ندائے حق: امریکی انتخابات کے عالمی مضمرات... اسد مرزا

پچھلے چار برسوں کے دوران بہت سی دیرینہ امریکی قدروں کا زوال ہوا یا وہ یکسر تبدیل ہوکر رہ گئیں۔ اس لیے دنیا بھر کے ممالک اس انتخابی جنگ پر انتہائی باریک نگا ہ رکھے ہوئے تھے

جو بائیڈن / Getty Images
جو بائیڈن / Getty Images
user

اسد مرزا

کوئی 20 برس قبل سن 2000 میں بش اور الگور کے درمیان ہونے والے کانٹے کے صدارتی مقابلے کے بعد ٹرمپ اور بائیڈن کے درمیان ہونے والا حالیہ امریکی صدارتی انتخاب غالباً پہلا ایسا امریکی الیکشن تھا جنہوں نے پوری دنیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر رکھی تھی۔ کیوں کہ ان انتخابات کا اثر صرف امریکا ہی نہیں بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک پر ہونا لازمی ہے۔ پچھلے چار برسوں کے دوران بہت سی دیرینہ امریکی قدروں کا زوال ہوا یا وہ یکسر تبدیل ہوکر رہ گئیں۔ اس لیے دنیا بھر کے ممالک اس انتخابی جنگ پر انتہائی باریک نگا ہ رکھے ہوئے تھے اور یہ طے کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جو نتائج سامنے آئیں گے، ان کا امریکا کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر ہوگا۔ آئیے ایک طائرانہ نگاہ ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں کے لیے بائیڈن کی جیت کے کیا معنی ہوسکتے ہیں۔

ہندوستان

ٹرمپ اور مودی کے درمیان ذاتی تال میل سے الگ امریکا اور ہندوستان کے مابین تعلقات درحقیقت تجارت اور دفاع کے گرد مرکوز ہیں۔ ہندوستان کی فکر مندی یہ ہے کہ پاکستان اور چین کے تئیں امریکا کا موقف اب کیا رہے گا۔ ہندوستان اور چین کے درمیان حالیہ سرحدی جھڑپوں کے سلسلے میں وائٹ ہاوس اور جو بائیڈن دونوں نے اپنے انتخابی مہم کے دوران ہندوستان کی حمایت کا اشارہ دیا تھا۔ بیشتر ہندوستانیوں میں بائیڈن اس لیے زیادہ مقبول ہوسکتے ہیں کیوں کہ انہوں نے ٹرمپ کے مقابلے امریکا میں زیادہ ورک ویزا دینے کا وعدہ کیا ہے۔

پاکستان

ٹرمپ کے چار سالہ دور صدارت کے دوران امریکا اور پاکستان کے تعلقات کافی متاثر رہے۔ ٹرمپ نے متعدد بار عوامی فورمز میں پاکستان کی نکتہ چینی کی۔ بائیڈن کی فتح کے بعد توقع ہے کہ ایشیا میں امریکا کے سب سے قریبی حلیف کے ساتھ تعلقات بہتر ہوسکیں گے۔ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اپنے تہنیتی پیغام میں امریکا کے ساتھ متعدد امور پر مل کر کام کرنے کی امید ظاہر کی ہے۔ اپنے ٹوئٹ میں عمران خان نے کہا کہ ہم دیگر علاقوں بالخصوص افغانستان میں امن کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔

چین

صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اقتدار کے دوران گوکہ چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات حد درجہ کشیدہ رہے، اس لیے پورے یقین کے ساتھ یہ کہنا مشکل ہے کہ بیجنگ ان کے ڈیموکریٹ حریف جو بائیڈن کی ہر حال میں حمایت کرے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ کے دوران دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے درمیان ایک مہنگی تجارتی جنگ شروع ہوگئی تھی۔ امریکا نے کورونا وائرس کی وبا کو نمٹنے کے سلسلے میں بیجنگ کے رول کی سخت تنقید کی اور ایغور اقلیتی مسلمانوں نیز ہانگ کانگ میں جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف چین کے رویے کی بھی نکتہ چینی کرتا رہا۔ بائیڈن نے بھی گوکہ ایغور اقلیتی مسلمانوں کے ساتھ بیجنگ کے رویے کی نکتہ چینی کی ہے تاہم انہوں نے چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

روس

گوکہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی پالیسیاں ہمیشہ ماسکو کے مفادات میں نہیں رہیں، اس کے باوجود بیشتر روسی انہیں اپنا دوست سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ اگست میں کہا تھا کہ وہ الیکشن سے پہلے پوٹن سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف بائیڈن کو ماسکو کے تئیں زیادہ سخت رویہ رکھنے والے رہنما کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انہیں یوکرین کا ہمدرد سمجھا جاتا ہے اور بعض ماہرین کا خیال ہے کہ صدر پوٹن ان کے مداح نہیں ہیں۔

برطانیہ

جہاں تک برطانوی حکومت کا معاملہ ہے تو امریکی صدارتی انتخابات ان کے لیے ایک طرح سے گومگو کی صورت ثابت ہو رہے ہیں۔ یورپی رہنماوں کے برخلاف، جو ٹرمپ کی کھل کر نکتہ چینی کرتے ہیں، برطانوی رہنما انہیں خوش رکھنا چاہتے تھے۔ مابعد بریگزٹ برطانوی رہنما، ٹرمپ کو بریگزٹ حامی سمجھتے تھے۔ تاہم بائیڈن برطانیہ کے لیے ایک دوسرا چیلنج پیش کرسکتے ہیں۔ وہ یورپی یونین کے حامی اور بریگزٹ کے خلاف ہیں۔ انہوں نے ایک مرتبہ بورس جانسن کو ٹرمپ کا ’جسمانی اور جذباتی ہمزاد‘ قرار دیا تھا۔ بائیڈن اس عزم کا اظہار بھی کرچکے ہیں کہ اگر بریگزٹ کی وجہ سے آئرلینڈ کے امن اور معیشت کوخطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنے اس آبائی وطن کی حمایت کریں گے۔

ایران

ایران کی طرح شاید ہی کوئی دوسرا ملک ایسا ہوگا جس نے امریکی صدارتی انتخابات پر اتنی زیادہ باریک نگاہ رکھی ہوگی۔ 2018 میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکا کو 2015 کے ایرانی نیوکلیائی معاہدے سے الگ کرلیا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں اپنے نیوکلیائی پروگرام کو محدود رکھنے کے بدلے میں ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں نرم کردی گئی تھیں۔ ٹرمپ نے اس کے بعد 83 ملین آبادی والے ایران کو اقتصادی طور پر بدحال کرنے کے لیے کئی پابندیاں عائد کیں۔ اس کے برخلاف ان کے حریف جو بائیڈن نے انتخابی جلسوں میں کہا تھا کہ اگر ایران معاہدے پر سختی سے عمل کرتا ہے تو وہ صدر بننے کے بعد ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو وسیع اور مستحکم کرنا پسند کریں گے۔ بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے مشیر انٹونی بلنکن کے مطابق اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکی پابندیاں ہٹائی جاسکتی ہیں اور امریکا کی ’زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے‘ کی مہم ختم ہوسکتی ہے۔

اسرائیل

اسرائیل میں ٹرمپ کو ایک ایسے امریکی صدر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کیا اور کئی دہائیوں پرانی امریکی روایت کو توڑتے ہوئے امریکی سفارت خانے کو یروشلم منتقل کیا۔ ٹرمپ نے گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے حق کو بھی تسلیم کیا۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور بحرین کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات قائم کرانے میں ثالث کا کردار ادا کیا اور اسرائیل اور فلسطینی تصادم کو حل کرنے کا منصوبہ پیش کیا۔ بائیڈن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے تئیں ان کی عہد بندی ’غیر متزلزل‘ ہے۔ تاہم بعض حلقوں کا خیال ہے کہ وہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پذیر دھڑے کے اراکین کے دباو میں آسکتے ہیں، جن میں سے بعض اسرائیل کے فلسطینیوں کے ساتھ اس کے رویے کی کھل کر مخالفت کرتے رہے ہیں۔

سعودی عرب

سعودی عرب کی طرح شاید ہی چند ایک ممالک ہوں گے جن کا امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات میں اتنا زیادہ داو پرلگا ہوا تھا۔ سعودی عرب، امریکا کا سب سے قریبی عرب حلیف، امریکی ہتھیاروں کا بہت بڑا خریدار اور مشرق وسطی میں ایرانی امنگوں کے خلاف امریکا کا دایاں بازو تصور کیا جاتا ہے۔ صدر منتخب ہونے کے بعد 2017 میں سعودی عرب کے اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے بعد سے ہی ٹرمپ تہران کے کٹر حریف ریاض کے لیے ایک نعمت ثابت ہوتے رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ نیوکلیائی معاہدے کو ختم کردیا۔ امریکی انٹلی جنس کی جانب سے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پر صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے الزامات کو مسترد کر دیا۔ اس کے برخلاف جو بائیڈن نے ایک مختلف رویہ اپنانے کی بات کہی ہے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کار سلمان الانصاری کے مطابق سعودی قیادت عمل پسند ہے اور عالمی تبدیلیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لہذا نئے امریکی صدر کے ساتھ سعودی حکمرانوں کا موقف بھی تبدیل ہوسکتا ہے۔

ترکی

نومبر 2019 میں وائٹ ہاوس میں ملاقات کے بعد سے ہی ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوگان کے درمیان گہرے دوستانہ مراسم قائم ہوگئے تھے۔ دوسری طرف جو بائیڈن انقرہ کو شبہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ بائیڈن کردوں کے ساتھ ترکی کے رویے، روس کے ساتھ فوجی تعاون اور نیٹو کے اتحادی کے طور پر ترکی میں امریکی فضائی اڈوں تک رسائی جیسے معاملات میں اردوان کے رویے پر ’انتہائی تشویش‘ کا اظہار کرچکے ہیں۔

افغانستان

بیشتر افغانی، امریکی انتخابات سے صرف اتنی توقعات رکھتے ہیں کہ نئے صدر کو ان کے ملک میں امن قائم کرنے میں کتنی دلچسپی ہے، جو امریکی حملے کے بعد سے گزشتہ 20 برسوں کے دوران میدان جنگ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ حالانکہ بظاہر صدر ٹرمپ اپنے پیش رووں سے اس معاملے میں زیادہ سخت دکھائی دیئے لیکن گزشتہ فروری میں ان کی انتظامیہ نے طالبان کے ساتھ ایک تاریخی معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں افغان حکومت اور جنگجووں کے درمیان امن مذاکرات کا سلسلہ شروع ہوا اور امن کی امیدیں پیدا ہوئیں۔ تاہم بیشتر افغان جو بائیڈن کو ایک بہتر انتخاب قرار دیتے ہیں۔

(مصنف سیاسی تجزیہ نگار ہیں۔ وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز دوبئی سے وابستہ رہ چکے ہیں)

next