کورونا ویکسین: دوسرے ممالک کو فراہمی، اپنے ملک میں ہاہاکار...اعظم شہاب

مہاراشٹر کو جتنی مقدار میں کورونا ویکسین کی ضرورت ہے، مرکز کی جانب سے وہ فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ ویکسین کی کمی کی وجہ سے ریاست کے 25فیصد ویکسینیشن مراکز بند ہوچکے ہیں اور کچھ بند ہونے کی کگار پر ہیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

اعظم شہاب

کورونا سے مقابلہ کی مہابھارت 21 دن میں جیتنے کا اعلان کرنے والے ہمارے پردھان سیوک جی کے وہم وگمان میں بھی یہ نہیں رہا ہوگا کہ یہ وبا ایک سال بعد نہ صرف برقرار رہے گی بلکہ اس کے قہر میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔ صورت حال یہ ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں کورونا کے ایک لاکھ 52 ہزار879 نئے معاملے سامنے آئے ہیں جن میں سے 839 مریضوں کی موت ہوچکی ہے۔ کورونا کے ملک میں آمد کے بعد سے مریضوں کی تعداد میں یہ ریکارڈ اضافہ ہے جس کے آئندہ ٹوٹتے رہنے کے نہایت قوی امکان ہیں۔ اسی کے ساتھ ملک میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 13358805 ہوچکی ہے۔ اگر کورونا کے پھیلاؤ کی یہی رفتار رہی تو بعید نہیں کہ ہم بہت جلد امریکہ و برازیل کو پچھاڑ کر دنیا میں اول مقام حاصل کرلیں۔ ویسے بھی مودی جی نے بھارت کو پانچ ٹریلین ڈالر کی اکونامی بنانے کا اعلان کرکے ملک کی معیشت کی ارتھی اٹھا دی ہے، اب اگر وہ کورونا کے معاملے میں ہمارے ملک کو دنیا میں اول مقام پر پہنچادیں تو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

کورونا ایک عالمی وبا ہے جس میں ظاہر ہے ہمارے مودی جی کیا کرسکتے ہیں۔ ان کے بس میں جو تھا وہ تو انہوں نے کورونا کے ابتدائی دنوں میں ہی دیش واسیوں سے کروا ہی چکے۔ اب جبکہ کورونا کی دوسری لہر آچکی ہے تو مودی جی نے دوسرے ممالک کو ویکسین فراہم کرنے کا بیڑا اٹھا لیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ملک کے اندر ویکسین کے لیے ہاہاکار مچی ہوئی ہے۔ ہم بات مہاراشٹر کی کرتے ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیرصحت راجیش ٹوپے نے 7 اپریل کو اعلان کیا تھا کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے تین دنوں کے اندر خاطرخواہ مقدار میں ویکسین کی فراہمی نہیں ہوئی تو ریاست میں کورونا کی ٹیکہ کاری کی مہم بند ہوجائے گی۔ اس کے ایک دن بعد ہی مرکزی حکومت نے ریاستوں کو ویکسین کی فراہمی کر دی جس میں مہاراشٹر کو 85 لاکھ، گجرات کو 80 لاکھ، راجستھان کو 78 لاکھ اور اترپردیش کو 76 لاکھ ویکسین فراہم کی گئی۔ بظاہر تو مرکزی وزارت صحت کا نہایت عمدہ اقدام معلوم ہوتا ہے کہ ریاستوں میں ویکسین کی قلت سے قبل ہی ازالہ کر دیا گیا، لیکن اگر ان ریاستوں کو مطلوب مقدار، فراہمی، ایکٹیو کیسیس وآبادی پر ایک نظر ڈالی جائے تو صاف ظاہر ہوجاتا ہے کہ مرکزی حکومت مہاراشٹر کے ساتھ جانبداری برت رہی ہے۔ اب یہ جانبداری کس طرح ہے؟ آئیے ایک نظر اس پر ڈالتے ہیں۔

مہاراشٹر کی کل آبادی 12.30 کروڑ ہے جہاں کورونا کے ایکٹیو معاملے 4.7 لاکھ ہیں۔ پورے ملک میں مہاراشٹر ہی وہ واحد ریاست ہے جہاں کورونا کی ٹیسٹنگ اور ویکسینیشن کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ریاست کے وزیرصحت کے مطابق ریاست میں 40 لاکھ ڈوز ہرہفتہ اور 1.6کروڑ ڈوز ماہانہ درکار ہے، جبکہ 85 لاکھ ڈوز دیئے گئے ہیں۔ اس کے برخلاف گجرات کی آبادی 6.5 کروڑ ہے جہاں کل ایکٹیو معاملے کی تعداد 17 ہزار ہے اور گجرات کو دیئت گئے 80 لاکھ ڈوز یعنی مہاراشٹر سے صرف 5 لاکھ ڈوز کم۔ اسی طرح راجستھان کو 78 لاکھ ویکسین فراہم کی گئی جہاں کی کل آبادی 8.10 کروڑ ہے اور جہاں کل ایکٹو معاملے کی تعداد 16 ہزار ہے۔ اترپردیش کو 78 لاکھ ڈوز فراہم کیے گئے ہیں جہاں کی آبادی 23 کروڑ ہے اور جہاں ایکٹو کیس 17 ہزار ہیں۔ اب اگر آبادی کے تناسب سے دیکھا جائے تو اترپردیش کو سب سے زیادہ ڈوز ملنے چاہیے اور اگر ایکٹو معاملوں اور ضرورت کے مطابق دیکھا جائے تو مہاراشٹر کو سب سے زیادہ ویکسین ملنی چاہیے۔ جبکہ ان تمام ریاستوں کو مکمل ویکسینیشن کے لیے کہیں زیادہ ڈوز کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف ہمارے مودی جی اپنے پڑوسی ممالک کو مفت میں ویکسین کی فراہمی کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ پاکستان کو بھی مفت میں ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پہلے اپنے عوام کی ضرورت پوری کی جاتی، مگر اس کا کیا جائے مودی جی ہیں تو سب کچھ ممکن ہے۔

گزشتہ کل کانگریس کی صدر سونیاگاندھی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کانگریس کی اقتدار والی ریاستوں کے وزرائے اعلی و اسمبلی کے لیڈران کے ساتھ ایک میٹنگ کی جس میں کورونا کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔ اس جائزے میں مہاراشٹر سے وزیر محصول بالاصاحب تھورات نے شرکت کی جس میں انہوں نے مہاراشٹر کے ساتھ مرکزی حکومت کی جانبداری پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ میٹنگ کی جو رپورٹ میڈیا میں آئی اس کے مطابق مہاراشٹر کو جتنی مقدار میں کورونا ویکسین، ریمیڈیسیور انجکشن، آکسیجن وغیرہ کی ضرورت ہے، مرکز کی جانب سے وہ فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ ویکسین کی کمی کی وجہ سے ریاست کے 25 فیصد ویکسینیشن کے مراکز بند ہوچکے ہیں اور کچھ بند ہونے کی کگار پر ہیں۔ ریاست میں ریمیڈیسیور انجکشن کی بھی قلت کی خبریں آچکی ہیں۔ مگر وہیں گجرات میں سورت کے بی جے پی دفتر سے یہ انجکشن فری میں تقسیم کیے جا رہے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے مرکزی وزیر صحت پرکاش جاؤڈیکر نے مہاراشٹر میں ویکسین کے ضائع ہونے کی وجہ بتاکر ویکسین کی کم فراہمی کا جواز پیش کیا ہے۔ جبکہ اگر اعداد وشمار دیکھے جائیں تو مہاراشٹر میں ویکسین کے زیاں کی شرح کئی بی جے پی ریاستوں سے بہت کم ہے۔ مہاراشٹر میں ویکسین کا زیاں 3 فیصد ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں یوگی جی کی ریاست اترپردیش میں یہ شرح ساڑھے 9 فیصد ہے اور تلنگانہ میں تو یہ ساڑھے 17 فیصد ہے۔ مہاراشٹر میں کورونا کی صورت حال اس قدر سنگین ہوچکی ہے کہ اب مکمل لاک ڈاؤن لگانے کی تیاری کی جارہی ہے، مگر وہ ہتھیار جن سے کورونا سے مقابلہ کیا جاسکتا ہے، انہیں مرکز نے اپنے کنٹرول میں لے کر غیر بی جے پی ریاستوں کے ساتھ جو جانبدارانہ سلوک کر رہی ہے، اس کا خمیازہ عام آدمی کو بھگتنا پڑسکتا ہے۔ ہمارے پردھان سیوک کا ایک مول منتر ’آپدا میں اوسر‘ کا بھی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس آپدا کے موقع پر بھی مرکز کی بی جے پی حکومت اوسر تلاش کر رہی ہے۔ لیکن کم ازکم اس بحران کے عالم میں بی جے پی کو اپنے پاؤں کے گھونگھرو توڑ دینا چاہیے تھے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔