ملک میں ’بھیڑ تنتر‘ کا راج، پھر بھی مودی حکومت قانون بنانے کے خلاف!

موب لنچنگ پر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو قانون بنائیں گے، حکومت کو شاید انتظار ہے جب ہجوم ملک کی ہر سڑک، گلی، نام، کھانے کی عادات، کاروبار اور لباس کی بنیاد پر گھیر-گھیر کر ماریں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تسلیم خان

جس دن سپریم کورٹ نے حکومت سے کہا کہ موب لنچنگ روکنے کے لئے قانون بنائے، اسی دن بھگوادھاری ہجوم نے سماجی کارکن سوامی اگنی ویش پر قاتلانہ حملہ کر دیا، ابھی سوامی اگنی ویش کا معاملہ ٹھنڈا بھی نہیں تھا کہ راجستھان کے الور میں ركبر کو قتل کر دیا گیا۔ ان واقعات کے درمیان حکومت کے وزیر، بی جے پی اور آر ایس ایس کے رہنما کہہ رہے ہیں کہ زندہ رہنا ہے تو گوشت کھانا بند کر دیں، گائے پالنی بند کر دیں۔ ان سارے واقعات میں تشویش کی بات یہ ہے کہ ایک وزیر کھلے عام یہ کہتے ہیں کہ پی ایم مودی کی مقبولیت جتنی بڑھے گی، موب لنچنگ کے واقعات بھی اتنی تیزی سے بڑھیں گے، یہ صاف طور سے اعتراف ہے کہ بی جے پی ، مودی کی مقبولیت اور ہجومی تشدد کے واقعات میں براہ راست تعلق ہے۔

پارلیمنٹ میں اپوزیشن جب اس معاملے کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے تو اسپیکر ناراض ہو جاتی ہیں، منگل کوہجومی تشدد کے سلسلے میں انہوں نے صاف کہا کہ’’ہو رہا ہے تو کیا کریں۔‘‘ ان کا غصہ یہیں نہیں رکا، انہوں نے اس مسئلے کو لوک سبھا میں اٹھانے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا، پورا ملک جانتا ہے کہ ہجومی تشدد کا یہ ننگا ناچ سیاسی ہے، پھربھی اسپیکر کہتی ہیں کہ’’ ہر مسئلے میں سیاست مت کریئے، کل شام کو وزیر داخلہ نے بیان دے دیا، پھر بھی آپ لوگ اگر چاہتے ہیں تو میں وزیر داخلہ سے كہوں گی وہ اس سلسلے میں دوبارہ پر اپنا بیان دیں۔‘‘ اس مسئلے پر اسپیکر سمترا مہاجن کا غصہ اس حد تک تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو کھری کھوٹی سنا دی ، انہوں نے کہا کہ ’’سبھی لوگ آج اسی پر بولوگے ، جانے دو، مگر روز روز نہیں چلے گا۔‘‘

اس دوران اپوزیشن کے ایک رہنما نے جب کہا کہ ہجومی تشدد کے واقعات روز ہی ہو رہے ہیں، تو اسپیکر کا جواب تھا کہ ’’ہو رہا ہے تو کیا کریں؟‘‘ اسپیکر یہیں نہیں ركیں، کانگریس لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکا رجن کھڑگے جب اس معاملے پر بولنے لگے تو اسپیکر کا غصہ صاف ظاہر ہو رہا تھا، انہوں نے کہا کہ’’آپ بولو، کوئی بات نہیں، آپ کا بھی پیٹ بھرے بولنے سے ...‘‘

یہ کون سی زبان ہے، کون سا رویہ ہے؟

حد تو یہ ہے کہ جب جب ہجومی تشدد کی بات ہوتی ہے تو وزیر داخلہ کو 1984 کے فساد یاد آجاتے ہیں، لیکن ان کے دور حکومت میں لوگوں کو گھیر-گھیر کر قتل کرنے کے مسلسل بڑھتے واقعات پر وزیر داخلہ کو اب بھی قانون بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی، انہوں نے منگل کو پارلیمنٹ میں کہا کہ’’ اگر ضرورت پڑی تو قانون بنائیں گے۔‘‘

صاف ہے کہ اس معاملے پر حکومت کی نیت ہی درست نہیں ہے، گائے کے نام پر ہو رہے تشدد کو روکنے کے لئے سخت قدم اٹھانے میں انہیں نقصان نظر آتا ہے، کیونکہ گائے کے بہانے ہندو -مسلمان کا شور مچا کر ووٹوں کے پولرائزیشن میں انہیں انتخابی فائدہ دکھائی دیتا ہے۔

اتنا ہی نہیں حکومت کے ان منصوبوں میں حکومت کے اشاروں پر ڈسکو کر رہا میڈیا بھی نئی نئی بحثیں ایجاد کر رہا ہے۔ ہر ٹی وی اسٹوڈیو میں بحث اس بات پر نہیں ہو رہی ہے کہ ہجومی تشدد پر روک لگنی چاہئے، بلکہ بحث ہو رہی ہے اس پر بات پر کہ کیا ایسا ہونا ٹھیک ہے، تشدد، کسی بھی وجہ یا کسی بھی گروپ یا کمیونٹی کی طرف سے کی جا رہی ہو اسے بند ہونا چاہئے، جیسے ہی یہ سوال اٹھتا ہے کہ ’کیا تشدد پر روک لگنا چاہئے ...‘ ارادے صاف نظر آتے ہیں، سوال تو یہ ہونا چاہئے کیوں نہیں تشدد پر روک لگ رہی ہے۔

بات اتنی بڑھ گئی ہے کہ ملک کے چیف جسٹس عوامی طور پر ایسے واقعات کے لئے صرف سوشل میڈیا کو ہی ذمہ دار مانتے ہوئے اسے روکنے کا ذمہ بھی لوگوں پر ہی ڈالتے ہیں، منگل کو ایک پروگرام میں چیف جسٹس دیپک مشرا کہتے ہیں کہ’’ حالیہ دنوں میں موب لنچنگ کے واقعات تیزی سے بڑھے ہیں، چونکہ میں نے اس پر فیصلہ دیا ہے تو مجھے غلط نہ سمجھئے، موب لنچنگ سوشل میڈیا پر وائرل پیغامات کی بنیاد پر ہو رہے ہیں ۔ ‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ’’ شہریوں کو سوشل میڈیا پر ضرورت سے زیادہ اعتماد خود ہی ختم کرنا ہوگا تاکہ معاشرے میں امن و امان قائم رہے۔‘‘

تو کیا مانا جائے کہ بی جے پی رہنما ، مودی حکومت کے وزیر اورسنگھ کے عہدیدار ملک کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ایسے واقعات روکنے کی؟

تو کیا مانا جائے کہ بی جے پی رہنما ، مودی حکومت کے وزیر اورسنگھ کے عہدیدار ملک کے شہری نہیں ہیں؟ کیا ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے ایسے واقعات روکنے کی؟

مودی کے وزیر ہی کافی نہیں تھے اس آگ میں گھی ڈالنے کا کام کرنے کے لئے، اتر پردیش کی یوگی حکومت کے حامی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی بھی کھل کر بولنے لگے ہیں وسيم رضوی کھلے عام کہہ رہے ہیں،’’ مسلمانوں کو بیف کھانا بند کر دینا چاہئے، گائے کو حلال کرنا بند ہونا چاہئے، گائے کا گوشت اسلام میں حرام ہے، آپ ہجومی تشدد نہیں روک سکتے، ہر جگہ تحفظ فراہم نہیں کرایا جا سکتا، گائے مارنے والوں کو سخت سزا دینے کے لئے قانون بننا چاہئے۔‘‘

شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین کے اس بیان کا تو یہی مطلب نکلتا ہے کہ مسلمان گائے مار رہا ہے، کھا رہا ہے، اس کو تبدیل کرنا پڑے گا، ہجومی تشدد نہیں رکے گا، بھلے ہی کچھ کر لو، آخر یہ سب کیوں ہو رہا ہے؟

ریاستوں کے وزیر صاف کہہ رہے ہیں موب لنچنگ نہیں رکے گی، مرکزی وزیر کہتے ہیں مودی کی مقبولیت اور موب لنچنگ میں براہ راست تعلق ہے، موب لنچنگ کا مسئلہ لوک سبھا میں اٹھانے پر اسپیکر ناراض ہو جاتی ہیں اور ملک کے وزیر داخلہ کو اس بارے میں قانون بنانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے دوران ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ بھیڑ تنتر کا راج ہے اور اسے کسی کی بھی جان لینے کا حق ہے۔

نفرت کی چاشنی میں ڈوبے موجودہ نظام حکومت کی ضد کے خلاف اب لوگوں کا غصہ عروج پر ہے، سینئر صحافی اجیت انجم کا فیس بک پوسٹ اس غصے کو نمایاں کرتا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں کہ:

... خوش ہو لو آج

کہ سنسد سے سڑک تک بھیڑ ہو تم۔

(اجیت انجم کی پوسٹ نیچے دیکھ سکتے ہیں)

रकबर भी मरेगा, अकबर भी मरेगा सलीम भी मरेगा, सुल्तान भी मरेगा हर बार भीड़ के हाथों इंसान ही मरेगा अखलाक भी मरा है पहलू...

Posted by Ajit Anjum on Tuesday, July 24, 2018