عمران اقتدار سے باہر ہوئے ہیں، لیکن سیاست کے میدان سے نہیں... سید خرم رضا

اس حقیقت سے کوئی چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ تمام ہتھکنڈوں اور سیاسی ڈراموں کے ذریعہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والوں کو اکیلے عمران خان نے پسینے چھڑا دیئے۔

عمران خان کی فائل تصویر آئی اے این ایس
عمران خان کی فائل تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

پاکستان کا سیاسی ڈرامہ ختم۔ عمران کے تمام باؤنسر اور یارکر شہباز شریف کو وزیر اعطم بننے سے نہیں روک پائے اور نہ ہی عمران خان کی تیسری اہلیہ پیرنی بی بی بشریٰ کے جن اور جادو ٹونے ان کے شوہر عمران خان کا اقتدار بچا پائے۔ دراصل عمران خان یہ بھول گئے تھے کہ ان کو جو فوج اقتدار میں لائی تھی پاکستان میں اقتدار کی چابی اسی کے ہی پاس رہتی ہے۔ پتہ نہیں عمران خان جو برسوں سے نئے پاکستان کا خواب بیچ رہے تھے اور اس کے لئے انہوں نے بیویاں بدلنے سے لے کر تمام کام کئے لیکن ان کو اقتدار کی کرسی اسی وقت ہی ملی جب فوج نے ان کے لئے فیلڈنگ سجائی۔

اس حقیقت سے بھی کوئی چشم پوشی نہیں کر سکتا کہ تمام ہتھکنڈوں اور سیاسی ڈراموں کے ذریعہ عمران خان کو اقتدار سے بے دخل کرنے والوں کو اکیلے عمران خان نے پسینے چھڑا دیئے۔ آج کی تاریخ میں پاکستانی سیاست میں عمران خان اور ان کی پارٹی ایک طرف ہے، جبکہ فوج سمیت باقی تمام سیاسی قووتیں دوسری طرف کھڑی ہیں۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ عمران کی مخالفت میں تمام سیاسی قووتیں ایک ساتھ کھڑی ضرور ہیں لیکن ماضی میں وہ ایک دوسرے کی سخت مخالف رہی ہیں۔ عمران کے خلاف جو سیاسی اتحاد بنا ہے اس کی دو سب سے بڑی اور اہم پارٹیاں یعنی مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کی سیاست ہی ایک دوسرے کی مخالفت میں پروان چڑھی ہے۔


جس دن سے پاکستان میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوئی تھیں اس دن سے یہ حقیقت سب پر عیاں تھی کہ عمران خان کا جانا طے ہے لیکن عمران خان کی سابقہ زندگی کو دیکھتے ہوئے کوئی یہ بات کہنے کے لئے تیار نہیں تھا کیونکہ اس بات کا سب کو اندازہ تھا کہ وزیر اعظم کے طور پر ان کے پاس متبادل چاہے ختم ہو گئے ہوں لیکن بطور کپتان ان کے ذہن میں کیا ہے اس کا اندازہ لگانا بہت مشکل تھا۔ عمران نے اپنے فیصلوں سے یہ ثابت بھی کر دیا۔ انہوں نے ہر گیند کو اس کی میرٹ کے حساب سے کھیلا اور حزب اختلاف کو حزب اقتدار بننے میں جو بھی رکاوٹیں کھڑی کر سکتے تھے وہ انہوں نے کھڑی کیں۔ عمران نے جہاں رات کو عدالت کے دروازہ کھلوا دیئے وہیں فوج کو آخری گیند تک پریشان کیا۔ انہوں نے ان دنوں کے دوران شہباز شریف، زرداری اور بلاول کو چین سے سونے نہیں دیا۔

یہ آنے والا وقت طے کرے گا کہ بر سر اقتدار اتحاد انتخابات تک کتنا متحد رہے گا اور عمران خان کتنے دن تک عوام میں بیرونی طاقت کی سازش یعنی امریکہ کو عوام میں پاکستان دشمن بنائے رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے جو اپنے لئے موقف تیار کیا ہے اس سے ان کو انتخابی فائدہ ملنا یقینی ہے، بشرطیکہ ان کے مخالفین ان کی شبیہ کو خراب کرنے میں کتنے کامیاب ہوتے ہیں۔ آج کے دن امریکہ، فوج اور سیاسی پارٹیاں عمران کی دشمن بن کر سامنے ہیں اس لئے وہ کس حد تک اپنے موقف اور اپنی شبیہ کو بچانے میں کامیاب ہوتے ہیں یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا۔


پاکستانی سیاست میں عمران کی آمد سے پہلے دو ہی سیاسی طاقتیں ہوتی تھیں یا یوں کہئے کہ دو ہی خاندان ہوتے تھےایک بھٹو خاندان اور دوسرا شریف خاندان۔ تین سیاسی قووتوں کے میدان میں آ جانے سے پاکستانی فوج کے مزے آ گئے ہیں۔ اب فوج کو کوئی بھی طاقت آنکھے نہیں دکھا سکتی، کیونکہ فوج کے پاس دو سیاسی قوتوں کو ڈرا دھمکا کر اور اقتدار کا لالچ دے کر اپنے ساتھ رکھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ اس سارے سیاسی ہنگامہ کے بعد عمران خان اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بھی ایک بڑی طاقت بن گئے ہیں، وہیں فوج کو دونوں پرانی سیاسی قوتوں کی مضبوطی درکار ہے اس لئے آنے والے دن پاکستانی سیاست میں بہت اہم اور تاریخی ہونے والے ہیں۔

شریف اور بھٹو خاندان کے علاوہ پاکستانی فوج نے اگر عمران خان کو ایک بھی کمزور گیند پھینک دی، تو انہیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ عمران چھکا مارنے میں چوکیں گے نہیں، اس لئے کوئی بھی طاقت عمران خان کو ہلکے میں نہ لے۔ عمران خان نے کرکٹ کی دنیا سے 1987 میں ریٹائرمنٹ لے لیا تھا، لیکن 1992 میں ضیاءالحق کے کہنے پر انہوں نے اپنی ریٹائر منٹ ختم کر کے 1992 کے عالمی کپ کے لئے پاکستانی ٹیم کی کپتانی کی باگ ڈور سنبھال لی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جس کھلاڑی نے ریٹائرمنٹ لے لی تھی اس نے پاکستان کو پہلا عالمی کپ جتا دیا۔ وہ الگ بات ہے کہ اس شاندار اور تاریخی فتح کے بعد عمران نے اپنے خطاب میں کسی ساتھی کھلاڑی کا نام نہیں لیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔