بہار کے عوام جھارکھنڈ کی راہ پر چل کر فسطائی فرقہ پرست طاقت کو شکست دیں... عبید اللہ ناصر

بہار ہو یا کسی بھی ریاست کا اسمبلی الیکشن وہ در اصل فسطائی فرقہ پرست زہریلے درخت کی شاخ کاٹنے کا بہترین موقعہ ہوتا ہے، اگر زہریلے درخت کی شاخیں کاٹ دی جائیں تو درخت خود بخود سوکھ کر گر جائے گا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

عبیداللہ ناصر

بہار میں چناوی چوسر بچھ چکی ہے ابتدائی مرحلہ میں سیاسی گٹھ بندھن کو لے کر غیر یقینی صورت حال کے جو بادل چھائے ہوئے تھے وہ صاف ہو چکے ہیں اس بار دو روایتی حلیفوں اور دو روایتی گٹھ بندھن یعنی تیجسوی یادو کی قیّادت میں راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے علاوہ بائیں بازو کی تینوں اہم پارٹیاں شامل ہیں اور وہی اس مہاگٹھ بندھن کی طرف سے وزیر اعلی کا چہرہ ہیں جبکہ بی جے پی جنتا دل یو اور بھارتیہ عوام پارٹی کا این ڈی اے گٹھ بندھن جس نے ایک بار پھر نتیش کمار پر داوں لگایا ہے۔ اس بار ایک اور نیا گٹھ بندھن بنا ہے جس میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسملمین، بہوجن سماج پارٹی اور اوپندرا کشواہا کی پارٹی شامل ہے، اس نے اوپندر کشواہا کو وزیر اعلی کے طور پر پیش کیا ہے۔

آنجہانی رام ولاس پاسوان کے انتقال کے بعد پہلی بار ان کی لوک جن شکتی پارٹی ان کے بیٹے اور نوجوان لیڈر چراغ پاسوان کی قیادت میں آزادانہ الیکشن لڑ رہی ہے، حالانکہ چراغ پاسوان واضح کر چکے ہیں کہ مرکز میں وہ اب بھی این ڈی اے کا حصہ ہیں اور ان کے دل میں نریندرمودی ہی بستے ہیں۔ بہار میں ان کی اصل لڑائی نتیش کمار سے ہے اور اسی لئے انہوں نے بی جے پی کے خلاف محض پانچ امیدوار اتارے ہیں اور اس کو دوستانہ لڑائی قرار دیا ہے، جبکہ نتیش کمار کی جنتا دل یو کے خلاف سبھی سیٹوں پر امیدوار اتارے ہیں۔

سیاسی مبصرین اسے نریدںرہ مودی اور آر ایس ایس کی ایک بڑی سیاسی حکمت عملی بتا رہے ہیں جس کا مقصد نتیش سے پیچھا چھڑا کر بی جے پی کا وزیر اعلی بنانا ہے، کیونکہ بی جے پی اب بہار میں ان کے سایہ سے باہر نکلنا چاہتی ہے۔ بی جے پی کی حکمت عملی ہے کہ چراغ پاسوان جتنے مضبوط ہون گے، نتیش اتنے ہی کمزور ہون گے اگر چراغ کی حکمت عملی کامیاب ہو گئی اور بی جے پی کے ممبران اسمبلی کی تعداد زیادہ ہوئی تو وہ چراغ کی مدد سے وزیر اعلی کی کرسی پر قبضہ کر سکتی ہے۔ حالانکہ وہ ابھی بھی نتیش کو ہی وزیر اعلی بنانے کی بات کر رہی ہے اور چراغ کو ووٹ کٹوا تک بتا رہی ہے لیکن پس پردہ کیا کھیل چل رہا ہے اسے سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا اور نتیش سے بڑھ کر اس کا نمونہ اور کون ہو سکتا ہے، جنہوں نے سیاسی وفاداری بدلنے میں بے شرمی کی ساری حدیں پار کر دی ہیں۔

سیاسی وفاداری بدلنے کی بات چلی تو یہ یاد دلانا بھی ضروری ہے کہ بی جے پی کی قدیمی حلیف شیو سینا اور اکالی دل اس کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں، نتیش کمار سے بھی اس کے کھٹے میٹھے رشتہ رہتے ہیں، لیکن جو اس کے دیرینہ حلیف ہیں اور جو تقسیم وطن سے پہلے سے ہی اس کے معاون رہے ہیں اور جو ہر کڑے وقت میں اس کی مدد کو آ جاتے ہیں یعنی جناح اور پاکستان نے اس کا ساتھ نہیں چھوڑا ہے۔ قارئین کو یاد دلا دیں کہ تقسیم سے قبل جب متعدد ریاستوں میں عبوری سرکاریں بن رہی تھیں تو مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا نے بنگال، سندھ اور صوبہ سرحد میں مل کر حکومت بنائی تھی۔ بنگال میں تو خود شیاما پرساد مکھرجی نائب وزیر اعلی بنے تھے جبکہ مسلم لیگ کے فضل حق وزیر ا علی تھے۔

آزادی کے بعد ہر انتخابی جنگ میں بی جے پی پاکستان، جناح اور مسلمانوں کو استعمال کرتی رہی ہے اس بار بہار میں بھی ان کا استعمال ہو رہا ہے اور دربھنگہ ضلع کے ایک حلقہ سے کانگریس کے امیدوار کے طور میدان میں اترے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طلبہ یونین کے سابق صدر مشکور عثمانی پر یونیورسٹی میں جناح کی فو ٹو لگانے کے معاملہ کو وہاں اچھالا جا رہا ہے، جبکہ یہ فوٹو تیس کی دہائی میں وہاں لگی تھی جب جناح صاحب یونیورسٹی کے دورہ پر آئے تھے، اسی طرح مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نتیانند راۓ نے بہاری ووٹروں کو ڈرایا ہے کہ اگر ان کی پارٹی ہاری تو کشمیر کے دہشت گرد بہار میں خوں کی ندی بہا دیں گے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی مسلمان، پاکستان، شمشان، قبرستان جیسے ایشوز کے علاوہ کبھی اپنی کارکردگی کے بنیاد پر چناؤ لڑ ہی نہیں سکتی۔ ایک سینئر صحافی کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اگر مسلمان اور پاکستان نہ ہو تو بی جے پی لوک سبھا، ودھان سبھا کیا گرام سبھا کا بھی چناؤ نہیں جیت سکتی ہے۔

مودی اور سنگھ پریوار کے دوسرے حلیف وہ طالع آزما نام نہاد علما ہیں جو چینلوں پر چند روپیوں کے لئے خود گالی کھاتے ہیں اور قوم کو ذلیل کرواتے ہیں وہ بھی میدان میں اتر چکے ہیں، پٹنہ کے فائیو اسٹار ہوٹل میں ان کی پریس کانفرنس کا بل کس نے ادا کیا ہوگا اسے سمجھا جا سکتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کو ورغلانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے نہ ہی عام مسلمان ان کی اپیل پر ووٹ دیتا ہے مگر ہر الیکشن میں یہ کسی نہ کسی شکل میں ووٹوں کی دلالی کرنے پہنچ جاتے ہیں کیا کبھی کسی نے کسی سکھ گرنتھی، جین منی یا بودھ بھکشو کو ووٹوں کی دلالی کرتے ہوئے دیکھا ہے، یہ خاصیت صرف ضمیر فروش طالع آزما مسلم علما کو ہی حاصل ہے، جو خود کو سیاسی طور سے بھی عقل کل سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو؟؟؟

ویسے تو بہار اسمبلی چناؤ میں غیر یقینی کے ایک بادل تو نئے گٹھ جوڑ بننے بگڑنے کے تھے جو اب چھنٹ گئے ہیں لیکن اصل کھیل شروع ہوگا نتائج کے اعلان کے بعد، خاص کر اگر مہا گٹھ بندھن اور این ڈی اے میں سے کسی کو واضح اکثریت نہ مل سکی۔ اوپندرا کشواہا جو پہلے بھی این ڈی اے کا حصہ ہی نہیں بلکہ مودی کابینہ میں وزیر بھی رہ چکے ہیں اور بی ایس پی جس سے بی جے پی کی نزدیکی کوئی پوشیدہ راز نہیں ہے، پھر پالا بدل بھی سکتی ہے، یہی حال جتن رام مانجھی کا بھی ہے جو سیاسی قلا بازی کھانے میں مہارت دکھا چکے ہیں۔ معلق اسمبلی کی صورت میں بی جے پی اپنی دولت اور سرکاری طاقت کے بل پر اقتدار حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشس کرے گی اور راج بھون اس کے ہاتھ میں تو ہے ہی۔ لیکن بہار کے انقلابی اور زبر دست سیاسی بصیرت رکھنے والے عوام اس حقیقت سے واقف ہیں اور یقین یہی ہے کہ وہ حتمی فیصلہ کریں گے اور کوئی امکان نہیں چھوڑیں گے۔

بہار اسمبلی الیکشن کے ایشوز بھی واضح ہیں 15 سال تک بر سر اقتدار رہنے کے بعد اب نتیش کمار کے پاس نیا کچھ کہنے کو بچا نہیں ہے اب وہ جو بھی وعدہ کریں گے جو بھی نیا کرنے کے لئے کہیں گے تو فطری طور سے ان سے پوچھا جائے گا کہ اب تک کیوں نہیں کیا تھا، جبکہ تیجسوی کہنے اور کرنے کے لئے بہت سے وعدے کر سکتے ہیں اگر باپ کے جرم کے لئے بیٹا ذمہ دار نہیں ہے تو بہار کے لالو کے دور کے منفی معاملات خاص کر امن عامہ کی خراب صورت حال کے لئے انھیں کیسے ذمہ دار قرار دیا جا سکتا ہے یا ان سے کیسے حساب مانگا جا سکتا ہے۔ وہ اگر روزگار دینے ریاست میں صنعت کو فروغ دینے اور ترقیاتی کاموں کا وعدہ کر رہے ہیں تو اپنی صاف شبیہ بھی دکھا سکتے ہیں جس پر کوئی داغ نہیں ہے۔

حالانکہ نتیش اور بی جے پی لالو کے دور کے نام نہاد جنگل راج کے سوال کو بار بار اٹھا رہے ہے لیکن عوام کے سامنے تیجسوی کی صاف شبیہ ہی ہے۔ دوسرے الیکشن کوئی بھی ہو چہرہ بھلے ہی نتیش ہوں لیکن اس وقت اصل موضوع تو ملک کی بد حال معیشت، بے انتہا بیروزگاری، چوپٹ کاروبار، کسانوں کی بدحالی، نئی زرعی پالیسی، غیر محفوظ سرحدیں اور بکھرتا ہوا سماجی تانا بانا ہے۔ ووٹ تو در اصل نریندر مودی کی پالیسی اور حکمرانی پر پڑیں گے، دیکھنا یہ ہے کہ بہار کے عوام جھارکھنڈ کے عوام کی طرح فسطائی طاقتوں کے تابوت میں کیل ٹھونکیں گے یا اسے کھاد پانی دے کر پنپے کا موقعہ دیں گے بہار ہو یا کسی بھی اسمبلی کا الیکشن وہ در اصل فسطائی فرقہ پرست زہریلے درخت کی شاخ کاٹنے کا بہترین موقعہ ہوتا ہے، اگر زہریلے درخت کی شاخیں کاٹ دی جائیں تو درخت خود بخود سوکھ کر گر جائے گا۔

Published: 18 Oct 2020, 11:59 PM
پسندیدہ ترین
next