کیجریوال ’عآپ‘ نے اپنی اصلیت دِکھا دی... نواب علی اختر

دہلی تشدد نہ قانون کی ناکامی ہے اور نہ ہی سی اے اے کی حمایت اور مخالفت میں جاری ٹکراؤ کا نتیجہ، یہ ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد کثرت نوازی کی اجارہ داری کو حتمی طور پر قائم کرنا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

قومی راجدھانی کے شمال مشرقی علاقے میں تقریباً 5 روزتک چلنے والے قتل و خون اورغارت گری کے بعد اب حالات سدھرتے نظر آ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ کام اسی وقت ہوسکتا تھا جب شرپسند عناصر نے برملا اپنی مذہبی منافرت کا اظہار کرنے کے لیے قانون کی دھجیاں اڑانے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ لیکن یہ شک ہوتا ہے کہ دراصل سبق ہی یہی دیا جانا تھا کہ ہم چاہیں تو تم کو مار سکتے ہیں، ہم چاہیں تو تمہیں بچا سکتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ سبق براہ راست ہندوستانی جمہوریت کے لئے ہے لیکن کیا ہمارے شہری یہ سوچنے کے قابل بچے ہیں کہ وہ اپنی جمہوریت کو ایسی بے بسی کا شکار ہونے دینا چاہتے ہیں یا نہیں؟ دہلی کا اشارہ صاف ہے۔ خطرہ صرف کچھ لوگوں کی شہریت پر نہیں، پوری جمہوریت پر ہے جس کی زد میں آج نہیں تو کل وہ بھی آئیں گے جو فی الحال غیر جانبدار ہو کر ایک طبقہ پر ہو رہے ظلم و ستم دیکھ رہے ہیں۔ دنیا کے کئی ملک اس المناک تجربے سے گزر چکے ہیں، کیا ہم بھی ایسی ہی کسی کارروائی کا انتظار کر رہے ہیں؟

کیجریوال ’عآپ‘ نے اپنی اصلیت دِکھا دی... نواب علی اختر

دہلی اور ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے لئے نہ بھارتیہ جنتا پارٹی کو کوسیں اور نہ ہی سنگھ پریوار کو، یہ سب اپنے مقاصد کو لے کر بہت ایماندار ہیں، مقصد تک پہنچنے کے لئے خواہ کتنی بھی بے ایمانی کر لیں، ایک طبقہ کے تئیں اپنی نفرت انہوں نے کبھی نہیں چھپائی اور یہ ارادہ بھی کبھی نہیں چھپایا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ اس ملک کی کثرت نوازی کو نئی طاقت دیں گے۔ دفعہ 370 ہٹانے کی بات ہو، رام مندر کی تعمیر کی بات ہو، تین طلاق کی بات ہو، این آرسی کی بات ہو، یہ سبھی بی جے پی کے منشور میں پہلے سے درج ہیں بلکہ کئی بار اس بنیاد پر ان کا مذاق اڑایا گیا کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنا ایجنڈا بھول جا رہے ہیں۔ اب وہ اپنا اعلان کردہ ایجنڈا پورا کر رہے ہیں تو اس پر آپ دکھی ہو سکتے ہیں، حیران نہیں۔ ان سب کے لیے بی جے پی سے زیادہ انہیں ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتا ہے جن ’راشٹربھگتوں‘ نے معاشرے کو تقسیم کرنے والوں کو ووٹ دے کرمسند اقتدار تک پہنچایا ہے۔

دراصل جن لوگوں نے انہیں ووٹ دیئے، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ بی جے پی اپنے دم پر اقتدار میں آئے گی تو کیا کرے گی۔ یہی نہیں جن لوگوں نے حال ہی میں دہلی میں عام آدمی پارٹی کو ووٹ دیا، ان کو بھی معلوم تھا کہ عام آدمی پارٹی دیر سویر بی جے پی کی’بی‘ ٹیم ثابت ہوگی۔ ’جے شری رام‘ کو ’جے ہنومان‘ کے نعرے سے روکنے کی اپنی حکمت عملی پر مضحکہ خیز طریقے سے اتراتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سوربھ بھار دواج اور ان کے ساتھی ٹوئٹر اور ٹی وی چینلوں کے علاوہ کہاں کہاں جا رہے ہیں، ابھی کسی کو نہیں معلوم ہے۔ سنا ہے کہ اروند کیجریوال کے گھر پہنچے کچھ ثقافتی اہلکاروں کو بھی پولس کے حوالے کر دیا گیا۔ دہلی کی 62 سیٹیں جیتنے والی پارٹی اپنے آدھے ممبران اسمبلی کو لے کر تشدد زدہ علاقوں میں اتر جاتی تو فسادیوں کے حوصلے ضرور پست ہوجاتے اور ان کی حمایت کرنے والے بھی کونہ ڈھونڈھتے نظرآتے لیکن کیجریوال نے بھی یہ ہمت تب دکھائی جب درجنوں بے گناہ تڑپتے تڑپتے دم توڑ چکے تھے۔

دراصل ایسا لگتا ہے کہ عام آدمی پارٹی سے یہ توقع ہی بے معنی ہے۔ وہ محفوظ دھرنوں کی کوکھ سے نکلی ہے اور سڑک کے تشدد کا غیر متشدد ردعمل اس نے کبھی نہیں سیکھا۔ شمال مشرقی دہلی کے کئی علاقوں کو جب تشدد اپنی زد میں لے چکا تھا، قتل وغارت گری کا بازارگرم تھا، انسانیت خون کے آنسو رو رہی تھی، تب دہلی میں رہنے والے ہرشخص کو اپنا بتا کر الیکشن جیتنے والے دہلی کے وزیراعلیٰ کیجریوال صرف ٹوئٹر کا سہارا لے کر فساد رکوانے کی کوشش کرتے نظر آئے۔ وہیں قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول شمال مشرقی دہلی کی گلیوں میں گھومتے ہوئے اور لوگوں کو دلاسہ دیتے ہوئے اپنے لئے زندہ باد کے نعرے لگوا آئے۔ ڈووال علاقے کے فساد متاثرین کے آنسو پوچھنے گئے تھے مگران کا دورہ انتخابی دورہ نظر آیا۔ متاثرین نے جب تشدد کے لیے نریندر مودی اور امت شاہ کوذمہ دارٹھہرایا توڈووال نے سخت لہجے میں کہا کہ آپ لوگ وہی بات کریں جو ہمارے کان سننے کے لیے تیار ہوں۔ ڈووال کو تھوڑی دیرکے لیے خود کوانسان ہونے کا ثبوت دینا چاہیے تھا کیونکہ وہاں وہ لوگ بھی تھے جنہوں نےخون سے سنی اپنے پیاروں کی لاشیں دیکھی تھیں اور جلائے گئے آشیانے کی راکھ پر بیٹھ کرمدد کی فریاد کر رہے تھے۔

دہلی کی عام آدمی پارٹی حکومت کو اپنے رائے دہند گان کی حفاظت کرنے کی ذمہ داری ہے لیکن اس نے حال ہی میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے رائے دہندگان کو مسائل کی نذر کر دیا ہے تو یہ اس کے لیے دیرپا ٹھیک نہیں ہے۔ وزیراعلیٰ کو فوری حرکت میں آتے ہوئے فسادیوں کے درمیان پہنچ کر پولس کی جانبدارانہ کارروائی کا برسر موقع جائزہ لینے کی ضرورت تھی لیکن کیجریوال نے خود کو صرف ٹوئٹر تک ہی محدود رکھا یہ ایک منتخب حکمراں کی افسوسناک خاموشی ہے۔ دہلی فساد کو لے کر کیجریوال کا کردارانتہائی مایوس کن رہا ہے جس پرلوگ کہہ رہے ہیں کہ ’عآپ‘ نے اپنی حقیقت دکھا دی۔ شاید اسی لیے لوگ ایک بار پھرکہنے لگے ہیں کہ آرایس ایس کے اشاروں پر دھرنے اور مظاہرے کرنے والے انّا ہزارے کے ساتھی رہے کیجریوال نے بظاہر سیکولرزم کا چولا پہن رکھا ہے لیکن جس طرح ان کا ماضی آرایس ایس نواز رہا ہے اسی طرح ان کا باطن بھی آرایس ایس کے راستے پر چلنے والا بتایا جا رہا ہے۔ اگرایسا ہے توکیجریوال کے لیے اسے نیک شگون نہیں کہا جائے گا۔

دہلی میں ہوا تشدد نہ قانون کی ناکامی ہے اور نہ ہی شہریت ترمیمی قانون کی حمایت اور مخالفت میں چل رہے ٹکراؤ کا نتیجہ، یہ ایک خالص سوچی سمجھی سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد کثرت نوازی کی اجارہ داری کو حتمی طور پر قائم کرنا ہے، لیکن یہ کام صرف اقلیتوں کو دبا کر نہیں ہو گا، اس کے لئے اس جمہوری جذبے کو ہی تباہ کرنا ہوگا جو تمام شہریوں کو یکساں سمجھتا ہے، سب کے لئے مساوی حقوق اور انصاف کی بات کرتا ہے۔

ویسے تو یہ سازش پرانی ہے لیکن حال ہی میں پڑوسی ممالک میں مذہبی استحصال کے شکار اقلیتوں کوہندوستانی شہریت دینے کے انسانی لگنے والے دلائل کے ساتھ لائے گئے شہریت ترمیمی قانون سے دوبارہ شروع ہوتی ہے۔ بڑی چالاکی سے قانون کے اندر مسلمانوں کو الگ تھلگ کرکے یہ سمجھانے کی کوشش ہوتی ہے کہ اس قانون کا ہندوستان میں رہ رہے اقلیتوں سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ ان کی شہریت کو دوسرے درجے پرپہنچانے والا پہلا قدم ہے کیونکہ پہلی بار ہندوستانی شہریت سے متعلق قانون میں مذہب کی شرط لگائی گئی ہے اور ایک مذہب کے لوگوں کو اس سے باہر کر دیا گیا ہے۔

Published: 1 Mar 2020, 7:11 PM