ایک تَنہا خاتون سے سرکاری مشینری ڈَر گئی؟... سہیل انجم

جب یو پی حکومت سون بھدر متاثرین کی داد رسی کے لیے تیار نہیں ہوئی اور مظلوموں کی سننے والا کوئی سامنے نہیں آیا تو کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اٹھیں اور انھوں نے متاثرین سے ملنے کی ٹھان لی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

اتر پردیش میں لا اینڈ آرڈر کی جو ابتر صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ آج یہاں کسی بے قصور کا قتل ہوتا ہے تو کل وہاں۔ آج یہاں پولس بے قصوروں پر ظلم ڈھاتی ہے تو کل وہاں۔ خواتین اور بچیوں کے خلاف جرائم کی تو جیسے باڑھ سی آگئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا دعویٰ ہے کہ ان کی ریاست میں نظم و نسق کی صورت حال بہتر ہے اور وہ ریاست سے جرائم ختم کر کے چھوڑیں گے۔

اسی ریاست میں مرزاپور کے سون بھدر میں ایسا بھی ہوا کہ دبنگوں نے ایک بہت بڑے قطعہ آراضی پر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے ایک شخص نے خریدا تھا، ایسا طوفان اٹھایا کہ دس افراد کی جانیں چلی گئیں۔ حملہ آور مسلح تھے اور گاؤں کے لوگ نہتے۔ دونوں طرف سے ٹکراؤ ہوا تو مسلح افراد نے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے دوران دس افراد مارے گئے۔

جب یو پی کی حکومت ان متاثرین کی داد رسی کے لیے تیار نہیں ہوئی اور مظلوموں کی سننے والا کوئی سامنے نہیں آیا تو کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی اٹھیں اور انھوں نے متاثرین سے ملنے کی ٹھان لی۔ وہ سون بھدر جا رہی تھیں تاکہ متاثرین کے اہل خاندان سے مل کر ان کو دلاسا دے سکیں اور پارٹی کی طرف سے جو بھی ہو سکے ان کی مدد کر سکیں۔ لیکن ان کی یہ ادا یوپی حکومت کو راس نہیں آئی۔ اس نے انھیں وہاں جانے سے روک دیا۔

لیکن پرینکا گاندھی نے جو کہ اپنی دادی اندرا گاندھی ہی کی مانند عزم و ہمت کی پہاڑ ہیں، خود کو روکے جانے کی مخالفت کی۔ انھوں نے جب اصرار کیا کہ وہ وہاں ضرور جائیں گی تو انھیں سختی سے روکنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر وہ وہیں سڑک پر بیٹھ گئیں اور اس بات پر مصر رہیں کہ وہ متاثرین سے ملے بغیر نہیں جائیں گی۔

ان کے اس اٹل فیصلے سے پولس انتظامیہ کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور انھوں نے انھیں گرفتار کر لیا اور چنار گیسٹ ہاوس میں لے جا کر بٹھا دیا۔ پولس نے انھیں وہاں سے بھی جانے کی اجازت نہیں دی۔ ان کے پوچھنے پر یہی کہا جاتا رہا کہ اوپر سے آرڈر نہیں ہے۔ پرینکا بھی ڈٹ گئیں اور اس بات پر اَڑ گئیں کہ وہ متاثرین سے ملے بغیر نہیں جائیں گے۔ اس پر حکومت اور پولس انتظامیہ کی جانب سے ان پر مزید سختی کی جانے لگی۔

لیکن پرینکا بھی اندرا گاندھی کی پوتی ٹھہریں۔ انھوں نے وہاں سے اٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس موقع پر حکومت اور پولس انتظامیہ کا غیر انسانی رویہ سامنے آیا۔ ان کے وہاں ٹھہرنے کا کوئی معقول بند و بست کرنا تو دور بلکہ وہاں بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ دیئے گئے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایک تنہا خاتون سے حکومت کو کیا خطرہ ہو سکتا تھا۔ اور پھر ایسے میں جبکہ نہ صرف اترپردیش بلکہ مرکز میں بھی بی جے پی ہی کی حکومت ہے۔ ملک کی بیشتر ریاستوں میں وہی برسراقتدار ہے۔ اس کے باوجود حکومت پرینکا سے کیوں ڈر گئی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔

لیکن پرینکا بھی ڈٹی رہیں۔ وہ اپنے اس ارادے پر قائم رہیں کہ وہ متاثرین سے ملے بغیر نہیں جائیں گی۔ ایسے عالم میں جبکہ بجلی اور پانی کے کنکشن کاٹ دیئے گئے ہوں اور ننگے فرش پر بیٹھنا کتنا مشکل ہوتا ہے اور پھر پرینکا گاندھی جیسی خاتون کے لیے جس کی پوری زندگی ناز و نعم میں پلی ہو۔ اس کے باوجود پرینکا ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اسی ناگفتہ بہہ حالات میں انھوں نے 26 گھنٹے گزارے۔

بالآخر ان کے عزم و ارادے کے آگے حکومتی مشینری کمزور پڑ گئی۔ جب متاثرین نے دیکھا کہ ان کے لیے ایک تنہا خاتون پولس زیادتی کی شکار ہو رہی ہے تو وہ خود پرینکا سے ملنے چل پڑے۔ لیکن اس پر بھی یوگی حکومت کی اکڑ نہیں گئی۔ پولس نے صرف دو افراد کو ان سے ملنے کی اجازت دی۔ اس پر پرینکا نے کہا کہ وہ سب سے ملے بغیر نہیں جائیں گی۔ بالآخر سب کو ان سے ملنے دیا گیا اس کے بعد ہی انھوں نے گیسٹ ہاوس خالی کیا۔ اس سے قبل وہ بنارس جا کر اسپتال میں زخمیوں سے ملاقات کر چکی تھیں۔

یہ تمام واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ پرینکا نے جس ہمالیائی عزم کا مظارہ کیا دراصل اس وقت کانگریس کو ایسے ہی ججھارو پن کی ضرورت ہے۔ بہت دنوں کے بعد ایسا کوئی منظر دیکھا گیا جب ایک سیاست داں نے مظلوموں سے ملاقات کرکے ان کو دلاسا دینے کی خاطر ایسا قدم اٹھایا ہو۔ ورنہ اب تو سیاست میں تعیش پسندی کا بول بالا ہو گیا ہے۔ اب نہ تو عوام کے لیے پد یاترائیں ہوتی ہیں اور نہ ہی دھرنے دیئے جاتے ہیں۔

دھرنوں کا سلسلہ تو جاری ہے مگر جس انداز میں دھرنے ہونے چاہئیں اس انداز میں نہیں ہوتے۔ لیکن پرینکا گاندھی نے اپنے اس قدم سے یہ دکھا دیا کہ اگر جرأت و ہمت ہو تو آج بھی ججھارو سیاست کی جا سکتی ہے۔ آج بھی حکومت و اقتدار کو اپنے عزائم کے قدموں میں جھکایا جا سکتا ہے۔ پرینکا گاندھی کے اس قدم سے کانگریس کارکنوں میں ایک نیا جوش آیا ہے۔ لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد کیڈر پر جو پژمردگی طاری ہو گئی تھی وہ دور ہوتی نظر آئی اور ریاست کے مختلف علاقوں میں حکومت کی اس زیادتی کے خلاف کانگریس کارکنوں نے دھرنے دیئے اور مظاہرے کیے۔

در اصل آج کانگریس کو ایسے ہی ججھارو لیڈر کی ضرورت ہے۔ ایسے ہی ہمت و ارادے والے لوگ پارٹی کو چاہیے۔ بلا شبہ پرینکا گاندھی نے ایک راستہ دکھایا ہے۔ اس راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔ آج حکومت کی زیادتیوں اور عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف جس قوت ارادی کے ساتھ احتجاج اور مظاہرے کرنے کی ضرورت ہے اس کا ایک نمونہ پرینکا گاندھی نے پیش کیا ہے۔

کانگریس کے کیڈر کو چاہیے کہ وہ اپنے اس نیتا کے نقش قدم پر چلے اور حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں کے خلاف اسی طرح کوہ ہمالہ بن کر ڈٹ جائے۔ ورنہ یہ حکومت جس طرح من مانے انداز میں کام کر رہی ہے اور عوامی فلاح و بہبود کے بجائے محض چند صنعت کاروں اور کارپوریٹ گھرانوں کے مفاد کے لیے کام کر رہی ہے وہ سلسلہ اگر جاری رہا تو غریبی تو نہیں مٹے گی البتہ اس ملک سے غریب ضرور مٹ جائیں گے۔

Published: 21 Jul 2019, 10:10 PM