کانپور فساد: سنگ وخشت مقید اور سگ آزاد... اعظم شہاب

کانپور فساد معاملے میں مسلمانوں کو گرفتار کرنے میں یوگی کی پولیس نے جس کمال مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے اگر اس کا عشر عشیر بھی نوپور شرما کے خلاف کیا ہوتا تو یہ افسوسناک واقعہ رونما ہی نہیں ہوتا۔

کانپور فساد، تصویر آئی اے این ایس
کانپور فساد، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

کانپور فساد معاملے میں یوگی حکومت اور ان کی پولیس کا ’کوئیک ایکشن‘ دیکھ کر ’دل گارڈن گارڈن‘ ہو اٹھا۔ کمال کی مستعدی ہے، واہ یوگی جی واہ! یقین ہی نہیں ہوتا کہ یہ وہی یوپی پولیس ہے جوفائرنگ کی جگہ منھ سے ہی ٹھائیں ٹھائیں کر دیتی تھی اور وہ آواز کو سن کرملزمین فرار بھی ہوجاتے تھے۔ لیکن کانپور میں اسی پولیس نے اپنی مستعدی کا مظاہرہ کچھ یوں کیا کہ فساد میں ملوث ہونے کے الزام میں اب تک ایک بڑی تعداد کو گرفتار کرلیا اور صرف گرفتار ہی نہیں کیا بلکہ ملزمین کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کا بھی اعلان کر دیا۔ اسے کہتے ہیں پیشہ وارانہ مہارت۔ یہ الگ بات ہے کہ کانپور سے جو خبریں آرہی ہیں اس میں پولیس کی مہارت سے زیادہ ملزمین کے مذہب کو کریڈیٹ دیا جا رہا ہے۔ لیکن ہم ان خبروں کو نہیں مانتے کیونکہ یوگی جی کی پولیس ہے، وہ اگر ملزمین کو ان کے مذہب کی بنیاد پر بھی گرفتار کرتی ہے تو بھی کریڈیٹ اسے ہی ملنا چاہئے۔

لیکن اس سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یوگی جی کی حکومت کانپور میں ہوئے فساد کو فساد ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کے نزدیک یہ ’ہنسا، اُپَدرَو‘ یا ’دو سمودائے میں جھڑپ‘ ہے۔ کیونکہ یوگی جی کی ریاست میں تو فساد ہو ہی نہیں سکتے، وہ تو اکھلیش و مایاوتی کے دور میں ہوتے تھے۔ جب سے یوپی کی کمان یوگی جی کے ہاتھ آئی ہے، اترپردیش ’دَنگا رَہِت پردیش‘ یعنی فساد سے پاک ریاست بن گئی ہے۔ یوگی جی کے پہلے دور میں جب کاسگنج میں فساد ہوا تھا تو بھی اسے فساد نہیں کہا گیا تھا۔ فساد کو فساد کہہ دینے سے یوگی جی کی ’چھوی‘ خراب ہوسکتی ہے۔ لوگ مرتے ہیں مریں، مگر چھوی خراب نہیں ہونی چاہئے۔ بالکل اسی طرح جیسے کورونا سے لاکھوں لوگ مرے، لیکن آکسیجن کی کمی سے کوئی نہیں مرا۔ اس لئے یوگی جی اور ان کی پولیس اگر کانپور کے واقعے کو فساد نہیں کہہ رہی ہے تو سمجھا جاسکتا ہے۔ آخر ایسا ہو بھی کیوں نا، جب یوپی کو پورے ملک میں بی جے پی کے ذریعے ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تو پھر اس میں فساد کی کہاں گنجائش ہے؟ ہاں! اپدرو ہوسکتے ہیں اور یہ اپدرو مسلمانوں کے علاوہ بھلا کون کرسکتا ہے؟


پھربھی اگر اسے’ اُپَدرَو‘، ’ہنسا‘ یا ’دوسمودائے میں جھڑپ‘ بھی کہا جائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ اچانک ہوگیا؟ اور کیا اس میں صرف مسلمان ہی شامل ہیں؟ کیا جمعہ کی نماز ادا کرنے آنے والے مسلمان اپنے ساتھ پتھر لے کر آئے تھے اور بغیر کسی وجہ کے انہوں نے پتھراوٴ شروع کر دیا؟ اس کے دو جواب دیئے جا رہے ہیں، ایک یوپی پولیس کی جانب سے اور دوسرا وہاں کے مقامی لوگوں کی جانب سے۔ پولیس کی جانب سے کہا یہ جا رہا ہے کہ 3 جون کی دوپہر پونے دو بجے یتیم خانہ کے پاس مسجد میں جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔ ڈھائی بجے کے قریب لوگ باہر نکلے اور بازار میں کھلی دوکانوں کو بند کرانے لگے۔ ہندو دوکانداروں نے دوکانیں بند کرنے سے منع کر دیا۔ بدامنی پھیلانے والے کچھ لوگوں نے نئی سڑک علاقے میں پتھراوٴ کردیا۔ دونوں فرقے کے لوگ آمنے سامنے آگئے۔ بھیڑ کو قابو میں کرنے کے لئے 12؍تھانوں کی پولیس فورس کو بلانا پڑا۔ پولیس نے کئی راوٴنڈ فائرنگ کئے۔ لاٹھی چارج کیا۔ 5 گھنٹے کے بعد ’اُپَدرَو‘ تھما۔ 12؍ سے زائد لوگ زخمی ہوئے، اس کے بعد بیکن گنج تھانے میں 3 ؍ایف آر درج کی گئیں اور جس کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

جبکہ مقامی لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ مسلمان پرامن احتجاج کر رہے تھے کہ بیکن گنج، نئی سڑک کے پاس ان پر پتھراو ٴشروع ہوگیا۔ مسلمانوں نے بھی جواب دیا۔ اس موقع پر پولیس بھی موجود تھی لیکن اس نے مظاہرین پر پتھراوٴ کرنے اور انہیں للکارنے والوں کو روکا تک نہیں۔ ہندووٴں کی دوکانیں زبردستی بند کرانے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ اگر کچھ لوگوں نے ایسی حرکت کی ہے تو ان کے بارے میں نہ تو اس علاقے کے لوگ کچھ جانتے ہیں اور نہ ہی کوئی مسلمان جانتا ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ لوگوں کو شک ہے کہ زبردستی کرنے والے یہ لوگ کہیں باہر کے ہوسکتے ہیں۔ البتہ کچھ جگہوں پر پولیس کو پتھراوٴ کرنے والوں کے ساتھ مل کر پتھر پھینکتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔ اسی دوران کچھ لوگ اپنے موبائیل سے مسلمانوں کی ویڈیو بھی بنانے لگے۔ بعد میں پولیس نے جن لوگوں کو گرفتار کیا اور جن کے نام ایف آئی آر میں شامل کیا، ان میں وہ تمام لوگ شامل ہیں جن کی ویڈیو بنائی گئی۔ اس لئے لوگوں کو شک ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند سازش تھی جس میں مقامی بی جے پی کے لیڈروں کے علاوہ پولیس بھی شامل ہے۔


مقامی لوگوں کی باتیں بہت ممکن ہے کہ خلافِ واقعہ ہوں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس تشدد کو روکا جاسکتا تھا؟ تو پولیس نے اس کا جواب اپنی یکطرفہ کارروائی سے دے دیا ہے۔ کیونکہ جتنے لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے وہ سب مسلمان ہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ جب اس احتجاجی بند کا اعلان 3 روز قبل کیا گیا تھا تو کیا پولیس کے پاس اس کے بارے میں کوئی انٹلی جنس اِن پٹ نہیں تھا؟ اور اگر تھا تو پولیس نے خاطرخواہ انتظام کیوں نہیں کیا؟ گرفتارشدہ حیات ظفر، جاوید احمد خان، محمد ریحان اور محمد سفیان وغیرہ کو اس تشدد کا ماسٹرمائنڈ بتایا جا رہا ہے۔ ممکن ہے ایسا ہو بھی، لیکن سب سے اہم سوال یہ کہ جس وجہ سے یہ فساد ہوا، کیا اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہونی چاہئے؟ نوپور شرما کے خلاف اگر بروقت کارروائی ہوئی ہوتی تو کسی احتجاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یوں بھی مہاراشٹر میں نوپورشرما کے خلاف دو ایف آئی آر درج کرائی جاچکی ہیں۔ لیکن اگر ایسا ہوجاتا تو پھر این ایس اے میں تازگی کہاں سے آتی اور باباجی کا بلڈوزر زنگ جو پکڑ لیتا۔

انصاف پسندی کا تقاضا تو یہ تھا کہ جس طرح لکھنوٴ میں ایک مسلمان کامیڈین منورفاروقی کو ہندودیوی دیوتاوٴں کی توہین کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا جبکہ اس نے ایسا کچھ کیا بھی نہیں تھا، اسی طرح ان تمام لوگوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے تھی جو مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ مگر جس ریاست میں سنگ وخشت کو مقید کرنے اور سگ کو آزاد کرنے کی رسم چل پڑے، وہاں این ایس اے سنگ وخشت پر ہی لگے گا اور بلڈوزر بھی انہیں پر چلے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کانپور میں جو ہوا وہ انتہائی افسوسناک ہے، لیکن اس سے زیادہ افسوسناک یوگی حکومت اور ان کی پولیس کا رویہ ہے۔ اگر یہ’ اُپدرو‘ تھا جیسا کہ یوگی جی کا کہنا ہے تو پھر یہ اُپدرو یکطرفہ تو ہو نہیں سکتا۔ کیونکہ یہ عمل کوئی پاگل ہی کرسکتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے اُپدرو مچائے۔ یوگی جی کی پولیس نے اس اُپدرو پر قابو پانے کے لیے جس کمال مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے، اگر اس کا عشر عشیر بھی اس کے روکنے پر لگاتی تو بہت ممکن تھا کہ یہ افسوسناک واقعہ رونما ہی نہیں ہوتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔