عامر کہیں تو ’غدار‘، کنگنا بولیں تو ’راشٹر بھگت‘... نواب علی اختر

سوشانت کی موت کے بعد کی کہانی جیسے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔ حکومت بھی خوش ہے کوئی ان سے معیشت، بے روزگاری اور کورونا وائرس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

نواب علی اختر

دنیا کو تفریح کا سامان مہیا کرنے والے بالی ووڈ میں ہر روز ایک نیا تماشا سامنے آ رہا ہے اور اس تماشے کو دکھانے کی ذمہ داری کچھ نیوز چینل بخوبی نبھا رہے ہیں۔ تماشے کے مرکزی کرداروں میں بدقسمتی سے سوشانت سنگھ راجپوت اور ان کی معشوقہ ریا چکرورتی ہیں اور کھلنائک کے کردار میں کنگنا راناوت ہیں۔ اس تماشے کے ہدایت کار اور پروڈیوسر کون ہیں اس پر خاموشی ہی میں عافیت ہے۔ سوشانت کی موت کو تماشا اور چکرورتی کو ملزم بلکہ ’مجرم‘ بنا کر پیش کرنے میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے جو کردار ادا کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کہانی میں کنگنا کی انٹری سیاست اور ذاتی مفادات سے متاثر ہے۔

فلم ہدایتکار کرن جوہر پر الزامات سے لے کرسوشانت کی موت پر میڈیا میں دھاڑیں مارنے اور ممبئی میں حکمراں شیو سینا چیف اودھو ٹھاکرے کو للکارنے تک کنگنا نے جس تیزی اور بے باکی سے اپنا کردار نبھایا ہے اس پر سوشل میڈیا اور خود بالی ووڈ میں مختلف طرح کی آرا سامنے آ رہی ہیں۔ اسی دوران ممبئی میں حکام کی جانب سے کنگنا کے دفتر کا کچھ حصہ مسمار کیے جانے کے بعد جو ہنگامہ ہوا اس کے بعد کنگنا وزیر داخلہ امت شاہ کی پناہ میں پہنچ گئیں۔ وزیرداخلہ کو ٹوہٹ کر کے کنگنا نے کہا کہ انھیں ’ممبئی میں ڈر لگتا ہے‘۔ جواب میں وزیر داخلہ امت شاہ نے چشم زدن میں انھیں وائی کیٹیگری کی سیکورٹی فراہم کروا دی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جب معروف اداکار عامر خان نے اپنی اہلیہ کرن راو کے حوالے سے کہا تھا کہ انھیں ہندوستان میں عدم برداشت کے موجودہ ماحول سے ڈر لگتا ہے تو بی جے پی کے رہنماوں نے انھیں پاکستان جانے کی صلاح دے ڈالی تھی۔ یاد رہے کہ عامرخان کا رد عمل عدم برداشت کے اس ماحول کو لے کر تھا جب حکومت کے خلاف بولنے والے کو ’سزا‘ دینے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور حکومت کے خلاف بیان بازی کرنے والے کو ’دیکھتے ہی گولی مارنے‘ کی طرح جھٹ سے غدار قرار دے دیا جاتا تھا۔ اس ماحول سے عاجز آکر دانشوروں، صحافیوں اور اداکاروں نے حکومت کو اپنے اعزازات لوٹا دیئے تھے۔

کنگنا گزشتہ چند برسوں سے دائیں بازو کے نظریات کی کھل کر حمایت کر رہی ہیں اور اپنے بعض متنازعہ بیانات کے سبب سرخیوں میں رہی ہیں۔ موجودہ تنازع کی ابتداء راجپوت کی خود کشی کے بعد ہوئی تھی لیکن شدت اس وقت آئی جب چند روز قبل کنگنا نے ممبئی کا موازنہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر (پی او کے) سے کیا اور کہا کہ یہ شہر غیر محفوظ ہے۔ آپ کے سامنے مزے دار بالی ووڈ کی کرائم کہانی ہے جس میں ایک خوبصورت خاتون کو بھی لے آیا گیا ہے۔ یہ کہانی جیسے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے ہی بنائی گئی ہے۔ حکومت بھی خوش ہے کہ کوئی ان سے معیشت، بے روزگاری اور کورونا وائرس کے بارے میں نہیں پوچھ رہا ہے۔

ویسے کنگنا اپنی جگہ کافی اہم ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کنگنا اس وقت مرکزی حکومت کے لیے بہت کارآمد ثابت ہو رہی ہیں کیونکہ ملک میں ریکارڈ توڑ بے روزگاری، مسلسل گرتی ہوئی معیشت اور کورونا کے معاملے میں امریکہ سے مقابلے کے درمیان سوشانت کا معاملہ، ریا چکرورتی کی گرفتاری اور کنگنا کا ہنگامہ غالباً حکومت کے لیے اس وقت ’مردہ جسم میں جان‘ ڈالنے کا کام کر رہا ہے۔ ملک میں سلگتے مسائل سے دھیان بھٹکا کر عوام کو بے خبر اور’غیرضروری‘ تنازعہ میں مصروف بھی تو رکھنا ہے۔

کسی نوجوان سلبریٹی کی موت دنیا میں کہیں بھی بڑی خبر ہوگی مگر بالی ووڈ کے اسٹار سوشانت کی موت اور ان کی معشوقہ ریا چکروتی پر شدید تنقید ٹی وی پر پرائم ٹائم پر چھائی ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کہیں یہ کہانی ایک قومی بحران کے وقت زیادہ اہم معاملہ سے توجہ تو نہیں ہٹا رہی۔ میڈیا کی توجہ اس کہانی پر جون میں مرکوز ہوئی جب سوشانت اپنے گھر میں مردہ پائے گئے۔ اس کیس کے گرد یہ میڈیا سرکس ایک ایسے وقت پر سامنے آ رہا ہے جب ملک کو متعدد اہم معاملات کا سامنا ہے۔ گزشتہ پیر کو حکومت نے اقتصادی اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ سرکاری رپورٹ کے مطابق جون تک کے تین ماہ میں ملک کی معیشت 23.9 فیصد رہی جو کہ 1996 کے بعد (جب سے حکومت نے یہ ڈیٹا جاری کرنا شروع کیا ہے) بدترین سہ ماہی ڈیٹا ہے۔ اس میں زیادہ بڑی وجہ کورونا وائرس کی عالمی وبا ہے۔

مگر زیادہ تر ٹی وی چینل ان موضوعات کو اہمیت نہیں دے رہے ہیں۔ ایک چینل پر جب ایک تجزیہ کار نے معیشت کی بات کی تو انھیں خاموش کروا دیا گیا۔ تجزیہ کار نے کہنا شروع کیا کہ ’معیشت 23.9 فیصد سکڑ گئی ہے اور میں اس حوالے سے اپنے خدشات ریکارڈ کروانا چاہتا ہوں۔‘ یہاں پر میزبان نے ان کی بات روکی اور چیخ کر کہا کہ اگر آپ کو یہ بحث اتنی ہی بری لگتی ہے تو آپ اس کا حصہ ہی نہ بنیں۔ ہمارا، اپنا، قوم، ناظرین اور میرا وقت ضائع نہ کریں۔ میزبان پھر کہنے لگے کہ جاؤ جاؤ اور اگر تمہیں جی ڈی پی کے بارے میں جاننا ہے تو کل کے اخبار پڑھ لینا۔

دیگر چینلوں پر بھی ایسے مکالمے دیکھے گئے ہیں جہاں ٹی وی کے میزبانوں کا کہنا ہے کہ سوشانت کی موت ہمارے زمانے کی سب سے بڑی کہانی ہے۔ منگل کو ریا چکرورتی کی گرفتاری کے بعد ایک پریزنٹر نے بڑے فخر سے کہا کہ ان کے چینل نے اس کہانی پر 2000 گھنٹے لگائے ہیں۔ آخر سوشانت کی موت کو اس قدر توجہ کیوں دی جا رہی ہے اور ریا چکروتی پر اتنی تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی سب سے واضح وجہ سیاست ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ چینل جو سوشانت کی کہانی کو اتنی زیادہ توجہ دے رہے ہیں وہ مودی اور بی جے پی کے بڑے حامی ہیں۔

بی جے پی نے شیو سینا کے ایک وزیر پر اس کیس میں ملوث ہونے کا الزام لگایا ہے۔ ممبئی کی صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ شیو سینا کی حکومت گرانے میں بی جے پی نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے کیونکہ بھگوا پارٹی کو یہ بات ہضم نہیں ہو پا رہی ہے کہ اس کی سابق حلیف شیوسینا انتہا پسندانہ سیاست چھوڑ کر کانگریس اور این سی پی کی رہنمائی میں ’سیکولر‘ سیاست کی راہ پرگامزن ہوگئی ہے۔ اسی لئے پہلے وہ شیوسینا کی ساکھ خراب کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ مقبولیت کھو دیں۔ اسی لیے وہ کہانی کو چلنے دے رہے ہیں۔ یہ کہانی لوگوں کی توجہ بانٹے ہوئے ہے اور یہی حکومت کے فائدے میں ہے۔ اس تمام معاملے میں ابھی تک جو ہوا وہ سب کے سامنے ہے، آگے کیا کچھ ہوگا یہ کہنا مشکل ہے ہاں اتنا کہا جا سکتا ہے ’پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست۔‘

Published: 13 Sep 2020, 6:09 PM
next