ہائے اس زودِ پشیماں کا پشیماں ہونا... اعظم شہاب

دھرم سنسد میں کی جانے والی بدمعاشی پر اگر شروع میں ہی اقدام کرتے ہوئے ملزمین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا تو عالمی سطح پر ایسی بدنامی نہیں ہوتی جو اب تک ہو رہی ہے۔

ہری دوار میں نفرت آمیز تقریر کے خلاف مظاہرہ، تصویر آئی اے این ایس
ہری دوار میں نفرت آمیز تقریر کے خلاف مظاہرہ، تصویر آئی اے این ایس
user

اعظم شہاب

پوری دنیا میں ذلت و رسوائی کا پرچم لہرانے کے بعد بدنامِ زمانہ دھرم سنسد کے بدمعاش اونٹ اب پہاڑ کے نیچے آنے لگے ہیں۔ بد زبان نام نہاد سنتوں کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کرنے والی اتراکھنڈ پولیس کے ڈی جی پی اشوک کمار نے انکشاف کیا ہے کہ اشتعال انگیز دھرم سنسد کے دوران نازیبا زبان کی شاہد وائرل ویڈیو کلپ کی بنیاد پر ایف آئی آر میں مزید دو نام شامل کیے گئے ہیں۔ یہ اچھا ہے کہ جن نئے لوگوں کے خلاف کارروائی کی گئی وہ کسی شکایت کی بنیاد پر نہیں ہے، بلکہ پولیس نے خود نفرت انگیز تقاریر کو سننے کے بعد تحقیقات کی روشنی میں کی گئی ہے اور ساگر سندھو مہاراج اور یتی نرسمہانند گری کے نام شامل کرلیے ہیں۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کسی دشمن کی بیجا شکایت نے بے قصور لوگوں کو پھنسا دیا۔ اسی کے ساتھ ایف آئی آر میں دفعہ 295 اے کا بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس طرح اہم ترین ملزمین پر سخت تر دفعہ لگائی گئی ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل اس دفعہ کی بابت معلوم کرنا چاہیے۔

تعزیراتِ ہند کی دفعہ 295 اے کے تحت وہ حرکت جرم مانی جاتی ہے جب کوئی ملزم فرد ہندوستانی شہریوں کے کسی طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کی شعوری اور نفرت انگیز نیت سے اس طبقے کے مذہب یا مذہبی عقائد کی توہین کرتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اہانت بولنے، لکھنے یا اشارے کنائے اور کسی بھی ذریعہ سے ہوسکتی ہے۔ دھرم سنسد کے اندر کھلے عام اس دفعہ کی ایک ایک شق کی خلاف ورزی کی گئی اس لیے ان ملزمین کو اس جرم کی سزا تین سال قید بامشقت اور جرمانہ یا دونوں ہونی چا ہیے تاکہ کوئی بدمعاش اس کو دوہرانے کی جرأت نہیں کرسکے۔ یہ نہایت سنگین جرم ہے۔ اسی طرح کا ایک معاملہ ایک مرتبہ سیشن کورٹ سے الہ باد ہائی کورٹ ہوتا ہوا عدالتِ عظمی تک پہنچا تھا جہاں استغاثہ نے دلیل پیش کی تھی کہ یہ آئین کی دفعہ 19 (2) میں دی گئی اظہار رائے کی آزادی سے ٹکراتی ہے۔ لیکن عدالت نے اس دلیل کو خارج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اہانت مذہب اگر شعوری اور نفرت انگیز نیت کے ساتھ کی جائے تاکہ اس سے عوامی نظم و نسق میں رکاوٹ ڈالی جائے، تو ایسے لوگوں کو اس دفعہ کے تحت مجرم قرار پائیں گے۔


اس ایف آئی آر کے درج میں ہونے میں مختلف لوگوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا۔ کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے اتراکھنڈ کے ہری دوار میں منعقد دھرم سنسد میں کی گئی تقریر کے معاملے میں ایک بیان جاری کرکے کہا تھا کہ’ ہندوتوا‘ ہمیشہ نفرت اور تشدد پھیلاتا ہے اور ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس نے ان سنتوں پر بھی حملہ کیا جنہوں نے اس مسئلہ پر متنازعہ بیان دیا تھا۔ کانگریس اور ترنمول کانگریس سمیت کئی اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے ہری دوار میں دھرم سنسد کی مذمت کی۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کانفرنس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ پہلے تو بی جے پی کی صوبائی اور مرکزی حکومت نے ان مطالبات کو نظر انداز کیا مگر جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو اتراکھنڈ کی پولیس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے اور ان کی نسل کشی کرنے کے لیے اکسانے پر مذکورہ ’دھرم سنسد‘ کے منتظم یتی نرسمہانند سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اس معاملے میں یتی نرسنگھا نند پانچواں ہے اس کے علاوہ ساگر سندھو مہاراج، سادھوی انا پورنا، دھرم داس اور وسیم رضوی عرف جتیندر تیاگی کا نام بھی اس فہرست میں شامل ہے۔ ان سب پر مذہبی گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے کا الزام ہے۔ سادھوی اناپورنا کے نام سے مشہور پوجا شکون پانڈے دراصل ہندوتوا کی حامل تنظیم ہندو مہاسبھا کی جنرل سکریٹری ہے۔ اس پر مذہبی گروہوں میں لڑائی کروانے اور عبادت میں خلل ڈالنے کے الزامات پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ حالانکہ جس طرح ببانگ دہل قتل عام پر اکسانے کی وہاں ترغیب دی گئی اس کے پیش نظر مزید سنگین دفعات لگائی جانی چاہییں لیکن جب حکومت سے لے کر پولیس تک اس طرح کے لوگوں کی پشت پناہی پر اتر آئیں تو جو ہوا وہی غنیمت معلوم ہوتا ہے۔ اس کے باوجود ساری دنیا میں ہونے والی بے پناہ بدنامی کے باوجود ہندو رکشا سینا کا پربودہانند گیری کمال ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ’مجھے کوئی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ میں پولیس سے خوفزدہ نہیں ہوں۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔ اگر کوئی مجھے مارنے کی کوشش کرتا ہے تو میں جواب دوں گا۔ میں قانون سے نہیں ڈرتا‘‘۔ اسی طرح کے بیانات کالی چرن مہاراج بھی دیا کرتا تھا لیکن جب پولیس نے تلاش شروع کی تو گرفتاری کے خوف سے روپوش ہوگیا اور حراست میں جانے کے بعد ساری اکڑ کافور ہوگئی۔ ان کاغذ کے شیروں کی یہی روایت رہی ہے۔


ہری دوار اور دہلی میں ہونے والی نفرت انگیز تقاریر کے خلاف عالمی ذرائع ابلاغ کے علاوہ ملک میں چوٹی کے 76 وکلا نے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس این وی رامانا کو خط لکھ کر ازخود کارروائی ( سوموٹو ایکشن) کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس مکتوب میں لکھا گیا ہے کہ ’یہ محض نفرت انگیز تقاریر نہیں ہیں، بلکہ اس میں ایک قوم کو قتل کرنے پر اکسایا گیا ہے۔ اس سے نہ صرف ملکی اتحاد کو خطرہ ہے بلکہ لاکھوں مسلمانوں کی زندگیوں کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ کولکاتہ کے اندر ایک کانفرنس سے انٹرنیٹ کے ذریعہ خطاب کرتے ہوئے سابق جسٹس اشوک گنگولی نے ہر ی دوار کے دھرم سنسد کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دھرم سنسد میں جو کچھ ہوا وہ مسلمانوں سے زیادہ ہمارے ملک کے دستور پر حملہ ہے۔ ہمارے دستور میں سیکولرزم کو یونہی شامل نہیں کیا گیا بلکہ یہ بھارتی عوام کی ضرورت ہے۔ جسٹس گنگولی نے یہ بھی کہا کہ ہری دوار دھرم سنسد میں کہی جانے والی باتیں ہندوازم کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ کوئی بھی سچا ہندو اپنے پڑوسی مسلمان کو قتل کرنے کی بات نہیں کہہ سکتا ہے۔ دھرم سنسد کے نام پر کی جانے والی بدمعاشی جب ناقابلِ برداشت ہوگئی تو جو اقدام کیا گیا اگر شروع میں ہی کیا جاتا اور ان ملزمین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیج دیا جاتا تو ایسی بدنامی نہیں ہوتی۔ بقول غالب؎

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔