30 سے زائد بی جے پی کے ممبرانِ اسمبلی دوبارہ اپنی پرانی پارٹی میں جانا چاہتے ہیں مگر پارٹی ہائی کمان انہیں شامل کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ یہ صورت حال اس بات کی غماز ہے کہ اب بی جے پی کے دن لد چکے ہیں اور 2024 تک بی جے پی کے گھر میں مزید سناٹا پسرنے کی توقع سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔