کورونا سے ہار، مہنگائی کی مار...اعظم شہاب

دیہی علاقوں میں پہلے سے موجود بیروزگاروں میں مہاجر مزدوروں سے قابلِ قدر اضافہ ہوا ہے، کسان اپنی پیداوار بیچ نہیں پارہے ہیں، شہروں میں ضروری اشیاء کی رسد متاثر ہو رہی ہے اور مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اعظم شہاب

کورونا کو 21دن کے اندر پچھاڑنے کا عزم کرنے والے وزیر اعظم فی الحال زیر زمین اس قدر گہرائی میں جا چھپے ہیں کہ ملک کے عوام ان کا درشن تو دور من کی بات سننے کے لیے بھی ترس گئے ہیں۔ مودی جی نے بار بار ٹیلی ویڑن اور ریڈیو پر آ آ کر لوگوں کی عادتیں اس قدر خراب کردی ہیں کہ ان کا اچانک غائب ہوجانا لوگوں کو کھلنے لگا ہے۔ ویسے کورونا کے حوالے سے اب تو پڑوسی ممالک سے بھی ایسی خطرناک خبریں آرہی ہیں کہ 56تودور 86 انچ کے سینے والا انسان بھی خوفزدہ ہوجائے۔ ایسے لوگ جو وزیر اعظم کے غائب ہوجانے کو چین یا نیپال سے جوڑ کر دیکھ رہے وہ غلطی پر ہیں۔اس لیے کہ چین کو لال لال آنکھ دکھا کر بات کرنے کا اعلان کرنے والے سے یہ توقع تو نہیں کی جاسکتی کہ وہ نیپال جیسے کمزور ملک سے گھبرا جائیں گے لیکن کورونا سے تو ہر کوئی ڈرتا ہے۔ پچھلے دنوں بنگلہ دیش کے سابق وزیر صحت محمد نسیم کے کورونا سے انتقال کی خبر آئی اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو کورونا وائرس سے متاثر پایا گیا ہے۔ ہندوستان میں بھی کئی سیاستدانوں کے متاثر ہونے کی خبریں آرہی جن میں تازہ اضافہ کانگریس سے بی جے پی میں آنے والے جیوتردیتیہ سندھیا ہیں،جو اپنی والدہ کے ساتھ قرنطینہ میں چلے گئے ہیں۔

وطن عزیز میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 3 لاکھ کے پار پہنچ چکی ہے اور پوری دنیا میں ہمارا ملک چوتھے مقام پر آگیا ہے،لیکن عالمی ماہرین کے مطا بق حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔ یہی رائے میکس اسپتال کے ڈاکٹر دیون جنیجا کی بھی ہے۔ کئی تحقیقات ہندوستان میں کورونا کی رفتار میں جولائی اور اگست میں اضافہ کا اشارہ کرتے ہیں۔ ایسے میں دہلی کے وزیر اعلیٰ منیش سسودیا کا جولائی کے آخر تک 5.5 لاکھ مریض ہونے کا امکان کا ظاہر کرنا دہشت زدہ کرنے والا ہے۔

اسی طرح کی بات 50 دن قبل احمد آباد کے میونسپل کمشنر وجئے نہرا نے کی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ اگر کورونا وائرس کے کیسز میں تشویشناک اضافہ جاری رہا تو وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد آٹھ لاکھ تک بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔ اس وقت احمدآباد شہر میں صرف 1,638کورونا کے مثبت کیسز تھے، جو اب 16000 پر پہنچ گئی ہے۔ اس میں جو تعداد ٹسٹ نہیں کرنے کے سبب چھپائی گئی اسے چھوڑ دیں۔ اس وقت تک صرف75 مریضوں کی موت ہوئی تھی،لیکن اب یہ تعداد 1428سے زیادہ ہوچکی ہے۔

احمد آباد کا ایک بڑا حصہ وزیر داخلہ کے حلقہئ انتخاب میں آتا ہے،لیکن چونکہ وہ فی الحال گجرات میں رہتے نہیں اس لیے انہیں دہلی کی فکر زیادہ ہے۔ انسان جہاں رہتا ہے وہیں اس کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، اس لیے شاہ جی وجئے روپانی کے بجائے اروند کیجریوال سے اس مسئلہ پر گفتگو کررہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دہلی کی حالت دن بہ دن دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ وزارت صحت کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 2134 نئے کیسز سامنے آئے اور مریضوں کی مجموعی تعدادتقریباً 93 ہزار ہو گئی۔

اسی طرح 24 گھنٹوں کے دوران 57 مزید مریضوں کی ہلاکت سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 1271 پر پہنچ ہوگئی۔ راجدھانی کی اسی بے قابو ہوتے حالات نے وزیر داخلہ امت شاہ کووڈ-19 کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے دہلی کے ایل جی انیل بیجل اور وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے ساتھ مشاورت کے لیے مجبور کردیا۔

اس مشاورت کی اطلاع وزارت داخلہ کے ٹوئٹ سے دی گئی جس میں کہا گیا کہ ”وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن راجدھانی دہلی میں کووڈ-19 کے حوالہ سے صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ایل جی، وزیر اعلیٰ اور ایس ڈی ایم اے کے ارکان کے ساتھ 14 جون کو صبح 11 بجے میٹنگ کریں گے۔اس موقع پر ایمس کے ڈائریکٹر اور دیگر اعلیٰ افسران بھی اس میٹنگ کے دوران موجود رہیں گے۔“ گزشتہ 15 دنوں میں چونکہ دہلی اور چنئی میں ممبئی سے دوگنی رفتار سے کورونا کے معاملے سامنے آ رہے ہیں اس لیے وزیر داخلہ کی یہ دلچسپی بجا ہے،لیکن ملک کی وہ بہت بڑی آبادی جو کورونا سے متاثر نہیں ہے وہ معیشت کی ابتری سے پریشان ہے۔

اس دوران شہروں میں بیروزگاری کی شرح 30 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ دیہی علاقوں میں بھی پہلے سے موجود بیروزگاروں میں مہاجر مزدوروں سے قابلِ قدر اضافہ ہوچکا ہے۔ کسان اپنی پیداوار بیچ نہیں پارہے ہیں۔ شہروں میں ضروری اشیاء کی رسد متاثر ہورہی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایسی صورتحال میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ حیرت انگیز ہے۔ دنیا بھر میں خام تیل کے بھاؤ پاتال میں پہنچے ہوئے ہیں۔ اس کا فائدہ عوام تک پہنچانے کے بجائے حکومت ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہی ہے۔ راجدھانی دہلی کی مثال لیں تو وہاں پٹرول کی قیمت ہفتہ کے دن 59 پیسے کے اضافے کے ساتھ 75 روپے فی لیٹر ہوگئی اور ڈیزل کی قیمت بھی 58 پیسے بڑھ کر 73 روپے فی لیٹر سے زیادہ ہوگئی ہے۔

ملک میں پٹرول- ڈیزل کے دام میں اضافے کا یہ ساتواں دن ہے۔ اس دوران دہلی میں پٹرول 3.90 روپے یعنی 5.47 فیصد اور ڈیزل چار روپے یعنی 5.76 فیصد مہنگا ہوچکا ہے۔ممبئی کا حال اور بھی برا ہے جہاں ڈیزل وپٹرول کا نرخ بالترتیب 77.05 اور 82.10 روپے فی لیٹر پر پہنچ گیا۔ ایندھن کی قیمت میں اضافہ ہر چیز کو مہنگا کردیتا ہے۔ اس لیے وزیرداخلہ اور وزیر خزانہ کو اس جانب بھی توجہ دینی چاہیے۔ ورنہ جو کورونا سے بچ جائیں گے انہیں مہنگائی مارڈالے گی۔ وزیراعظم کو فی الحال ڈسٹرپ نہ کیا جائے توہی اچھا ہے، ورنہ وہ ایک اور اوٹ پٹانگ تقریر داغ کر رخصت ہوجائیں گے جس سے عوام کی زحمت میں اضافہ ہی ہوگا۔

    Published: 14 Jun 2020, 9:11 PM
    next