کتے کے مرنے پر اظہار افسوس لیکن کسانوں کے مرنے پر نہیں ، گورنر ستیہ پال ملک

گورنر ستیہ پال ملک نے ایک مرتبہ پھر کسان تحریک کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ چھہ سو کسانوں کی موت ہو گئی لیکن حکومت نے ان کے تئیں ہمدردی نہیں جتائی ۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے جب میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کسان تحریک کی حمایت کی ہے یا اس مدے پر مرکزی حکومت کی تنقید کی ہے لیکن اس مرتبہ انہوں نے مرکزی حکومت کو جس انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے وہ بہت سخت نظر آ رہا ہے۔اے بی پی نیوز پورٹل پر شائع خبر کے مطابق انہوں نے کہا ’دہلی میں رہنما کتے کے مرنے پر بھی اظہار افسوس کرتے ہیں لیکن کسانوں کی موت کی کوئی پرواہ نہیں ۔‘

ستیہ پال ملک اس مرتبہ صرف کسانوں تک محدود نہیں رہے بلکہ انہوں نے مرکز کے سینٹرل وستا پروجیکٹ کی بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا نئے ایوان پارلیمنٹ کے بجائے عالمی پیمانہ کا کالج بنانا بہتر ہوگا۔ ملک جے پور میں گلوبل جاٹ سمٹ سے خطاب کر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مدے پر بولنے پر اگر ان کا عہدہ جاتا ہے تو انہیں اس کا کوئی ڈر نہیں ہے۔انہوں نے ساتھ میں یہ بھی کہا کہ گورنر کو ہٹایا نہیں جا سکتا اور اگر مجھ سے کہا جائے گا تو میں ہٹنے میں ایک منٹ کی بھی تاخیر نہیں کرونگا۔


شائع خبر کے مطابق میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا ’’میں پیدائش سےتو گورنر نہیں ہوں ، میرے پاس جو ہے اسے کھونے کے لئے میں ہمیشہ تیار ہوں ۔ میں عہدہ چھوڑ سکتا ہوں لیکن کسانوں کو پریشان اور ہارتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ایسی کوئی تحریک نہیں چلی جس میں چھہ سو لوگ مارے گئے ہوں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔