جین کمیشن کی رپورٹ میں پولس کو کلین چٹ، 6 کسانوں کی موت کا ذمہ دار کون؟

ایک سال قبل مندسور پولس فائرنگ میں مارے گئے کسانوں کے اہل خانہ کو تسلی دیتے شیوراج  سنگھ چوہان (فائل)

9 ماہ کی دیری سے آخر کار جین کمیشن نے مندسور فائرنگ کی رپورٹ چوہان حکومت کو سونپ دی، کانگریس اور کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ جین کمیشن کی رپورٹ بی جے پی حکومت کو کلین چٹ دینے کا  ایک ذریعہ ہے۔

جون 2017 میں مدھیہ پردیش کے مندسور ضلع میں ہوئی پولس فائرنگ میں 6 کسانوں کی موت ہو گئی تھی، اس واقعہ کی تحقیقات کے لئے بنائے گئے ایک رکنی جین کمیشن کا کہنا ہے کہ کسانوں کی موت کے لئے پولس ذمہ دار نہیں ہے، کمیشن کے مطابق، انٹیلی جنس اور انتظامیہ کی ناکامی کے چلتے 6 جون 2017 کو ہوئی فائرنگ میں کسانوں کی موت ہوئی تھی۔

انکوائری کمیشن نے سیدھے سیدھے اپنی رپورٹ میں مقامی انتظامیہ اور پولس کو کلین چٹ دے دی ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ کمیشن اس نتیجے پر 211 لوگوں کی گواہی کے بعد پہنچا ہے، جن لوگوں کی گواہی لی گئی تھی ان میں 185 عام لوگ اور 26 اہلکار شامل تھے۔

تقریبا ً ایک سال تک جاری رہی تحقیقات کے بعد کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی دعوی کیا ہے کہ کسانوں کی موت کے پیچھے مندسور کے اس وقت کے ضلع کلکٹر سوتنتر کمار سنگھ اور پولس سپرنٹنڈنٹ اوپی ترپاٹھی کا کوئی کردار نہیں ہے، جبکہ سوتنتر کمار اور اوپی ترپاٹھی کو اس واقعہ کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔

حالانکہ جین کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ مظاہرہ کے دوران قوانین کو نظر انداز کیا گیا تھا جس کی وجہ سے کسانوں کی موت ہوئی، کمیشن کے مطابق، پولس کو براہ راست گولی چلانے کے بجائے مظاہرہ کر رہے کسانوں کے پیروں پر گولی مارنی چاہئے تھی، جین کمیشن کی تشکیل مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جے کےجین کی صدارت میں گزشتہ سال کی گئی تھی۔

قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت کمیشن کی رپورٹ کو آنے والے مانسون اجلاس میں اسمبلی میں پیش پیش کرے گی۔

اہم اپوزیشن پارٹی کانگریس سمیت کسان تنظیموں نے رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیاہے کہ یہ بی جے پی حکومت کی ہدایت پر لکھی گئی ہے، مدھیہ پردیش کانگریس کے ایگزیکٹیو چیئرمین اور ممبر اسمبلی جیتو پٹواری نے براہ راست طور پر الزام لگایا کہ جین کمیشن کی رپورٹ وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان کی سرکاری رہائش گاہ پر بھوپال میں لکھی گئی ہے۔

مدھیہ پردیش سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بھلا کیسے ہو سکتا ہے کہ 6 کسانوں کی موت ہو گئی لیکن ان کی موت کے لئے ذمہ دار کوئی نہیں ہے؟ جیتو نے کہا،’’جین کمیشن کی رپورٹ کو کانگریس مانسون اجلاس میں زور شور سے اٹھائے گی، اس مسئلے پر ہم شیوراج سنگھ حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کریں گے‘‘۔

’قومی آواز‘ کے ساتھ بات چیت میں پٹواری نے مندسور فائرنگ کی سی بی آئی جانچ کا بھی مطالبہ کیا، جیتو پٹواری کی باتوں کی حمایت کرتے ہوئے کسان لیڈر شیو کمار ’ككّا‘ نے کہا کہ جین کمیشن کا مقصد ہی بی جے پی حکومت کو کلین چٹ دینا تھا، یہ بات پہلے ہی سےواضح تھی۔

بی جے پی اور آر ایس ایس پر کسانوں کے اوپر فائرنگ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ’’ككّا‘‘ نے کہا کہ جین کمیشن کی رپورٹ نے کسانوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا، ’’ككّا‘‘ کے مطابق جین کمیشن کی رپورٹ نے مندسور فائرنگ کی سچائی پر سفیدی پھیر دی ہے۔

غور طلب ہے کہ جون 2017 میں پرامن مظاہرہ کر رہے کسانوں پر ہوئی پولس فائرنگ میں 5 کسانوں کی موت ہو گئی تھی اور ایک کسان کی موت اسپتال میں ہوئی تھی، فصلوں کے مناسب دام، قرض معافی کا مطالبہ کر رہے کسانوں پر پولس کی فائرنگ کے بعد علاقے کے حالات بگڑ گئے تھے، ایک اندازے کے مطابق اس دوران 25 کروڑ کی ذاتی اور سرکاری املاک کا نقصان ہوا تھا۔

معتبرذرائع نے ’قومی آواز‘کے ساتھ ہوئی بات چیت میں دعویٰ کیا ہے کہ جین کمیشن کی رپورٹ پہلے ہی تیار تھی، لیکن شیوراج حکومت کے اشارے پر رپورٹ کو جمع نہیں کیا جا رہا تھا، مانا جا رہا ہے کہ شیوراج سنگھ کی حکومت مندسور فائرنگ کے ایک سال کی یاد میں ہونے والے کسانوں کے مظاہروں سے خوفزدہ تھی، اسی وجہ سے جانچ کمیشن نے حکومت کو رپورٹ دیر سے سونپی۔

سب سے زیادہ مقبول