بی جے پی بھی 23 جماعتوں کے اتحاد کا حصہ ہے، پھر اپوزیشن کی کولکاتا ریلی پر ہنگامہ آرائی کیوں!

جے پی نے 2014 میں مختلف ریاستوں کی پارٹیوں کو این ڈی اے میں شامل کیا تھا اور اب بھی وہ 23 جماعتوں کے اتحاد کا حصہ۔ سبھی پارٹیوں کی ایک بڑی ریلی کر کے طاقت دکھانے سے بی جے پی کو کون روک رہا ہے؟۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سرور احمد

بی جے پی حزب اختلاف کی کولکاتا ریلی کے بعد سے بے حد پریشان ہے۔ 19 جنوری کے بعد سے ہی بی جے پی رہنما یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ان جماعتوں کا واحد مقصد نریندر مودی کو ہرانا ہے۔ پی ایم مودی خود پیچھے نہیں اور تو اور امریکہ میں علاج کرانے گئے وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے اس پر بلاگ تک لکھ ڈالا ہے۔

لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ آخر این ڈی اے بھی تو 23 جماعتوں کے اتحاد کا حصہ ہے اور ایک ہی پلیٹ فارم پر تمام جماعتوں کی بڑی ریلی کرکے طاقت کا مظاہرہ کرنے سے بی جے پی کو کون روک رہا ہے؟۔

آخر 2014 میں بی جے پی نے بھی مختلف ریاستوں کی تمام چھوٹی بڑی پارٹیوں کو این ڈی اے میں شامل کیا تھا، اس کے بعد ہی اس کی جیت یقینی ہوئی تھی۔ جبکہ کچھ جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرنے کی تو بی جے پی کے علاقائی رہنماؤں نے مخالفت تک کی تھی۔

مثلاً بہار میں رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی کو اتحادی بنانے کی مرکزی وزیر گری راج سنگھ اور سابق وزیر سی پی ٹھاکر نے کھل کر مخالفت کی تھی۔ دونوں نے سر عام رام ولاس پاسوان کو بدعنوان، ذات پرست اور سماجی جرائم کا ملزم قرار دیا تھا۔ اسی وجہ سے گری راج سنگھ ، سی پی ٹھاکر اور بہار کے دوسرے کئی رہنماؤں نے نریندرمودی کی مظفر پور ریلی کا بائیکاٹ تک کر دیا تھا۔ اس ریلی میں پاسوان پہلی مرتبہ نریندر مودی کے ساتھ نظر آئے تھے۔

یہ دیگر بات ہے کہ جیت کے بعد پاسوان اور گری راج دونوں ہی مودی کابینہ کے حصہ ہیں۔ اتنا ہی نہیں جب حال ہی میں 5 ریاستوں میں بی جے پی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تو پاسوان کی ایل جے پی نے این ڈی اے میں بے چینی ظاہر کرنی شروع کر دی تھی، جس کے بعد پوری بھگوا پارٹی انہیں منانے میں جٹ گئی تھی۔

ویسے ایل جے پی پہلے بھی این ڈی اے کا حصہ رہی تھی اور پاسوان اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہ چکے ہیں۔ وہیں بی جے پی نے 2014 کے انتخابات کے بعد شمال مشرق کی کئی ایسی جماعتوں سے ہاتھ ملایا ہے جنہیں ماضی میں وہ کھل کر ملک مخالف کہتی رہی ہے۔

اتنا ہی کافی نہیں تھا کہ جموں و کشمیر میں بی جے پی نے پی ڈی پی کے ساتھ مل کر بھی حکومت بنائی، حالانکہ کافی دن مخلوط حکومت کا حصہ رہنے کے بعد بی جے پی کہنے لگی کہ پی ڈی پی کا آئین میں یقین نہیں ہے لہذا اس نے محبوبہ مفتی کی حکومت سے حمایت واپس لے لی۔

لہذا بی جے پی کا یہ کہنا کہ اتحاد صرف حزب اختلاف کا ہے، حقیقی طور سے غلط ہے۔

یوں بھی دیکھا جائے تو کانگریس اور آر جے ڈی کے علاوہ کولکاتا ریلی میں ایسی کئی جماعتیں تھیں جو ماضی میں کسی نہ کسی وقت پر بی جے پی کی اتحادی رہی ہیں۔ اس کے علاوہ یشونت سنہا، ارون شوری اور شتروگھن سنہا بھی وہاں موجود تھے جو بی جے پی کے سینئر رہنما ہیں اور اہم شعبوں کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

بی جے پی کو جو سوال خود سے پوچھنا چاہیے وہ یہ ہے کہ آخر اس کے اتحادی ایک ایک کرکے اس کا ساتھ کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ بی جے پی کی قابل اعتماد اتحادی ٹی ڈی پی نے گزشتہ سال ناطہ توڑ لیا، شیو سینا این ڈی اے کا حصہ ہونے کے باوجود مخالفوں والا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور نہ صرف امت شاہ بلکہ وزیر اعظم مودی کو بھی نشانے پر رکھتی ہے۔ خیال رہے کہ شیو سینا اور اکالی دل این ڈی اے میں بی جے پی کے سب سے پرانے اتحادی ہیں۔

اتنے اتحادی چھوٹنے کے بعد اگر کسی کو یہ لگتا ہے کہ بی جے پی لوک سبھا چناؤ اکیلے لڑنے والی ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ بی جے پی نے بھی کانگریس کے خلاف سیاسی جماعتوں کو لام بند کیے رکھا ہے۔ لیکن بھگوا جماعت کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کی تاریخ میں اسے اپنے کسی بھی اتحادی پر بھروسہ نہیں ہے۔ اسے فکر کرنی بھی چاہیے کیونکہ حال کے دنوں میں جے ڈی یو، ایل جے پی اور دوسری چھوٹی جماعتیں حزب اختلاف کے رابطہ میں رہی ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔