بی جے پی کو روکنے کے لئے سدا رمیا کا ترپ کا پتہ

سدارمیّا کا یہ بیان کہ وہ دلت وزیر اعلیٰ کے لیے اپنی دعویداری چھوڑ دیں گے دراصل ایک ایسا ترپ کا پتہ ہے جس سے کرناٹک میں جے ڈی ایس کے ساتھ حکومت بن سکتی ہے اورمرکز میں بھی بی جے پی بے دخل ہو سکتی ہے۔

کرناٹک میں کیا ووٹروں نے واضح اکثریت دی ہے؟ کیا کوئی ایک سیاسی پارٹی تنہا اپنے دَم پر حکومت بنا لے گی؟ اگر ایسا ہے تو وہ پارٹی کون سی ہوگی؟ کیا ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج سہ رخی اسمبلی کی تصویرپیش کریں گے؟ سہ رخی اسمبلی ہونے کی حالت میں کون پارٹی کس کے ساتھ جائے گی؟ یہ کچھ ایسے سوال ہیں جو اس وقت ملک کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں اور سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کرناٹک میں کس کی حکومت بنے گی؟ اور بنے گی تو کیسے بنے گی؟

ہفتہ کے روز ووٹنگ کے بعد ہوئے ایگزٹ پول کے جو نتیجے سامنے آئے ہیں اس سے تصویر صاف ہونے کی جگہ مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ ٹی وی چینلوں اور کچھ دیگر میڈیا اداروں کے ذریعہ کیے گئے 9-8 ایگزٹ پول کے نتائج میں کسی ایک پارٹی کے حق میں نتیجے آتے نظر نہیں آئے۔ کسی نے کانگریس کو مکمل اکثریت یا سب سے بڑی پارٹی بتایا تو کسی نے بی جے پی کو مکمل اکثریت یا سب سے بڑی پارٹی ہونے کی قیاس آرائی کی۔ لیکن ان سب میں ایک یکسانیت واضح تھی، وہ یہ کہ دیوگوڑا کی پارٹی جے ڈی ایس کے حصے میں آنے والی 22 سے 40 سیٹیں۔ اگر یہ اندازہ صحیح ہے تو کہا جاسکتا ہے کہ حکومت بنانے کی چابھی جے ڈی ایس کے ہاتھ میں ہوگی۔

12 مئی کو ووٹنگ کے بعد کرناٹک کو لے کر سیاسی چکر بہت تیزی سے چل رہا ہے اور سیاسی گہما گہمی اپنے عروج پر نظر آ رہی ہے۔ کانگریس اور بی جے پی دونوں ہی اپنی فتح کو لے کر بے فکر نظر آ رہے ہیں۔ اس کے باوجود دونوں خیموں میں ’پلان بی‘ پر غور و فکر جاری ہے۔ غور و فکر اس بات کو لے کر ہے کہ اگر واضح اکثریت نہیں ملی تو جے ڈی ایس کو کس بنیاد اور ایشوز پر اپنی طرف ملایا جائے گا۔

لیکن اس سے پہلے ہفتہ اور اتوار کو سامنے آئے کچھ سیاسی بیانات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہفتہ کو ووٹنگ کے دوران وزیر اعلیٰ سدارمیا مطمئن نظر آئے اور ایگزٹ پول کے نتائج کے بعد بھی ان کا یہی رخ قائم رہا۔ یہاں تک کہ انھوں نے ایگزٹ پول کو تفریح کا ذریعہ تک قرار دے دیا۔ لیکن اتوار کو ان کے اس بیان نے اس سیاسی خاموشی کو تیر کی طرح چیر دیا کہ اگر کسی دلت کو وزیر اعلی بنایا جاتا ہے تو وہ وزیر اعلیٰ عہدہ کا دعویٰ چھوڑ دیں گے۔ سدا رمیا کی یہ پیش کش ایک ایسا ترپ کا پتہ ہے جس سے کرناٹک میں کانگریس کی سیٹیں کم ہونے کے با وجود وہ جے ڈی ایس کے ساتھ حکومت بنا سکتی ہے اور ساتھ میں اس دلت کارڈ یعنی ترپ کے پتے سے وہ مرکز میں بھی مودی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کر سکتی ہے۔

سدارمیّا کے اس بیان کے بعد آناً فاناً جے ڈی ایس سربراہ ایچ ڈی دیوگوڑا کا رد عمل بھی سامنے آیا کہ اگر سدارمیّا وزیر اعلیٰ نہیں بنیں گے تو کانگریس کو جے ڈی ایس حمایت دے دے گی۔ ان کے اس بیان کو کافی اہم تصور کیا جا رہا ہے کیونکہ دیوگوڑا کی سدارمیّا سے رنجش کے سبب یہ بحث عام تھی کہ جے ڈی ایس کانگریس کے ساتھ نہیں جائے گی۔ اس درمیان ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ کرناٹک میں جے ڈی ایس سے اتحاد کرنے والی بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے بھی دیوگوڑا کو اشارہ دیا ہےکہ اگر دلت وزیر اعلیٰ کا متبادل سامنے آتا ہے تو کانگریس کو حمایت دی جائے ۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو سہ رخی اسمبلی ہونے کی حالت میں کانگریس ایک بار پھر ریاست میں برسراقتدار ہوجائے گی۔ ہاں، یہ الگ بات ہے کہ اقتدار اسے جے ڈی ایس کے ساتھ شیئر کرنا پڑے گا۔

سدارمیا کے بیان اور دیوگوڑا کے اشاروں کے بعد کانگریس نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے کہ سدارمیا نہیں تو پھر کون ہوگا وزیر اعلیٰ۔ کانگریس ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کسی دلت کو ریاست کی کمان سونپنے پر فیصلہ ہوتا ہے تو ان میں اگلی قطار میں نظر آتے ہیں سابق مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے۔ کھڑگے کرناٹک کے بیدر ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور ریاست کی سیاست میں ان کا تجربہ کافی طویل ہے۔ وہ کرناٹک کانگریس کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ 2013 میں بھی کانگریس کی فتح کے بعد وزیر اعلیٰ عہدہ کے لیے ان کے نام کا شور تھا لیکن عین موقع پر بازی سدارمیا نے مار لی تھی۔

کانگریس ذرائع کے مطابق کھڑگے کے علاوہ کرناٹک میں کانگریس کے پاس دوسرا بڑا دلت چہرہ ہیں سابق مرکز وزیر کے ایچ مُنیپّا۔ منیپّا گلبرگہ ضلع کے ہیں اور کولار سیٹ سے لگاتار سات بار ممبر پارلیمنٹ ہیں۔ یو پی اے کی دونوں حکومتوں میں وہ مرکزی وزیر بھی رہے اور اعلیٰ کمان سے نزدیکیاں بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک اور دلت چہرہ کانگریس کے پاس ہے اور وہ ہیں کرناٹک کانگریس سربراہ جی پرمیشور۔ 2013 میں کرناٹک انتخابات میں کانگریس کی جیت کا سہرا جی. پرمیشور کو بھی دیا گیا تھا، لیکن چونکہ وہ خود انتخاب ہار گئے تھے اس لیے موقع ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ کی کرسی ان کے حصے میں نہیں آئی۔ لیکن اس بار دلت چہرہ کی شکل میں ان کا نام پہلے تین دلت چہروں میں شامل ہے اور کانگریس ذرائع بتاتے ہیں کہ وہ کافی مضبوط امیدوار ہیں۔

دوسری طرف بی جے پی خیمہ میں بھی غور و فکر کا دور جاری ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ اُدھر کچھ مایوسی نظر آ رہی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگار بی جے پی کے وزیر اعلیٰ عہدہ کے دعویدار بی ایس یدی یورپا کے اس بیان کو کافی اہم تصور کرتے ہیں جس میں انھوں نے اپنی جیت کا دعویٰ کرتے ہوئے حاصل ہونے والی سیٹوں کی تعداد 150 سے گھٹا کر 125 کر دی تھی۔ سیاسی گلیاروں میں سیٹوں کی تعداد میں اتنی بڑی کمی کا اندازہ کافی معنی رکھتا ہے۔

اُدھر جے ڈی ایس مطمئن نظر آ رہی ہے۔ اسے اچھی طرح احساس ہو گیا ہے کہ ممکنہ طور پر اقتدار کی چابھی اسی کے ہاتھ میں رہے گی۔ اسی لیے ووٹنگ ختم ہوتے ہی دیوگوڑا کے بیٹے ایچ ڈی کماراسوامی سنگاپور چلے گئے۔ حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ وہ کچھ ضروری میڈیکل چیک اَپ کے لیے گئے ہیں اور شاید سوموار دیر رات تک واپس بھی آ جائیں گے۔

اس پوری قواعد اور سیاسی ہلچلوں سے جو اشارے نکلتے ہیں، وہ یہ ہیں کہ جنوب میں کمل کھلنے میں ابھی وقت ہے اور کرناٹک تاریخ رقم کرتے ہوئے اقتدار کی کمان لگاتار دوسری بار ایک ہی پارٹی کو سونپے گا۔ اور وہ دوسری پارٹی موجودہ حالات میں کانگریس ہی نظر آتی ہے۔

سب سے زیادہ مقبول