عمران خان غلط سوچ کو فروغ دے رہے ہیں... سید خرم رضا

عمران خان نے پہلے تو تیسری شادی کر کے سماج میں غلط پیغام دیا، پھر تیسری بیوی کے ذریعہ جادو ٹونے کو فروغ دے کر انہوں نے سماج کی معصوم عوام کو جس تباہی پر ڈال دیا اس کے نقصانات کا انہیں اندازہ نہیں ہے۔

عمران خان، تصویر آئی اے این ایس
عمران خان، تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

پاکستان میں عمران خان کی حکومت کیا گئی وہاں کی تو سیاست ہی بدلتی نطر آ رہی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا جب وہاں کی کوئی حکومت اس وجہ سے اقتدار سے بے دخل ہوئی کہ اس کے خلاف لائی گئی عدم اعتماد کی تحریک منظور ہو گئی۔ اس تحریک کی مظوری اور عمران خان حکومت کی اقتدار سے بے دخلی کے دوران کیا کچھ ہوا یہ بات اب پوری دنیا کو معلوم ہے۔ عمران خان نے حکومت بچانے کے لئے کیا کچھ کیا اور اب موجودہ حکومت کے خلاف کیا کچھ کر رہے ہیں یہ بھی سب کو معلوم ہے۔

عمران خان نے پہلے تو عدم اعتماد کی تحریک والے ’میچ‘ کو آخری گیند تک لے جانے کی کوشش کی لیکن پاکستان میں بیٹھی فوج نے ان کی کسی گیند پر اقتدار میں آئی ٹیم کو ’آؤٹ‘ نہیں ہونے دیا جس کی وجہ سے عمران خان کو نہ صرف اس میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ہر شخص اپنے اقتدار کو بچانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھاتا ہے اور عمران بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں۔ انہیں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ان کے پاس تو ’ترپ کے پتہ‘ کی شکل میں ان کی اہلیہ پیرنی بشریٰ ہیں۔ ان کی اہلیہ پیرنی نے جتنا ان کے پاس علم تھا اتنا کام ضرور کیا لیکن وہ پھر بھی اپنے شوہر کی کرسی نہیں بچا پائیں۔ کرسی بچانا اور اقتدار کے لئے لڑنا بالکل جائز ہے لیکن ہر لڑائی کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور عمران خان نے ان اصولوں پر عمل نہیں کیا اور یہ تک نہیں سوچا کہ ان کے اس قدم سے سماج میں کیا پیغام جائے گا۔


عمران خان نے پہلے تیسری شادی کر کے سماج میں غلط پیغام دیا پھر تیسری بیوی کے ذریعہ جادو ٹونا کو فروغ دے کر انہوں نے سماج کی معصوم عوام کو جس تباہی پر ڈال دیا اس سے ہونے والے نقصان کا انہیں شاید اندازہ ہی نہیں ہے۔ عوام اب اپنی ہر کامیابی اور ناکامی کے لئے جادو ٹونا پر انحصار کرنے لگے گی جس کا نقصان سماج کو ہوگا۔ کھلے ذہن کے شخص سے امید ہوتی ہے کہ وہ سائنس اور جدت کی بات کرے گا لیکن اگر وہ فرسودہ اور دقیانوسی سوچ کو اپنے عمل سے فروغ کرتا ہے تو اس سے اس کی اصل سوچ کا اندازہ ہوتا ہے۔ اگر تیسری شادی کے پیچھے اقتدار کی حصولی ان کا مقصد تھا تو پھر لعنت ہے ایسے اقتدار پر۔ اقتدار کی حصولی کے لئے اگر جادو ٹونے کو فروغ دینا ہے تو پھر وہ کھلے اور صاف ستھرے ذہن کے مالک نہیں ہو سکتے۔

عمران خان نے صرف جادو ٹونے کو فروغ نہیں دیا بلکہ اس سوچ کو بھی فروغ دیا کہ ان کی حمایت حب الوطنی ہے اور ان کی مخالفت ملک سے غداری ہے۔ دراصل اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد انہوں نے جو بیانیہ تیار کیا ہے اس میں برسر اقتدار جماعت ’چور‘ ہیں، ان کی پارٹی کے لوگ جنہوں نے ان کا ساتھ نہیں دیا وہ ’لوٹے‘ ہیں اور حکومت ’امپورٹیڈ‘ ہے۔ سیاسی طور پر یہ بیانیہ درست ہے اور اس سے کسی کو نا اتفاقی بھی نہیں ہو سکتی۔ لیکن یہ ماحول بنانا کہ وہ ہیں تو ملک ہے، یا دیگر تمام سیاسی لوگ غلط ہیں اس سے کوئی اتفاق نہیں کر سکتا۔ واضح رہے کہ یہ وہی عمران خان ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی مخالفین سے سمجھوتے کئے اور ان کے ساتھ بیٹھ کر اقتدار کے پورے مزے لئے۔


سیاست اور اقتدار کا مقصد عوام کی خدمت اور ملک کی ترقی ہونا چاہئے اور اگر کوئی بھی سیاست داں صرف اپنے اور اپنے اقتدار کے بارے میں سوچتا ہے تو اس کی سوچ صرف اور صرف منفی ہے۔ عمران خان کو چاہئے کہ وہ مثبت سیاست کریں اور جادو ٹونے کی حوصلہ شکنی کریں۔ مثبت سیاست کر کے ہی عالمی سیاست میں کوئی اپنا مقام بنا سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔