دھاراوی: ممبئی کے ووہان نے کورونا پر کیسے قابو پایا؟... اعظم شہاب

دھاراوی میں ’4 ٹی‘ یعنی ٹریسنگ، ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور ٹریٹمنٹ کی حکمت عملی اپنائی گئی، جس کے سبب ممبئی کا ووہان کہا جانے والا کورونا ہاٹ اسپاٹ علاقہ آج کورونا پر قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہوچکا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

کہا جاتا ہے کہ آپ اتنے خوبصورت نہیں ہوتے جتنا فیس بک یا واٹس اپ وغیرہ پر نظر آتے ہیں اور اتنے بدصورت بھی نہیں جتنے کہ آدھار کارڈ یا ووٹر آئی ڈی کارڈ پر نظر آتے ہیں۔ کچھ یہی حال ممبئی کے دھاراوی کا بھی ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی ’جھونپڑ پٹی‘ ہونے کا داغ رکھنے والا یہ علاقہ کورونا کے معاملے میں بھی نہ صرف ممبئی بلکہ پوری ریاست میں اول مقام پر رہا ہے۔ ابتداء میں یہاں یومیہ 80 سے 100 کورونا کے مریض ہوا کرتے تھے جواب کم ہو کر 8 سے 10 تک پہنچ گئے ہیں۔ دھاراوی اگر کورونا کا ہاٹ اسپاٹ بنا تو اسی علاقے میں ایسے بہت سے حوصلہ مند و بہادر لوگ بھی ہیں جو اپنی جان کو جوکھم میں ڈال کر دوسروں کی زندگیوں کو بچا رہے ہیں۔ ممبئی میں انہیں ’کورنا یودھا‘ یعنی کہ کورونا جنگجو کہا جاتا ہے جو وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کی پہل پر تشکیل پایا ہوا ڈاکٹروں اور طبی عملہ پر مشتمل گروپ ہے۔ یہ لوگوں کے گھروں میں جاکر ان کی تشخیص اور علاج کر رہے ہیں۔ شاید ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ممبئی کا ووہان کہا جانے والا یہ علاقہ آج کورونا کی جنگ جیتنے میں کامیابی کے بے حد قریب ہے۔

دھاراوی میں کورنا کا پہلا معاملہ موت کی شکل میں سامنے آیا تھا، جس کے بعد یہاں کے لوگوں میں خوف وہراس کا پھیلنا لازمی تھا۔ اس کے بعد اس تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تھا۔ اس کے لیے ممبئی میونسپل کارپوریشن کو کوسا جاتا رہا کہ وہ اسے کنٹرول کرنے میں ناکام ہو رہی ہے، مگر آج اسی بی ایم سی کو اس علاقے میں کورونا روکنے میں حاصل ہونے والی کامیابی کے لیے مبارکباد بھی دی جا رہی ہے۔ بی ایم سی کے اس علاقے کے اسسٹنٹ میونسپل کمشنر کردِدھاوکر کے مطابق ہم نے جب کورونا کے مریضوں کی ٹریسنگ شروع کی تو اوسطاً ایک مریض کے 72 رابطے سامنے آئے جن سے وہ کورونا پازیٹو ہونے کے بعد ملا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک مریض کے توسط سے 72 لوگوں میں ممکنہ طور پر کورنا پھیلا۔ ایسی صورت میں ہمارے سامنے ایک ہی متبادل تھا کہ پورے دھاراوی کو اسکرینگ شروع کردیں اور جن لوگوں میں کورونا کی معمولی سی بھی علامت نظر آئے اسے قرنطینہ کردیا جائے۔

این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کرن نے اپنی حکمت عملی یہ بتائی کہ ہم نے دھاراوی کے ہرعلاقے میں بخار جانچنے کا کیمپ لگانا شروع کردیا۔ اس کے تحت ہم نے گھرگھر جاکر اسکریننگ شروع کردی۔ لیکن چونکہ ہمارے پاس وسائل کی کمی تھی اور ہمارا اسٹاف متاثرین کے رابطے کو تلاش کرنے میں جٹا ہوا تھا، اس لیے ہم نے دھاراوی کے ان ڈاکٹروں سے بات کرنا شروع کی جنہوں نے اپنی کلینک بند کردی تھی۔ ڈاکٹروں کی ’دھاراوی آیوش ڈاکٹر ایسوسی ایشن‘ نامی تنظیم بنائی گئی اور ان کی مدد سے ہم اس وبا پر قابو پانے میں کامیابی کے بے حد قریب ہیں۔ بی ایم سی نے یہاں 4Tکی حکمت عملی اپنائی یعنی کہ ٹریسنگ، ٹریکنگ، ٹیسٹنگ اور ٹریٹمنٹ۔ اس کے تحت کوشش یہ کی گئی کہ ہرشخص کی تشخیص کی جائے اور جس میں بھی کورونا کی علامت نظر آئے اس کے رابطے کو تلاش کرتے ہوئے اس کا علاج کیا جائے۔ اس حکمت عملی کے تحت کورونا کے مریض ابتدائی مرحلے میں ہی سامنے آگئے۔ دھاروای آیوش ڈاکٹر ایسوسی ایشن کے 41 ڈاکٹروں مشتمل ٹیم گھر گھر جاکر اسکرینگ کرنے لگی۔

ڈھائی مربع کلومیٹر میں پھیلے ہوئے اس علاقے میں تقریباً ساڑھے آٹھ لاکھ لوگ رہتے ہیں، جبکہ سینسیس کے مطابق یہ تعداد 6لاکھ 53 ہزار ہے۔ دھاراوی میں دو پولیس اسٹیشنن ہیں ایک دھاراوی پولیس اسٹیشن اوردوسرا شاہونگر پولیس اسٹیشن۔ ان دونوں پولیس اسٹیشنوں میں کل 56 پولیس اہلکار کورونا سے متاثر ہوئے جن میں سے ایک کی موت ہوگئی۔ اب ظاہر سی بات ہے کہ پولیس اسٹیشن میں ہی بیٹھ کر یہ کورونا سے متاثر تو نہیں ہوئے ہوں گے۔ اس کے لیے یہ ضرور کورونا کے کسی مریض کے رابطے میں آئے ہوں گے۔ لیکن اس کے باوجود یہاں کے پولیس عملے نے اس پورے علاقے کی بھیڑ اور لاء اینڈ آرڈر کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے لیے پولیس عملے کو کئی بار زبردستی بھی کرنی پڑی کہ لوگ بلاضرورت اپنے گھروں سے نہ نکلیں اور ایک دوسرے سے سماجی فاصلہ قائم رکھیں۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ ابتداء میں کورونا کا جو پھیلاؤ ہوا تھا، لوگوں کے کورنٹائن ہونے کے بعد اس میں کمی واقع ہوتی چلی گئی۔

دھاراوی کا سالانہ کاروبار 7 ہزار 5 سو کروڑ کا ہے۔ چمڑا، ٹیکسٹائل اور پلاسٹک کا کاروبار یہاں زیادہ ہوتا ہے۔ 5000 ہزار سے زائد جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ کاروباری ہیں۔ 15 ہزارسنگل روم فیکٹریاں ہیں۔ شہر کا 60 فیصدی پلاسٹک یہیں دھاراوی میں ریسائیکل ہوتا ہے۔ لیکن آج یہ دھاراوی بند ہے۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو کاروبار مکمل طور پر بند تھے وہ اب جزوی طور پر کھل رہے ہیں۔ لیکن مجموعی طور پر یہاں کے تمام کاروباری اور دوکاندار کاروبار کے پٹری پردوبارہ لوٹنے کے انتظار کر رہے ہیں۔ یہاں بڑی تعداد میں مہاجر مزدور بھی رہتے ہیں جن میں سے اب زیادہ تر اپنے اپنے وطن واپس جاچکے ہیں۔ 3 مئی سے ان مہاجرمزدوروں کا خروج شروع ہوا جس کی وجہ سے یہاں کی بھیڑ تھوڑی کم ہوئی اور انتظامیہ کو کورونا کے متاثرین کوتلاش کرنا مزید آسان ہوا۔

اتنے بڑے علاقے میں زیادہ تر غریب لوگ رہتے ہیں، جنہیں لاک ڈاؤن کے بعد انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ لوگوں کو ان مشکلات سے نکالنے میں یہاں کے مقامی لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اناج وکھانوں کی تقسیم شروع کی۔ ان میں زیادہ تر نوجوان ہیں جو ذاتی طور پر لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئے۔ اس کے علاوہ مقامی ڈاکٹروں کے ساتھ سیکڑوں رضاکاروں نے بھی اپنی خدمات دیں، جس کے سبب آج ممبئی کا ووہان کہا جانے والا، کورونا کا ہاٹ اسپاٹ یہ علاقہ آج کورونا کی وبا سے قابو پانے میں بہت حد تک کامیاب ہوچکا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ حکمت عملی اور منصوبہ بندی ان علاقوں میں نہیں اپنائی جاسکتی جہاں آج کورونا اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ موجود ہے؟

اس معاملے میں ایک اہم پہلو یہ ابھر کر سامنے آیا ہے کہ چاہے مقامی ڈاکٹروں کے ساتھ گھر گھر جاکر اسکریننگ کرنا ہو یا پھر ضرورت مندوں میں اناج ودیگر ضروری اشیاء کی تقسیم کا معاملہ ہو، اس میں مسلم نوجوانوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لوگوں کی مدد کرنے کا یہ احساس اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب دلوں میں انسانیت اور جذبہ رحم موجود ہو۔ دھاراوی کے نوجوانوں نے یہ ثابت کردیا کہ ان کا یہ علاقہ جو کورونا کے ہاٹ اسپاٹ کی وجہ سے پورے ملک میں بدنام ہو رہا ہے، اسے کورونا سے پاک کرنا ہے۔ اپنی اس کوشش میں یہ نوجوان بہت حدتک کامیاب نظر آتے ہیں۔ سلام ہے ایسے ڈاکٹروں و نوجوانوں کو جنہوں نے لوگوں کی مدد کے لیے اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کی۔

next