کرناٹک: بی جے پی نے ’سام، دام، دَنڈ، بھید‘ کا راستہ اپنایا

وزیر اعظم نریندر مودی

کرناٹک اسمبلی انتخابات کو جیتنے کے لیے بی جے پی نے اپنے وزرائے اعلیٰ کی پوری فوج اتار رکھی ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو نریندر مودی کے بعد دوسرے سب سے بڑے ’اسٹار پرچارک‘ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں انتخابی تشہیر کے دوران حکمراں اور حزب مخالف دونوں پارٹیاں تقریباً سبھی داؤ استعمال کر رہے ہیں۔ ووٹروں میں انتشار اتنا ہے کہ اگر ایک فریق سے ملاقات ہو تو لگتا ہے کہ انہیں کی حکومت بن رہی ہے اور دوسرے سے ہو تو لگتا ہے کہ ان کی حکومت بن رہی ہے۔ اس میں سب سے خراب حالت جنتا دل سیکولر (جے ڈی ایس) کی ہے۔ ان کے حامی ریاست میں بی جے پی کی حکومت بنوا رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی لیڈر جے ڈی ایس کو نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ کانگریس کو شکست دینے کے لیے تقریباً 40 اسمبلی سیٹوں پر بی جے پی سارے داؤ جے ڈی ایس پر ہی لگا رکھے ہیں۔ انتخابی نتائج جو بھی ہوں، جے ڈی ایس کا حشر بہت خراب ہونے جا رہا ہے۔

آج کی تاریخ میں کانگریس کے پاس سبقت ہے اور اس بات کو بی جے پی سے لے کر جے ڈی ایس کے لیڈر بھی اندر ہی اندر مان رہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہے کرناٹک میں بی جے پی اور آر ایس ایس کا مذہبی کارڈ نہ چل پانا۔ کل 224 اسمبلی سیٹوں میں سے ایک اندازہ کے مطابق صرف 24 اسمبلی حلقے فرقہ وارانہ طور پر انتہائی حساس ہیں اور وہ ہیں ہبلی، منگلور، اڈوپی وغیرہ۔ ان اسمبلی حلقوں کے علاوہ بی جے پی اپنی تمام طاقت جھونکنے کے باوجود فرقہ وارانہ پولرائزیشن نہیں کر پائی ہے۔ ابھی بی جے پی اور آر ایس ایس کی ساری پالیسی ذاتوں پر مبنی فارمولے کو اپنی طرف کھینچنے، موڑنے اور ووٹر لسٹ پر مرکوز ہے۔ یہ سبھی کا ماننا ہے کہ وسائل کے حساب سے بی جے پی سب سے مضبوط پارٹی بن کر اُبھری ہے۔ اس لیے یہ بھی قیاس لگائے جا رہے ہیں کہ بی جے پی کو سیٹیں کتنی بھی آئیں،لیکن حکومت بنانے کے لیے ممبران اسمبلی کی توڑ پھوڑ کی تیاری پوری ہے۔ کرناٹک انتخابات میں بڑی تعداد میں ڈَمی امیدوار (نقلی امیدوار) کھڑے کیے گئے ہیں جنھیں ووٹ کٹوا کہا جاتا ہے۔ ایسے امیدواروں کی تعداد مسلم اکثریتی علاقوں میں بہت زیادہ ہے۔

مثال کے طور پر بنگلورو کے شیواجی نگر اسمبلی حلقہ سے کانگریس کے روشن بیگ امیدوار ہیں۔ روشن بیگ کی ووٹروں پر خاصی گرفت ہے اور وہ وزیر بھی رہے ہیں۔ لیکن اس اسمبلی حلقہ میں 17 مزید مسلم امیدوار کھڑے ہوئے ہیں جس میں جے ڈی ایس کا بھی مسلم امیدوار ہے۔ بی جے پی نے یہاں سے ہندو امیدوار کھڑا کیا ہے۔

بی جے پی میڈیا سیل کے انچارج شانتا رام نے ’قومی آواز‘ کو بتایا کہ کرناٹک میں بی جے پی تبدیلی کے لیے اور ہندوؤں کے قاتلوں کے خلاف ووٹ مانگ رہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لنگایت کو الگ مذہب قرار دیے جانے سے کانگریس کو بہت نقصان ہوگا۔ شانتا رام نے کہا کہ ریاست کے تقریباً 54 ہزار پولنگ بوتھ میں سے 50 ہزار پولنگ بوتھ پر بی جے پی کے نگراں ہیں۔ ووٹر لسٹ میں ہر صفحہ کا ایک نگراں مقرر ہے جو تمام ووٹروں سے گہرا رشتہ قائم کرتا ہے، اور انھیں بی جے پی کے لیے ووٹ دینے کی ترغیب کرتا ہے۔

یہ پالیسی بی جے پی نے اتر پردیش کے انتخابات سے لے کر گجرات، تریپورہ میں استعمال کی تھی۔ گجرات کی طرز پر یہاں بھی اس ووٹر لسٹ میں سے ان لوگوں کی فہرست بھی بنائی جا رہی ہے جو بی جے پی کو کسی بھی صورت میں ووٹ نہیں دیں گے۔ پھر انھیں الگ سے دیکھا سمجھا جاتا ہے۔ کوشش یہی رہتی ہے کہ ان کا ووٹ ہی نہ پڑے۔ گجرات میں یہ بہت کامیاب پالیسی رہی۔ بی جے پی نے مخالف ووٹوں کو بوتھ تک نہیں جانے دینے کی پالیسی بنائی تھی۔

اس کے علاوہ کرناٹک انتخابات کو جیتنے کے لیے بی جے پی نے اپنے وزرائے اعلیٰ کی پوری فوج اتار رکھی ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے بعد دوسرے سب سے بڑے ’اسٹار پرچارک‘ کے طور پر پیش کیا گیا۔ انھیں پہلے سے فرقہ وارانہ طور پر حساس اور کشیدہ علاقے جیسے کراولی، ملناڈ میں گھمایا گیا جو کہ کرناٹک کے ساحلی علاقے ہیں۔ ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ چونکہ گورکھ دھام پیٹھ سے جڑے ہوئے ہیں اس لیے کرناٹک میں ’ووکّالیگا‘ جو گوڑا طبقہ سے ہے، وہ خود کو ناتھ پنتھ سے جوڑتے ہیں۔ اس طرح سے بی جے پی یوگی کا استعمال جے ڈی ایس کی بنیاد میں بھی سیندھ لگانے کے لیے کر رہی ہے۔ وہیں مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیو راج سنگھ چوہان اور چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ کا بھی خوب استعمال ہو رہا ہے۔

سب سے زیادہ مقبول