’’ڈیفیٹ بی جے پی: مشن یو پی‘‘ کسانوں کا نیا نعرہ... سہیل انجم

کسانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح بنگال میں بی جے پی کو شکست دی گئی ہے اسی طرح یو پی اور دوسری ریاستوں میں بھی شکست دی جائے گی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سہیل انجم

مودی حکومت کی جانب سے ستمبر 2019 میں منظور کیے جانے والے متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کو چھ ماہ مکمل ہو گئے۔ اگر ہم 26 جنوری کے اس واقعہ کو نظر انداز کر دیں، جس میں سیکڑوں کسان لال قلعہ تک پہنچ گئے تھے اور بعض مقامات پر تشدد آمیز واقعات بھی ہوئے تھے، تو یہ بات ماننی پڑے گی کہ یہ تحریک مکمل طور پر پُرامن رہی ہے اور اس میں کہیں پر بھی تشدد کا کوئی معمولی سا واقعہ بھی نہیں ہوا۔ حالانکہ 26 جنوری کے واقعہ کے بارے میں یقین کے ساتھ نہیں کہا جا سکتا کہ اس کے پس پردہ کون لوگ تھے۔ کیونکہ کسانوں اور پولیس کے درمیان جو کچھ طے ہوا تھا، کچھ لوگوں نے اس کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجے میں طے شدہ راستے سے الگ ہٹ کر بہت سے کسان دہلی میں داخل ہو گئے تھے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ غالباً یہ ہندوستان کی پہلی ایسی تحریک ہے جو بغیر کسی ناخوشگوار واقعہ کے اتنی طویل مدت سے جاری ہے۔

کسان تنظیموں نے اعلان کیا تھا کہ وہ تحریک کو چھ ماہ مکمل ہونے پر 26 مئی کو یوم سیاہ منائیں گے۔ انھوں نے اس پر عمل کیا اور کسان رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ اس روز کم از کم دس ہزار مقامات پر یوم سیاہ منایا گیا۔ اس موقع پر لوگوں نے گھروں اور دفتروں پر اور ان سرحدی مقامات پر جہاں کسان ہزاروں کی تعداد میں بیٹھے ہوئے ہیں، سیاہ پرچم لہرائے اور وزیر اعظم نریندر مودی اور دیگر وزرا کے پتلے نذر آتش کیے۔ کسان رہنماؤں کا خیال ہے کہ اس سے قبل اتنے بڑے پیمانے پر کسی قانون کے خلاف پرامن انداز میں یوم سیاہ نہیں منایا گیا۔ اس یوم سیاہ کی ایک اور خاص بات یہ رہی کہ نہ کہیں راستہ روکا گیا اور نہ ہی عوام کو کسی قسم کی پریشانی سے دوچار کیا گیا۔ ویسے بھی اس دوران تقریباً پورے ملک میں لاک ڈاون نافذ رہا۔ تاہم لاک ڈاون کے باوجود جتنے بڑے پیمانے پر یوم سیاہ منایا گیا اس کی کم ہی مثال ملے گی۔

یوم سیاہ منانے کے دو روز بعد یعنی 28 مئی کو احتجاج کے مرکز سنگھو بارڈر پر کسانوں کے متحدہ محاذ ’’سمیوکت کسان مورچہ‘‘ (ایس کے ایم) کی ایک نمائندہ میٹنگ ہوئی جس میں طے کیا گیا کہ مغربی بنگال کے بعد اب اترپردیش میں بی جے پی کے خلاف انتخابی مہم چلائی جائے گی۔ اترپردیش سمیت پانچ ریاستوں میں جن میں اتراکھنڈ اور پنجاب بھی شامل ہیں، اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ کسان تنظیموں نے اس میٹنگ میں ایک نیا نعرہ دیا ہے۔ یعنی ’’ڈیفیٹ بی جے پی: مشن اترپردیش‘‘۔ اترپردیش میں بی جے پی کو شکست دینا کسان تنظیموں کا واحد مشن ہے۔

اس سے قبل مغربی بنگال میں بھی کسانوں نے بی جے پی کے خلاف مہم چلائی تھی۔ اس وقت انھوں نے نعرہ دیا تھا ’’ڈیفیٹ بی جے پی، پنش بی جے پی‘‘۔ یعنی بی جے پی کو ہراوَ، اسے سزا دو۔ کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اور سیاسی مبصرین بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ مغربی بنگال میں بی جے پی کی شکست کی ایک وجہ کسانوں کا اس کے خلاف پرچار کرنا بھی تھا۔ اب وہ یو پی اور دوسری ریاستوں میں بھی وہی کرنے جا رہے ہیں۔ یو پی میں حالیہ دنوں میں ہونے والے پنچایت انتخابات میں بی جے پی کو بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حالانکہ پنچایت الیکشن پارٹی کے انتخابی نشان پر نہیں لڑا جاتا لیکن عملاً امیدواروں کو سیاسی پارٹیوں کی حمایت حاصل رہتی ہے۔ بلکہ وہ سیاسی پارٹیوں ہی کے نمائندے ہوتے ہیں۔

جب سے کسانوں کی تحریک شروع ہوئی ہے مغربی اترپردیش میں کافی سیاسی ہلچل ہے۔ بی جے پی کے سنجیو بالیان کو کئی گاوَوں میں گھسنے نہیں دیا گیا تھا۔ پنچایت انتخابات میں جاٹ برادری کا کوئی بھی شخص بی جے پی کی جانب سے الیکشن لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ مغربی یو پی میں کسان تحریک کا اثر ہے تو مشرقی یو پی میں کرونا سے بہتر انداز میں نہ نمٹنے کی وجہ سے بی جے پی اور حکومت کے خلاف عوامی ناراضگی ہے۔ دریاؤں میں تیرتی لاشوں نے بھی یوگی حکومت کے خلاف عوامی غصے میں اضافہ کیا ہے۔ خود وزیر اعظم مودی کے حلقہَ انتخاب وارانسی میں الیکشن کے دوران ان کے نام کی تجویز پیش کرنے والے چھنو لال کے اہل خانہ کا کرونا علاج نہیں ہو سکا۔ اس وجہ سے بھی لوگوں میں ناراضگی ہے۔

اس عوامی ناراضگی نے مرکزی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو فکرمند کر دیا ہے۔ اس بات پر غور و فکر کے ادوار چل رہے ہیں کہ عوامی ناراضگی کو کیسے دور کیا جائے۔ ریاستی وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے طریقہَ حکمرانی نے بھی اس عوامی غصے میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر آکسیجن اور ادویات کی قلت کی شکایت کرنے پر قانونی کارروائیوں نے عوام کو حکومت کے خلاف برگشتہ کر دیا ہے۔ لہٰذا اب اس پر غور ہو رہا ہے کہ کیا یوگی کو وزیر اعلیٰ کے منصب سے ہٹا دیا جائے۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ کچھ وزرا کو جن کی کارکردگی اچھی نہیں ہے برطرف کر دیا جائے اور ایسے نئے چہرے حکومت میں شامل کیے جائیں جن پر عوام کو اعتماد ہو۔ سیاسی مشاہدین کا خیال ہے کہ یو پی میں جلد ہی کچھ ہونے والا ہے۔

کسانوں کا کہنا ہے کہ جس طرح بنگال میں بی جے پی کو شکست دی گئی ہے اسی طرح یو پی اور دوسری ریاستوں میں بھی شکست دی جائے گی۔ تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ چونکہ کسان تنظیم غیر سیاسی تنظیم ہے اس لیے وہ کسی سیاسی پارٹی کے حق میں مہم چلانے کے بجائے صرف بی جے پی کے خلاف مہم چلائیں گی۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ انھوں نے بنگال میں چلائی تھی کہ بی جے پی کو ووٹ مت دو باقی کسی کو بھی دے دو۔ بنگال میں جس طرح بی جے پی کی شکست ہوئی ہے اس نے وزیر اعظم مودی کے سیاسی قد کو چھوٹا کر دیا ہے۔

کسان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابھی چونکہ ملک میں کورونا کی دوسری لہر چل رہی ہے اس لیے تحریک کو زیادہ تیز نہیں کیا جا رہا ہے۔ لیکن جوں ہی کرونا وبا کا زور کم ہوگا اسے پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ابھی چونکہ کرونا کی وجہ سے بہت کم ٹرینیں چل رہی ہیں اس لیے دوسری ریاستوں سے کسانوں کو دہلی لانے میں دشواری ہے۔ لیکن جیسے ہی ٹرینیں چلنے لگیں گی دوسری ریاستوں سے لاکھوں افراد کو لا کر دہلی اور یو پی و ہریانہ کی سرحدوں پر جمع کر دیا جائے گا۔

سیاسی مشاہدین کہتے ہیں کہ اس تحریک کو پرامن انداز میں چھ ماہ تک چلا لے جانے سے کسانوں میں نئی خود اعتمادی پیدا ہوئی ہے اور چونکہ اس تحریک میں نوجوانوں کی شمولیت زیادہ ہے اس لیے یہ بات تحریک میں جان ڈالتی ہے۔ نوجوانوں کے علاوہ دانشور طبقہ بھی تحریک کے ساتھ ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی ہیں اور عوام تو ہیں ہی۔ اس لیے ان کا کہنا ہے کہ یہ تحریک اب ختم ہونے والی نہیں ہے۔ کیونکہ کسانوں نے انتہائی برعکس حالات اور موسم کو جھیل لیا ہے۔ شدید سردی جھیلی ہے۔ برسات جھیلی ہے اور اب چلچلاتی دھوپ اور گرمی بھی جھیل رہے ہیں۔ حالانکہ اس دوران حکومت کی جانب سے تحریک کو ناکام یا کمزور کرنے کی کئی کوششیں ہوئیں لیکن حکومت اس میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

آل انڈیا کسان سبھا کے جنرل سکریٹری اور کمیونسٹ رہنما حنان مُلّا کہتے ہیں کہ اس حکومت کی سرد مہری نے کسانوں کو اس کے خلاف انتخابی مہم چلانے پر مجبور کیا ہے۔ ہم لوگوں نے وزیر اعظم کے نام 21 مئی کو ایک مکتوب بھی لکھا ہے جس میں ان سے مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن ان کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا ہے جبکہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے وزیر اعظم ہونے کے ناطے ان پر یہ ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ بات چیت کا احیاء کریں اور اپنے وزیر زراعت سے کہیں کہ وہ کسانوں سے گفتگو کریں۔ لیکن وہ ایسا اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ وہ بھی اور پوری حکومت بھی یہ سمجھتی ہے کہ بات چیت کو تعطل میں ڈال دینے سے تحریک اپنے آپ مر جائے گی۔ یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت تیار نہیں ہے۔ یہ بات جمہوریت کے مفاد میں نہیں ہے۔ لیکن ہم لوگ پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔

کسان رہنماؤں کا بار بار یہ کہنا ہے کہ حکومت ان کے صبر کو آزمانا چاہتی ہے۔ لیکن ہمارا صبر ٹوٹے گا نہیں اور حکومت کو بہرحال جھکنا پڑے گا۔ ہم نے 2024 تک کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔ ابھی تو ہم اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے خلاف مہم چلا رہے ہیں اگر حکومت نے ہمارا مطالبہ نہیں مانا اور تینوں متنازعہ قوانین واپس نہیں لیے تو ہم پارلیمانی انتخابات میں بھی حکومت کے خلاف مہم چلائیں گے۔ اگر حکومت ہمارا صبر آزمانا چاہتی ہے تو ہم بھی حکومت کا صبر آزمانا چاہتے ہیں۔ ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت کب تک بات چیت نہیں کرتی اور ہمارا مطالبہ نہیں مانتی۔ گویا کسانوں کا حکومت سے کہنا ہے کہ :

ادھر آ ستمگر ہنر آزمائیں
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔