وقت آ گیا ہے کہ راہل گاندھی ترجمان کی فوج کھڑی کریں...سجاتا آنندن

راہل گاندھی کانگریس ہی میں نہیں بلکہ حزب اختلاف میں ایسے لیڈر ہیں جو آر ایس ایس اور بی جے پی سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ مخالفین کو جواب دینے کے لئے ترجمان کی فوج کھڑی کریں

راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
راہل گاندھی، تصویر یو این آئی
user

سجاتا آنندن

گزشتہ سال آر ایس ایس راہل گاندھی سے ان کے 50 ویں یوم پیدائش کے موقع پر کانگریس کو تحلیل کرنے کی اپیل کر رہی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اور اس کی آئی ٹی سیل کی تمام کوششوں کے باوجود ان کا راہل گاندھی سے پیچھا نہیں چھوٹا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آج ان کے 51ویں یوم پیدائش کے موقع پر یا مستقبل میں آر ایس ایس پھر سے اسی اپیل کو دہرائے اور ہمیشہ کی طرح تمام سیاستدان، نیم لیڈران اور سیاسی پنڈت اس معاملے پر طرح طرح کے مشوریں پیش کریں۔

ان کی صلاح میں بہلانے، پھسلانے، تنگ کرنے اور یہاں تک کہ یہ باتیں بھی ہوں گی کہ راہل گاندھی کو کنارہ کشی اختیار کر لینی چاہیے اور کسی دوسرے کو کانگریس کی باگڈور سونپ کر اس کی از سر نو تعمیر کی راہ ہموار کرنی چاہیے۔ انہیں کانگریس میں دل بدل کر رہے رہنما، کانگریس کی انتخابی ہار، پارٹی کی طاقت اور قسمت سب کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ اور اس طرح وہ اس حقیقت کا اعتراف کر لیں گے کہ راہل گاندھی ہی ہیں جنہوں نے کانگریس پارٹی کو زندہ رکھا ہے اور اس کی دھمک کا بھی احساس کرا رہے ہیں۔ لہذا وہ ایسے مشورہ اس لئے دیں گے تاکہ کانگریس کی یہ دھمک ختم ہو جائے۔


لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بی جے پی-آر ایس ایس بلا شبہ یہ جانتے ہیں کہ راہل گاندھی وہ واحد لیڈر ہیں جو کانگریس ہی میں نہیں بلکہ حزب اختلاف میں ایسے لیڈر ہیں جو آر ایس ایس اور بی جے پی سے کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس دعوے پر صرف ایک ہی لیڈر کھرے اترتے ہیں اور وہ ہیں لالو پرساد یادو۔ تاہم ضعیف العمری، بیماریوں اور طویل مدت سے جیل میں قید رہنے کی وجہ سے وہ کافی کمزور ہو چکے ہیں اور بی جے پی کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہیں۔ بقیہ جماعتوں اور حزب اختلاف کے کچھ وزائے اعلیٰ نے بھی وقتاً فوقتاً بی جے پی کو کرارا جواب دیا ہے اور نریندر مودی سے طاعون کی طرح پرہیز کیا ہے۔

آر ایس ایس کے ایک مفکر نے ایک مرتبہ یہ اعتراف کیا تھا کہ آر ایس ایس نے کانگریس کے کئی لیڈران کے ساتھ رابطہ قائم کیا ہے اور موجودہ اقتدار اور قوت حکمرانی کے پیش نظر وہ کانگریس کے نظریہ سے ہٹنے کو بھی تیار ہیں لیکن راہل گاندھی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کسی طرح سنگھ سے مکالمہ کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔


آر ایس ایس اس حقیقت سے بھی بخوبی واقف ہے کہ گزشتہ تقریباً 10 سال میں راہل گاندھی کا مذاق اڑانے اور تمام طرح کی منفی تشہیر کے باوجود راہل گاندھی کی شائستگی، ان کی دانشمندی، ملک کے تئیں ان کی سرشاری، لوگوں کے ساتھ ان کے روابط اور کھری بات کرنے کی قابلیت سنگھ کی آنکھ میں ہمیشہ کانٹے کی طرح چبھتی رہی ہے۔

کانگریس از سر نو زندہ کرنے کے لئے راہل گاندھی سے الگ تھلگ ہونے کی بات کرنے والی بی جے پی کی ٹولکٹ کے وائرل ہونے سے کچھ روز قبل ہی راقم الحروف نے کانگریس کے ایک سینئر لیڈر سے بات کی تھی، جنہوں نے یہ اعتراف کیا تھا کہ دراصل سنگھ چاہتا ہے کہ راہل گاندھی الگ ہو جائیں اور کانگریس کی باگڈور کسی اور کے ہاتھ میں سونپ دیں۔ مذکورہ لیڈر نے کانگریس کے ایک مخصوص لیڈر کا نام لیا تھا، جو پہلے ہی بی جے پی کے ساتھ عوامی طور پر سمجھوتہ کر چکا ہے اور کہا تھا کہ سنگھ انہیں کانگریس کے ممکنہ صدر کے طور پر دیکھتا ہے۔ ایک لیڈر نے بی جے پی کے ساتھ لیڈر کے روابط کا یوں دفاع کیا، ’’اگر آپ کو ایک عہدہ دینے کا لالچ دیا جائے اور اسے پورا نا کیا جائے تو کیا آپ ساتھ چھوڑ کر کسی دوسری جماعت میں شامل نہیں ہو جائیں گے!‘‘


کانگریس کے کچھ لیڈران ایسے بھی ہیں جو سیاست کو ایک پیشہ کی نظر سے دیکھتے ہیں اور یہ ان کے لئے کوئی نظریہ یا ملک کی خدمت کا عزم نہیں ہے۔ جیسا کہ سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے حال ہی میں کہا تھا کہ کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونا کسی بینک کے ملازم کی طرح کام کرنا نہیں ہے، لیکن بی جے پی اور سنگھ کو ایسے ہی لیڈران پسند آتے ہیں اور اس لئے وہ ان لوگوں سے نفرت کرتے ہیں جو ان کے نظریات سے علیحدہ سوچ رکھتے ہیں۔

بی جے پی کی سوشل میڈیا ٹیم اور پرچار کی مشینری راہل گاندھی پر اس امید میں حملے جاری رکھے گی کہ شاید کچھ ہو جائے لیکن راہل گا ندھی اپنی جگہ پر جمے ہوئے ہیں اور اسی سے ان کے مخالفین کو تکلیف ہوتی ہے۔ راہل گاندھی یہاں تک اپنے دم پر پہنچے ہیں اور اپنی جرأت اور اعتماد سے آگے بڑھے ہیں۔ وہ اپنے مخالفتین پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے انتہائی سخت الفاظ کا سامنا کیا ہے لیکن ان کی خاموشی نے مخالفین کو مایوس کر دیا۔


کانگریس کے کئی ترجمان ہیں جنہوں نے کانگریس اور راہل گاندھی مخالف پرچار اور مہم کو تیکھا جواب دیا ہے اور اس سے ان کی ایک الگ شناخت بھی پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے اقتدار اور حکمران جماعت کے سامنے سچ بولنے کے لئے تمام طرح کے سوالات اٹھائے ہیں لیکن پارٹی ترجمانوں کو عام طور پر ان سوالوں کے جوابات دینے پڑتے ہیں جن کا جواب سیدھے ہاں یا نہیں میں نہیں دیا جا سکتا۔

سب کو یاد ہے کہ کس طرح مغربی بنگال میں انتخابات کے دوران وزیر اعلی ممتا بنرجی کو 'دیدی او دیدی' کہنے پر ترنمول کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کھری کھری سنائی تھی۔ مہووا موئترا نے وزیر اعظم کے لہجے پر سوال اٹھایا تھا کہ یہ سب آخر کیا تھا لیکن خود ممتا بنرجی اتنا موثر انداز میں جواب نہیں دے سکتی تھیں کیونکہ وہ پروٹوکول اور وقار کی پابند تھیں۔


کانگریس کو مہووا موئٹرا جیسے تیز طرار رہنماؤں کی ضرورت ہے جو کسی بھی طنز اور تقریر کے حملوں کا اسی لہجے میں جواب دے سکیں۔ نصف پنڈت اور نصف سیاستدان صرف ایک ہی زبان سمجھتے ہیں، وہ زبان جس میں وہ خود بات کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں راہل گاندھی کو اس وقت صرف ایسے ذاتی ترجمان کی ضرورت ہے جو تیز ہو اور کھری کھری سنا سکے۔

سال 1988 میں امریکی صدارتی انتخابی مہم کے دوران جارج ایچ ڈبلیو بش کی ریپبلکن مہم نے مائیکل ڈوکاسس پر بھاری حملہ کیا تھا اور ان کے یونانی نژاد ہونے کی تضحیک کرتے ہوئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔ ڈوکاسس نے ان الزامات کا جواب نہیں دیا، انہیں یقین تھا کہ ایسا کرنا مناسب نہیں ہوگا اور لوگ ان کے اس عمل کو سمجھیں گے۔ بدقسمتی سے لوگوں کو سمجھ میں نہیں آیا اور بہتر امیدوار ہونے کے باوجود ڈوکاسس بش سے انتخاب ہار گئے۔


وہیں، بش کے خلاف میدان میں اترنے والے بل کلنٹن نے اگلے ہی انتخاب میں بش کی اس چال کو سمجھ لیا اور ترجمان کی ایسی فوج میدان میں اتار دی جو ہر الزام کا ترکی بہ ترکی جواب دیتی تھی۔ اس کا لوگوں پر اثر ہوا اور بش کو انتخابات میں شکست ہوئی۔ کانگریس کے اندر اور باہر مخالفین کو جواب دینے کے لئے راہل گاندھی کو خود کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔

(یہ کالم نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔