بی جے پی اور سنگھ پریوار کی منافقت... سہیل انجم

نریند رمودی کی قیادت میں بی جے پی نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر اہم بنا دیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس والے مسلمانوں کے نام پر ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں

پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
پی ایم مودی، تصویر یو این آئی
user

سہیل انجم

بات چیف جسٹس آف انڈیا کے تبصرے سے شروع کرتے ہیں۔ انھوں نے گزشتہ دنوں تبلیغی جماعت پر کورونا پھیلانے کے الزام کے حوالے سے کہا کہ میڈیا خبروں کو بہت زیادہ فرقہ وارانہ رنگ دے کر پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے دنیا میں ہندوستان کا نام بدنام ہوتا ہے۔ انھوں نے الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کے رویے پر بہت سخت تنقید کی اور کہا کہ خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے والو ں کے خلاف حکومت کو کارروائی کرنی چاہیے۔

تبلیغی جماعت کے حوالے سے میڈیا رپورٹنگ پر ملک کی مختلف عدالتیں انتہائی سخت تبصرے کر چکی ہیں۔ سپریم کورٹ سے لے کر نچلی عدالتوں تک نے تبلیغی جماعت پر عاید کیے جانے والے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور ان کے رضا کاروں کے خلاف درج ایف آئی آر خارج کی ہیں۔ انھوں نے میڈیا کو بارہا لتاڑا اور اسے ملک کا ماحول خراب نہ کرنے کی نصیحت کی ہے۔ لیکن میڈیا کے رویے میں کوئی فرق نظر نہیں آرہا ہے۔ اگر چہ اس نے تبلیغی جماعت کے حوالے سے اپنی خطرناک اور بدترین رپورٹنگ کا سلسلہ بند کر دیا ہے لیکن اس کی مسلم مخالف مہم ابھی بھی ختم نہیں ہوئی ہے۔


چیف جسٹس نے کہا کہ تبلیغی جماعت کے تعلق سے جو فرقہ وارانہ رپورٹنگ ہوئی اس سے دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ لیکن صرف اسی وجہ سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے اور بھی چیزیں ہیں جو ہندوستان کی بدنامی کا سبب بن رہی ہیں۔ میڈیا کو اب ایک نیا ہتھیار مل گیا ہے۔ یعنی طالبان نامی ہتھیار۔ وہ اب طالبان کی آڑ میں ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر کہیں کسی مسلمان کی جانب سے کوئی ایسا بیان سامنے آگیا جس سے طالبان کی حمایت کا ہلکا سا بھی پہلو نکلتا ہو تو اس کا ہوا کھڑا کر دیا جاتا ہے اور تل کا تاڑ بنا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ تمام مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے۔

حالانکہ عام مسلمانوں کی جانب سے طالبان کی قطعاً حمایت نہیں کی گئی ہے۔ اگر چند ایک لوگوں نے کوئی ایسا بیان دیا ہے کہ اس سے طالبان کی حمایت کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک کے مسلمان ویسا ہی سوچتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی امن پسندی اور حب الوطنی پر شک کرنے والے خود محب وطن نہیں ہیں۔ خواہ وہ بی جے پی کے لوگ ہوں یا آر ایس ایس کے یا پھر حکومت میں شامل لوگ۔ ان لوگوں کی جانب سے یہ مطالبہ کرنا کہ مسلمان طالبان کی مذمت کرنے والا بیان دیں سراسر غلط اور ناپسندیدہ موقف ہے۔


یہاں یہ ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف مسلمانوں سے ایسی توقع رکھی جا رہی ہے کہ وہ طالبان کی مذمت کرنے والا بیان جاری کریں اور دوسری طرف خود حکومت ہند طالبان سے مذاکرات کر رہی ہے۔ دوحہ میں ہندوستان کے سفیر دیپک متل کی طالبان کی سیاسی قیادت کے سربراہ شیر محمد عباس استانکزئی سے ملاقات کو آخر کیا نام دیا جائے گا۔ ایک طرف حکومت ان سے رابطہ کر رہی ہے اور ٹھیک ہی کر رہی ہے۔ کیونکہ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہندوستان طالبان کے ساتھ روابط قائم کرے تاکہ افغانستان میں ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔

دوسری طرف آر ایس ایس اور بی جے پی کی جانب سے طالبان کی آڑ میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صرف خبروں کو فرقہ وارانہ رنگ میں پیش کرنے سے ہندوستان کی بدنامی نہیں ہو رہی ہے بلکہ طالبان کی آڑ میں ملکی ماحول کو فرقہ واریت کے رنگ میں رنگنے سے بھی ہو رہی ہے۔ لیکن یہ حکومت، آر ایس ایس اور بی جے پی کی منافقت ہے کہ ایک طرف حکومت طالبان سے رابطہ قائم کر رہی ہے اور دوسری طرف مذکورہ عناصر طالبان کے نام پر مسلم دشمن ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


دراصل یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حکومت جب سے آئی ہے وہ اپنا ہر قدم انتخابی فائدے کو ذہن میں رکھ کر اٹھا رہی ہے۔ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد گجرات کے سومناتھ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک پروگرام میں بولتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی بنیاد پر کوئی حکومت قائم تو کی جا سکتی ہے لیکن وہ تادیر نہیں چل سکتی۔ ان کا براہ راست اشارہ طالبان کی طرف تھا اور اس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانا تھا۔ ایسا بیان دینے کی وجہ اترپردیش سمیت ملک کی پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات ہیں۔ ظاہر ہے جب اس قسم کے بیانات دیئے جائیں گے تو ان کا اثر عوام پر پڑے گا اور وہ ایک خاص ذہن بنانے کی کوشش کریں گے۔

آسام پولیس کی کارروائی کو اسی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس نے چودہ مسلمانوں کے خلاف یو اے پی اے لگا دیا اور انھیں گرفتار کرکے جیلوں میں ڈال دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ ان مسلمانوں نے طالبان کی حمایت کی تھی۔ اور چونکہ پولیس کی نگاہ میں طالبان دہشت گرد ہیں اس لیے ان مسلمانوں نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے۔ اگر کسی مسلمان نے دہشت گردی کی حمایت کی ہے تو اس کی تائید نہیں کی جا سکتی۔ لیکن سوال یہ ضرور اٹھتا ہے کہ کیا مسلمانوں کے بیانات اتنے خطرناک تھے کہ ان پر یو اے پی اے جیسا سنگین قانون لگا دیا جائے۔


ایک طرف نریند رمودی کی قیادت میں بی جے پی نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر غیر اہم بنا دیا ہے اور دوسری طرف بی جے پی اور آر ایس ایس والے مسلمانوں کے نام پر ملک میں فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب مسلمانوں کے ووٹوں کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے تو پھر ان کے نام پر ہندووں کے ایک بڑے طبقے کے ذہن کو خراب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ 2014 اور پھر 2019 میں مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر بھی بی جے پی کو زبردست اکثریت حاصل ہوئی۔ اس نے سیکولر ووٹوں کو بھی غیر اہم بنا دیا تو پھر اس منافقت کی کیا ضرورت ہے۔

اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ سنگھ پریوار کو ایک دشمن چاہیے جس کا ہوا کھڑا کرکے ہندووں کے ایک طبقے کو ڈرایا جائے، ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جائے اور پھر ان کے ووٹوں پر قبضہ کیا جائے۔ سنگھ پریوار کیوں نہیں مسلمانوں کو چھوڑ دیتا کہ وہ اپنے طور پر جو کرنا چاہیں کریں۔ اس نے ان کی سیاسی حیثیت بھی ختم کر دی اور ان کو انتخابی میدان میں زندہ بھی رکھا ہے۔ سنگھ پریوار اور خاص طور پر بی جے پی اور اس کے حامیوں کو یہ منافقت چھوڑنی ہو گی۔ لیکن کیا وہ اس کے لیے تیار ہیں۔ ہرگز نہیں۔ کیونکہ یہ منافقت ہی اس کو سیاسی طور پر مضبوط بنا رہی ہے۔ آج طالبان کا ایشو ہے کل کوئی اور ایشو آجائے گا۔ اگر آئے گا نہیں تو پیدا کیا جائے گا۔ تاکہ ایک نام نہاد دشمن کھڑا کرکے ہندووں کے بڑے طبقے کو ورغلایا جائے اور ووٹوں کی فصل کاٹی جائے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 05 Sep 2021, 10:40 PM