کانگریس نے ہمیشہ جمہوریت کی بقا اور ملک کی ترقی کے لیے کام کیا... انیس درانی

راہل گاندھی کو الفاظ کے تعلق سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے فاشسزم جتنی تیزی کے ساتھ آتا ہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ زوال پذیر بھی ہوتا ہے۔ آج راہل کو فاشسزم کے خلاف استقامت کے ساتھ کھڑا رہنے کی ضرورت ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

انیس درانی

انڈین نیشنل کانگریس کب تک اپنی ہر کوتاہی کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ذمہ دار ٹھہراتی رہے گی۔ بھاجپا کے غیر اخلاقی سیاسی داؤں پینچ سے آج ہر بھارتی واقف ہے مگر پھر بھی وہ کانگریس کی طرف ملتفت نہیں ہو رہا ہے۔ حالانکہ ایمرجنسی کے ایک مختصر عرصہ کے سوا کانگریس ہمیشہ جمہوریت کی بقا اورملک کی ترقی کے لیے کام کرتی رہی ہے۔ کانگریس کو فوری طور پر اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے حالانکہ اسے اس خود احتسابی کے عمل کو اس وقت ہی انجام دینا چاہیے تھا جب 2014ء کے پارلیمانی الیکشن میں اسے زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگر کانگریس اس وقت اپنی شکست کے اسباب کھوجنے کی کوشش کرتی توبہت امکان تھا کہ وہ 2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں ہی بھاجپا کو دھول چٹا دیتی۔ اس بات کو محض خوش فہمی نہ سمجھا جائے بنا کسی خاص کوشش کے 2019ء میں کانگریس کو 2014ء سے زیادہ سیٹوں پر کامیابی ملی تھی۔ اب جبکہ کانگریس سے جیوترآدتیہ سندھیا کی رخصتی عمل میں آچکی ہے یہ سوال پھر موضوع بحث بن گیا ہے کہ آخر کانگریس کب موجودہ بے عملی کے دور سے باہر نکلے گی؟ کب اپنی دیرینہ صلاحیتوں کو کام میں لاکر ملک میں پھیلتی ہوئی نراجی کیفیت کو ختم کرنے کی طرف متوجہ ہوگی؟ اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا کانگریس اپنے غریب پرور اور سیکولر نظریات کے ساتھ دوبارہ برسراقتدار آسکتی ہے؟

ان سوالات کا جواب ڈھونڈھنے کے لئے ہم کو اس حقیقت کا بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ تمام شکستوں، بے عملی سیاسی قیادت کے لاابالی پن کے باوجود آج بھی کانگریس ایک ملک گیر پارٹی ہے جس کے نام سے جنوبی بھارت کے دوردراز گاؤں کے لوگ بھی بخوبی واقف ہیں۔ آج بھی ملک میں کروڑوں ووٹرز ایسے ہیں جو صرف کانگریس کا نام دیکھ کر ووٹ کرتے ہیں یہ بات بھی قابل غورہے کہ 2014ء میں پارلیمانی الیکشن ہارنے کے باوجود دسمبر 2018ء میں اس نے مدھیہ پردیش، راجستھان، چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ اور مہاراشٹر جیسے اہم علاقوں میں بھاجپا کو اقتدار سے باہر کردیا۔ اورتازہ ترین دہلی کا معاملہ ہے جہاں بھاجپا کو ہرانے کے لئے اس کے خلاف پڑنے والے ووٹوں کو تقسیم سے بچانے کے لئے کانگریس نے اپنا الیکشن بہت مدھم سر میں رکھا اور بھاجپا کو برسراقتدار آنے سے روک دیا۔ ہریانہ میں بھی بھاجپا الیکشن لگ بھگ ہارہی گئی تھی وہ توعزت بچانے کے لئے نائب وزیراعلیٰ کا عہدہ دے کر مخلوط حکومت کو قبول کرنا پڑا۔ مختصریہ کہ کانگریس کو بھارتی سیاست سے فی الوقت خارج سمجھنا نادانی ہوگی۔ اور نہ مستقبل قریب میں ایسا ہوسکتا ہے کہ بھارت کانگریس مکت بن سکے۔

کانگریس اس وقت قیادت کے خلا کی شکار ہے موجودہ صورت حال سے پیشتر اسے کبھی ایسی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کی وفات کے بعد کانگریس ورکنگ کمیٹی نے لال بہادر شاستری کو پارٹی کا لیڈر چنا شاستری جی جنگ آزادی کے مجاہد کم سخن اور بے حد ایماندار ہونے کے باوجود نرم لہجے کے مالک تھے۔ کئی وزارتوں کا تجربہ بھی انہیں حاصل تھا کانگریس ورکنگ کمیٹی نے انہیں یہ سوچ کر چنا تھا کہ وہ ان کے زیردست رہیں گے۔ بدقسمتی سے پاکستان سے جنگ ہوگئی اورمعاہدہ امن کے دوران تاشقند (روس) میں ان کی بے وقت موت ہوگئی، ان کے حقیقی جوہر کھلنے سے پہلے ہی بھارت اورکانگریس ان کی قیادت سے محروم ہوگیا۔

شاستری جی کے بعد کانگریس نے اندراگاندھی کو پارٹی کا لیڈر چنا اس وقت بھی کانگریس کے سینئر لیڈروں یعنی ورکنگ کمیٹی نے یہی سوچا تھا کہ وہ اس نرم ونازک موم کی گڑیا کو اپنی مرضی کے موافق تراش لیں گے۔ لیکن اندار گاندھی ان کی منشا سے آگاہ تھیں اور اپنے قدم مضبوطی سے جماکر انہوں نے ایسی جنگ لڑی کہ سینئر لیڈروں کے سنڈیکیٹ کا خاتمہ ہی کردیا۔ اندراگاندھی کے المناک قتل کے بعد ان کے فرزند راجیو گاندھی کو پارٹی لیڈر چن لیا گیا آنجہانی راجیو گاندھی بھی چند سال کے بعد دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔ اس کے فوراً بعد نرسمہا راؤ کو پارٹی لیڈر منتخب کرکے کانگریس میں قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھا گیا اس دوران پہلے سیتا رام کیسری پارٹی کے صدرمنتخب ہوئے۔ ان کے صدر منتخب ہونے کی پشت پر ہی نہروگاندھی خاندان کا ہاتھ تھا۔ لیکن صدر بنتے ہی انہوں نے نہرو گاندھی خاندان کو اثر نفوذ کو کم کرنے کے لئے چالیں کھیلنی شروع کر دیں اور یہی ان کے زوال کا سبب بنا۔

اس طویل عرصہ کے دوران نہرو گاندھی خاندان نے صاف محسوس کیا کہ کانگریس آہستہ آہستہ اپنی نظریاتی راہ سے بھٹک رہی ہے اوراب اس انحطاط کو نہیں روکا گیا تو پھراس میں اور دوسری جماعتوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا چنانچہ کانگریس کو اس کی نظریاتی اساس پر قائم رکھنے کے لئے نئی صدی کے آغاز سے سونیا گاندھی نے پارٹی اورملکی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی اوران کے مطلع سیاست پر نمودار ہوتے ہی سب کے چراغ گل ہوگئے 2004 کا الیکشن کانگریس نے ان کی قیادت میں لڑا اور کامیاب ہوئی اس وقت انہوں نے پھر قربانی دی اور دنیا کے مانے ہوئے ماہر معاشیات سردار منموہن سنگھ کو ملک کا وزیراعظم بنا دیا، حالانکہ اس وقت کانگریس بہت مضبوط تھی اورسارے ملک میں کانگریس کے ارکان مظاہرہ کرکے سونیا گاندھی سے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے لئے اصرار کر رہے تھے۔ مگر سونیا گاندھی نے پارٹی کو مستحکم بنانے کے لئے صدارت پر فائز رہنا ہی مناسب سمجھا۔ منموہن سنگھ کی شخصیت بے داغ تھی انہوں نے نہایت ایمانداری کے ساتھ کانگریس کو بلند رکھنے کے لئے سونیا گاندھی کے شانہ بہ شانہ کام کیا۔

2009ء کے پارلیمانی الیکشن سے راہل گاندھی سیاست میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے لگے پارلیمنٹ کے ممبر وہ پہلے ہی بن چکے تھے نہر وگاندھی خاندان کا ایک فرد بلکہ وارث ہونے کے سبب وہ سب کے لیے قابل احترام تھے ان کو مستقبل کے وزیراعظم کے طور پر دیکھتے تھے ہمارے خیال سے یہاں ایک بنیادی غلطی ہوئی (اس کا فیصلہ تومستقبل کا مورخ کرے گا) راہل گاندھی کو سیاسی طور پر فیصلے لینے میں مدد کرنے اور مشورہ دینے کے لئے ان کے ہم عمر نوجوانوں کی ایک ٹیم منتخب کرنے کا اختیار بھی انہیں دیا گیا۔ ظاہر ہے راجیو گاندھی اورسونیا گاندھی کی اولادیں ایک بہت محدود اورمخصوص دائرے میں پروان چڑھی تھیں اس کا ایک سبب انہیں سیکورٹی فراہم کرنا بھی تھا اس لئے ان کے زیادہ تردوست دوسرے سینئر سیاست دانوں اور اہم لوگوں کی اعلی تعلیم یافتہ اولادیں تھیں اور اس میں سے بیشتر لیپ ٹاپ جانباز تھے اور دنیا کے ہر مسئلہ کو گوگل اور لیپ ٹاپ کے تال میل سے دیکھنے کے عادی تھے بھارت کی دھرم ذات پات اور انتہائی غریبی والی سیاست کا صحح تجزیہ دھرتی پر اترنے سے ہی ہوسکتا ہے ساتھ ہی ساتھ اس پورے بریگیڈ میں صبر مفقود تھا۔ جو سیاست میں ایک بہت اہم حکمت عملی ہے۔

سیاست بھی عاشقی کی طرح صبر طلب ہوتی ہے مگر سیاست داں کی تمنائیں بھی عاشق کی طرح بے تاب رہتی ہیں۔ راہل گاندھی ٹیم کے بیشتر ممبر جلد از جلد ان سینئر لیڈروں کے ہم پلہ اور ان کی طرح قابل احترام ہونا چاہتے تھے جنہوں نے زندگی کے تیس تیس چالیس سال کانگریس کی خدمت میں گزارے تھے چنانچہ کانگریس کے سینئر لیڈروں اور بساط سیاست پر ان نو واردوں کے مابین ایک سرد جنگ چھڑگئی۔ جوابھی تک جاری ہے اور کانگریس کی موجودہ صورت حال کے لئے بہت حد تک ذمہ دار ہے۔ دراصل ہونا یہ چاہیے تھا کہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اپنے بااعتماد اورتجربہ کار مشیروں اورسینئر لیڈروں کی ایک ٹیم راہل گاندھی کے حوالے کرتیں اس ٹیم میں راہل گاندھی کے چند ہم عمر ساتھی بھی ہوتے اس سے یہ فائدہ ہوتا کہ ایک طرف راہل گاندھی کو بھارتی سیاست کے پیچ وخم سمجھنے میں آسانی ہوتی اور وہ خود تجربے کرکے سیکھنے کے جھنجھٹ سے بچ جاتے اور دوسری طرف پارٹی کے سینئر لیڈروں کو یہ خدشہ نہیں ہوتا کہ وہ اب کاٹھ کباڑ کے گودام میں ڈال دیئے جائیں گے۔

اس سیکھنے سکھانے کے عمل میں راہل گاندھی نے بہت محنت کی مگر ان کی زیادہ توجہ ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر کی طرف رہی جس میں بھاجپا پوری قوت کے ساتھ ہندوتوا کے شور میں ساری آوازوں کو دبا رہی تھی کانگریس یہ فیصلہ نہیں کرپائی کہ ہندوتوا سے کس طرح لڑے، کانگریس ورکنگ کمیٹی کسی واضح نتیجے پر نہیں پہنچ سکی کہ اس ہندوتوا کا جواب اتنی ہی قو ت کے ساتھ سیکولرازم اور سوشلزم کا پرچم بلند کرکے دیا جائے۔ یا پھر سوفٹ ہندوتوا کو آگے بڑھایا جائے، اس موضوع پر بحث ہوتے ہوتے منموہن سنگھ کی دوسری حکومت کا وقت بھی ختم ہوگیا اور 2014ء میں بھاجپا انجام کار بہت واضح اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آگئی۔

حالانکہ منموہن سنگھ سرکار نے بہترین کارگزاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ جس وقت دنیا مندے کی مار سے جھوجھ رہی تھی اس وقت انہوں نے بھارت کی اقتصادی صورت حال کو بہت مہارت کے ساتھ رواں رکھا۔ 2004ء اور2014ء کے درمیان کانگریس نے اپنی جمہوریت پسندی اپنے لبرل ازم یارواداری کے تحت دوفاش غلطیاں کیں جن کے سبب آج کانگریس موجودہ حالت کو پہنچی ہے پہلی فاش غلطی یہ ہوئی کہ 2002 گجرات کے فسادات کے ملزموں کو قانون کی گرفت میں لانے کی کوئی کوشش نہیں کی، اس سے ملک کی اقلیت جنہوں نے 2002 کی اس نسل کشی کے خلاف بڑھ چڑھ کر ووٹ دیا تھا کانگریس سے پھر مایوس ہوگئے، دوسری طرف ملک میں یہ احساس پھیلا کہ گجرات میں جو کچھ ہوا تھا وہ صحیح تھا اسی لئے مرکزی حکومت نے بھی کوئی ایکشن نہیں لیا اگر کانگریس کی مرکزی حکومت اس معاملہ پرسختی دکھاتی توآج جو لوگ مسند اقتدار پر بیٹھے کانگریس کو ختم کرنے کی سازشیں رچ رہے ہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے، دوسری غلطی کانگریس سے یہ ہوئی کہ اس نے سماج پر میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات کا صحیح تجزیہ نہیں کیا وہ سوشل میڈیا کے تعلق سے بھی اتنی دیر میں حرکت میں آئی جب بھاجپا سوشل میڈیا کے ذریعہ ملک کے نوجوانوں اور نیم خواندہ لوگوں کے اذہان پر اپنی گرفت مضبوط کرچکا تھا۔

2004ء اور 2009 کے درمیانی عرصہ میں کانگریس کے بہت سے اہم کارکنان اورعلاقائی لیڈروں نے ٹیلی ویژن چینل اور اخبارات کے لیے نئے ضابطے بنانے کی تجاویز رکھیں مگر کانگریس ہائی کمان نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جبکہ مودی سرکار نے 2014ء میں برسراقتدار آتے ہی بڑے غیرجمہوری طریقے اپنا کر ملک کے بیشتر قومی میڈیا کو اپنی گرفت میں لے لیا اور خاص طور پر ٹیلی ویژن کے ذریعہ پورے بھارت میں کانگریس کے ماضی کے لیڈروں اورموجودہ لیڈروں کے خلاف نفرت کی مہم چھیڑدی، بھارت کے عوام کو کانگریس سے بدظن کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا اسی مہم کا یہ نتیجہ نکلا 2019ء میں بھاجپا دوبارہ برسراقتدار آگئی حالانکہ ملک کی معاشی صورتحال نہایت تشویشناک صورتحال سے دوچار تھی اور آج بھی ہے۔

منموہن سنگھ حکومت کے دوسرے دورمیں راہل گاندھی کانگریس پارٹی کے صدر منتخب ہوگئے مگر سینئر لیڈروں اور نئی نسل کی داخلی کشمکش نہیں رکی 2019ء کے پارلیمانی الیکشن میں ہار کے بعد راہل گاندھی نے اخلاقی ذمہ داری لیتے ہوئے کانگریس کی صدارت سے استعفی دے دیا تھا۔ چند ماہ تک ان پر استعفی واپس لینے کا دباؤ بنا رہا مگر انہوں نے استعفی واپس نہیں لیا۔ کانگریس کو مجبور ہو کر دوبارہ یہ ذمہ د اری سونیا گاندھی کے علیل کاندھوں پر ڈالنی پڑی ان کی کوششوں سے کانگریس کو دوبارہ استحکام ملا ہے۔ لیکن یہ بات صاف ہے کہ یہ ایک عارضی بندوبست ہے سونیا گاندھی کی صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ ایک حد سے زیادہ کام کرسکیں۔ کانگریس ابھی بھی قیاد ت کے خلا سے دوچار ہے۔

راہل گاندھی کی تمام کوششیں اپنی جگہ مگر ان کے ارد گرد کے لوگ انہیں صحیح صلاح دینے سے قاصر ہیں۔ جن الفاظ اور لب ولہجہ میں راہل گاندھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں وہ کانگریسیوں کے تالیاں بجانے تک تو صحیح نظر آتا ہے لیکن عوام میں ان کے لیے خاص اثرات پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ راہل گاندھی کویہ بات اور حقیقت سمجھ لینی چاہیے کہ فاشسزم کا علمبردار ہونے کے سبب مودی لفظی جادوگری اورنوٹنکی کھیلنے کے ماہرہیں۔ ان کے سامنے ہٹلر کی سوانح حیات ہے جس میں ہٹلر پر کیے جانے والے ہرحملہ کا جواب ہے اس سے مودی جی بڑی چالاکی اورعیاری کے ساتھ بات کو گھما دیتے ہیں راہل گاندھی کو الفاظ کے تعلق سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے فاشسزم جتنی تیزی کے ساتھ آتاہے اتنی ہی تیزی کے ساتھ زوال پذیر بھی ہوتا ہے۔ آج کانگریس اور راہل گاندھی کو فاشسز م کے خلاف استقامت کے ساتھ کھڑا رہنے کی ضرورت ہے، اسی میں ان کی حیات ہے۔