نوٹ بندی کا فیصلہ، جس کے فائدے عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے... سید خرم رضا

نوٹ بندی کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا لیکن اس کے نقصانات بہت ہوئے ہیں۔ چھوٹے کاروبار تباہ ہوگئے، قومی معیشت کو زبردست نقصان ہوا، یہ وہ فیصلہ تھا جس کے فائدہ عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

پانچ سال قبل جب وزیر اعظم مودی نے اپنے قوم سے خطاب میں یہ اعلان کیا کہ آج رات بارہ بجے سے پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹ کاغذ ہو جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد ملک میں ایک افرا تفری کا عالم تھا، کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہوگا، خود حکمراں جماعت کے کئی رہنما اس فیصلے کی مخالفت کر رہے تھے اور ان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا جبکہ کچھ نے اس کی تفصیلات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی کہ اس سے کالا دھن ختم ہو جائے گا، اس سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ جائے گی اور نہ جانے کیا کیا فائدے گنوا دیئے۔

میں نے بھی گھبراہٹ میں دفتر سے اہلیہ کو فون کیا اور کہا کہ کوشش کرو کہ جو پیسے گھر میں ہیں اس کا کچھ سامان منگوا لو، لیکن پہلی مرتبہ پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے خوشی اور اطمینان کا احساس ہوا۔ بہر حال کرنسی بدلنے کے تعلق سے وضاحتیں آنی شروع ہو گئیں۔ پھر صبح ہوئی تو بینکوں کے باہر لمبی لمبی لائنیں نظر آنے لگیں۔ صحافی ہونے کی وجہ سے لوگ ہم سے زیادہ جاننا چاہتے تھے۔ کچھ دنوں بعد یہ خبریں گشت کرنے لگیں کہ کسی نے پانی میں اپنی ساری رقم بہا دی ہے، عورتوں کو مجبورا اپنے شوہر کو وہ بتانا پڑا جو وہ عام حالات میں نہیں بتاتی ہیں کہ ان کے پاس کتنی جمع پونجی ہے اور قطاروں میں کئی لوگوں کی موت واقع ہو گئی۔


اس کے ساتھ ایک بہت ہی عجیب فیصلہ سامنے آیا کہ حکومت دو ہزار روپے کا نوٹ لا رہی ہے، یہ بات اس لئے عجیب لگی کہ پانچ سو اور ہزار کے نوٹ کو ختم کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی تھی کہ اس سے بدعنوانی رک جائے گی لیکن ان کو ختم کر کے بڑی کرنسی کو شروع کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بدعنوان افراد کے لئے اب کم جگہ میں زیادہ پیسہ رکھنے اور دینے کی سہولت مل گئی، ابھی تک ہم یہ سنتے رہے ہیں کہ بڑی کرنسی سے بدعنوانی کو فروغ ملتا ہے۔ لیکن اس تعلق سے ابھی تک کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا۔

کہا یہ گیا کہ دہشت گردی کی کمر ٹوٹ جائے گی جوکہ آج تک ٹوٹی نظر نہیں آئی۔ کیونکہ دہشت گرد ہمارے فوجیوں اور پولیس والوں کو اب بھی شہید کردیتے ہیں اور ان ظالموں کے ظلم میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ زمین جائداد کی خریداری میں لوگ آج بھی نقد کا استعمال کر رہے ہیں اور ان کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس میں سفید کرنسی صرف اتنی ہی ہو جتنی سرکاری طور پر لازمی ہے۔


کہا یہ جا رہا ہے کہ کیش لیس یعنی کارڈ وغیرہ سے خریداری میں اضافہ ہوا ہے جس سے شفافیت آ ئی ہے۔ کارڈ اور ڈیجیٹل طریقوں سے لین دین میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس میں نوٹ بندی کا کوئی کردار نہیں ہے۔ اس میں اگر کوئی کردار ہے تو سماج کی ترقی، ٹیکنالوجی کی ترقی اور کورونا وبا۔ کورونا وبا کے دوران لوگوں نے جو گھر بیٹھ کر سامان منگوایا اور ان کو جن لوگوں نے رقم ٹرانسفر کی ہے اس سے ضرور ڈیجیٹل پیمنٹ کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔

نوٹ بندی کا کوئی فائدہ نظر نہیں آتا لیکن اس کے نقصانات بہت ہوئے ہیں۔ گھروں سے پیسہ غائب ہو گیا، چھوٹے کاروبار تباہ ہو گئے، قومی معیشت کو زبردست نقصان ہوا جو کہ جلد ابھرتی نظر نہیں آ رہی۔ یہ وہ فیصلہ تھا جس کے فائدہ عوام کو آج تک سمجھ میں نہیں آئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔