آزادی کی 75 ویں سالگرہ اور ہمارے پردھان سیوک جی!... اعظم شہاب

’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ کی باسی کڑھی کو بگھار دے کر پہلے تو اس میں’سب کا وشواس‘ جوڑا، لیکن جب اس سے بات نہیں بنی تو اس بار اس میں ’سب کا پریاس‘ جوڑ دیا، تاکہ حکومتی ناکامیوں کو عوام کے سر منڈھا جاسکے۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

وطن عزیز میں ہر سال ایک مرتبہ یوم آزادی کے دن پرچم کشائی کی تقریب ہوتی ہے لیکن 75 ویں سال میں یہ عمل دوبار ہوگیا۔ اس کے لیے وزیر اعظم دوہری مبارکباد کے مستحق ہیں اور ساری قوم ان کا شکریہ ادا کر رہی ہے۔ 15؍ اگست یعنی یوم آزادی کے دن تو وزیر اعظم نے لال قلعہ پر ترنگا پرچم لہرایا۔ یہ ان کا حق تھا اور انہوں نے اس بار ڈیڑھ گھنٹے تک سمع خراشی فرما کر خود اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا، کیونکہ پنڈت جواہر لال نہرو کا ریکارڈ تو وہ پہلے ہی توڑ چکے ہیں۔ لیکن دونوں میں ایک فرق ہے۔ پہلے وزیر اعظم کی تقریر کو دنیا بھر کے لوگوں نے حوالے کے طور پر ہزاروں مرتبہ پیش کیا ہے جبکہ مودی جی کی کسی تقریر کا حوالہ تو ان کے پرم بھکت امت شاہ تک نے بھی کبھی نہیں دیا ہوگا۔ اس لیے کہ وہ بھی کسی انتخابی تقریر کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتی۔ سچائی یہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی جب بھی منہ کھولتے ہیں، چاہے وہ ایوان پارلیمان ہو یا لال قلعہ ہو، تو وہ ایک انتخابی تقریر ہی ہوتی ہے۔

پچھلے سال وزیر اعظم نے بنگال کا انتخاب جیتنے کی خاطر رابندر ناتھ ٹیگور کا بھیس بدل کر لال قلعہ سے تقریر کی تھی لیکن وہ داؤ نہیں چلا۔ اس بار جموں و کشمیر انتخاب کی تیاری ہے اس لیے وادیٔ کشمیر کے اندر بڑے بڑے برقی پردے لگا کر اسے نشر کیا گیا، لیکن اسے سننے والا سوائے حفاظتی دستے کے کوئی اور نہیں تھا۔ بلکہ یہ حفاظتی دستہ بھی خود تقریر سننے نہیں آیا تھا بلکہ وہ اپنی ڈیوٹی بجا رہا تھا اور اگر یہ انتظام نہ ہوتا تو ممکن ہے لوگ انہیں اکھاڑ کر لے جاتے۔ 2014 میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ نعرہ لگا کر انتخاب جیتا، لیکن پانچ سال حکومت کرنے کے باوجود نہ تو وہ سب کو ساتھ لے سکے اور نہ کسی کا وکاس (ترقی) کرسکے۔ اس میں اڈانی اور امبانی کی حیثیت استثنائی ہے جن کو انہوں نے مالا مال کر دیا۔ 2019 میں انتخاب جیتنے کے بعد انہیں اپنے سیاسی وارث امت شاہ کا خیال آیا اور انہوں نے امت شاہ کی ترقی کرکے انہیں وزیر داخلہ بنا دیا۔


اس طرح سرکار کی امور خانہ داری ایک بنیا کو سونپ دی گئی تاکہ کفایت شعاری سے کام ہو۔ لیکن شاہ جی نے سرکاری خزانے پر مال مفت دلِ بے رحم کا معاملہ کرتے ہوئے ایوان پارلیمان اور وزیر اعظم کی نئی رہائش پر ہزاروں کروڑ خرچ کرنے کا ارادہ کرلیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ نے جب کورونا سے مرنے والوں کو معاوضہ دینے کا حکم دیا تو سرکاری وکیل یہ کہہ کر معذرت چاہی کہ ایسا کرنے سے خزانہ خالی ہو جائے گا، لیکن زمینی آفات مثلاً ایوان پارلیمان یا رام مندر کے لیے حکومت کے پاس روپیوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔ 2019 میں دوبارہ منتخب ہونے کے بعد وزیر اعظم کو محسوس ہوا کہ ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ اب پرانا ہوچکا ہے اس لیے اس باسی کڑھی کو بگھار دینے کی خاطر اس میں سب کا وشواس (اعتماد) کا اضافہ کیا گیا۔ قدرت کا کرنا یہ ہوا کہ ایک سال بعد یومِ آزادی کورونا کے دور میں آئی اور حکومت کی نااہلی اور بدانتظامی کے سبب عوام کا اعتماد متزلزل ہوگیا۔ دوسری لہر کے دوران گنگا میں بہنے والی لاشوں نے حکومت کو منہ دکھانے لائق نہیں چھوڑا۔ اس بار لیپا پوتی کی خاطرحکومت کے کام کاج میں وسعت کے بجائے نعرے کو وسیع کرکے اس میں سب کا پریاس( کوشش) کا اضافہ کر دیا گیا۔

یہ بڑی شاطرانہ چال ہے کہ اگر آگے کوئی کام نہ ہو تو اس کے لیے عوام کو موردِ الزام ٹھہرا کر اعلان کردیا جائے کہ تم لوگوں نے خاطر خواہ محنت ہی نہیں کی اس لیے کام نہیں ہوا۔ خیر مودی جی کے اب دو مواقع اور ہیں اس لیے جو مرضی ہو اضافہ کریں۔ 2024 میں اول تو وہ انتخاب جیتیں گے نہیں اور اگر کوئی کھیل تماشہ کرکے جیت بھی گئے تب بھی انہیں 74 سال کی عمر میں شاہ جی مارگ درشک منڈل کا راستہ دکھا کر سیاسی سنیاس پر بھیج دیں گے۔ اس لیے مودی جی ان دو سالوں میں اپنے سارے ارمان نکال لیں، کیونکہ آگے کا کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا ہے۔ اس لیے کہ جو سلوک انہوں نے اپنے گرو لال کرشن اڈوانی کے ساتھ کیا ہے بعید نہیں کہ کل کو امت شاہ بھی ان کے ساتھ وہی رویہ اختیار نہیں کریں گے۔ ویسے بھی سیاست کی دنیا میں کوئی کسی کا مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا۔ خود وزیر اعظم نے اس بار روایت شکنی کرتے ہوئے جنگ آزادی کے شہیدوں کو یاد کر تے ہوئے مہاتما گاندھی، نیتا جی سبھاش چندر بوس، بھگت سنگھ، رام پرساد بسمل، اشفاق اللہ خاں، رانی لکشمی بائی کے ساتھ پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی یاد کیا، حالانکہ کل تک وہ ملک کے سارے بگاڑ کے لیے اولین وزیر اعظم کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔


وزیر اعظم نے جنگ آزادی کا ذکر کرتے ہوئے جب کہا کہ ’جیت ہار تو ہوتی رہی لیکن دل میں بسی آزادی کی خواہش نے کبھی دم نہیں توڑا‘ تو ایسا لگا کہ وہ جنگ آزادی کی نہیں کسی انتخابی مہم کی بات کر رہے ہیں۔ ویسے چونکہ سنگھ پریوار نے کبھی آزادی کی جدوجہد میں حصہ ہی نہیں لیا اس لیے کیا پتہ کہ وہاں ہار ہوئی ہی نہیں۔ خیر جن کے اعصاب پر انتخاب سوار ہو ان کی زبان سے ایسا ہی کچھ نکلتا ہے۔ ہاں تو بات شروع ہوئی تھی اس بار لال قلعہ پر دوبار پرچم لہرانے کی، تو اس سال یوم جمہوریہ یعنی 26؍جنوری کو وزیر اعظم سے قبل ان کے ایک دوست دیپ سندھو نے یہ کام کر دیا۔ وزیر اعظم کے ساتھ دیپ سندھو کی تصاویر ذرائع ابلاغ میں شائع ہوچکی ہیں، جس میں بی جے پی رکن پارلیمان سنی دیول بھی موجود ہیں۔ دیپ سندھو نے یوم جمہوریہ کے موقع پر لال قلعہ پر جو پرچم لہرایا وہ ترنگا نہیں بلکہ سکھوں کا مذہبی جھنڈا نشان صاحب تھا۔ اس کے باوجود وزیر اعظم سے اس کی قربت کے پیش نظر اول تو پولس نے اس کو گرفتار نہیں کیا اور بعد گرفتاری ایسی کمزور دفعات لگائیں کہ ضمانت مل گئی۔ اس لیے وزیر اعظم کو دوہری مبارکباد۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔