بی جے پی طالبان کو دُودھاری گائے بنانے کے چکر میں... سہیل انجم

اگلے سال 5 ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس جذباتی ایشوز کی تلاش میں ہیں۔ مسلمانوں کو ہوشیاری سے کام لینا چاہیے اور انہیں میڈیا کے جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

سہیل انجم

موجودہ حکومت اور بی جے پی کسی بھی ملکی و غیر ملکی معاملے سے انتخابی فائدہ کشید کرنے کی کوشش سے باز نہیں آتیں۔ وہ اس تاک میں رہتی ہیں کہ کوئی ایسا موقع آئے جو ہمیں سیاسی و انتخابی فائدہ پہنچا سکے۔ حکومت کے اشارے پر میڈیا بھی اسی تاک جھانک میں لگا رہتا ہے اور اگر کسی معاملے میں اس کو لگتا ہے کہ یہ دُودھ دینے والی گائے ہے تو فوراً بالٹی لے کر پہنچ جاتا ہے اور دودھ دُوہنے لگتا ہے۔ افغانستان پر طالبان کا قبضہ بھی حکومت، بی جے پی اور میڈیا کے لیے دُودھارو گائے لگ رہا ہے اور وہ اسے دُوہنے لگ گئے ہیں۔

جب کابل پر اچانک اور غیر متوقع طریقے سے اور عالمی تجزیہ کاروں اور رہنماوں کی توقعات کے برعکس طالبان کا فٹا فٹ قبضہ ہو گیا تو دو روز تک حکومت سکتے کے عالم میں رہی۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اسے کیسے ردعمل ظاہر کرنا چاہیے اور کیا موقف اپنانا چاہیے۔ دو روز کے بعد وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا کہ جو ہندو اور سکھ افغانستان سے آنا چاہیں ہم ان کی مدد کریں گے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جب اس معاملے پر سلامتی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کی تو انھوں نے بھی یہی کہا کہ جو ہندو اور سکھ آنا چاہیں یا مدد مانگیں ان کی مدد کی جائے۔ اس سے قبل وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ہم افغانستان کے ہندووں اور سکھوں کے نمائندوں کے رابطے میں ہیں اور ان کی مدد کریں گے۔ ان بیانات میں کہیں بھی مسلمانوں کا ذکر نہیں تھا۔


سیاسی مبصرین اس صورت حال کو سی اے اے سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں۔ حالانکہ ابھی سی اے اے کے ضابطے ہی نہیں بن پائے ہیں۔ حکومت نے گزشتہ دنوں ایک بار پھر چھ ماہ کا وقت مانگ لیا ہے۔ اس کے باوجود سی اے اے کی سیاست کرنے سے حکومت نہیں چوک رہی ہے۔ حکومت کو تو یہ کہنا چاہیے تھا کہ افغانستان سے جو بھی ہندوستان آنا چاہے خواہ وہ کسی بھی مذہب اور برادری سے کیوں نہ تعلق رکھتا ہو ہم اس کی مدد کریں گے اور اسے پناہ دیں گے۔ گویا حکومت ہندووں اور سکھوں کی بات کرکے یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ طالبان کے آنے کے بعد ان مذہبی اقلیتوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ لہٰذا ان کی مدد کرنے کی ضرورت ہے۔

سی پی آئی (ایم ایل) کی پولٹ بیورو کی رکن کویتا کرشنن نے ایک ٹوئٹ میں حکومت کے اس رویے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ہندوستانی حکومت افغانستان کی موجودہ صورت حال کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنے کے بجائے مذہبی نقطہ نظر سے دیکھ رہی ہے اور یہ بھی دیکھ رہی ہے کہ ہمیں جن کی مدد کرنی ہے وہ مسلمان تو نہیں ہیں۔ بعض دوسرے سیاسی رہنماوں نے بھی حکومت کی اس روش پر سخت تنقید کی ہے اور اسے اس کا فرقہ وارانہ ایجنڈہ قرار دیا ہے۔


بی جے پی کے لیڈران بھی افغانستان اور طالبان کی آڑ میں ملک کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مدھیہ پردیش کے ایک بی جے پی لیڈر رام رتن پیال سے جب ایک صحافی نے مہنگائی اور تیل کے داموں میں بے تحاشہ اضافے پر سوال کیا تو انھوں نے اسے طالبان کے زیر اقتدار افغانستان جانے کا مشورہ دے دیا۔ وہ کٹنی ضلع کے بی جے پی کے صدر ہیں۔ وہ یہیں نہیں رکے۔ انھوں نے مذکورہ صحافی سے کہا کہ تیل لینا ہے تو طالبان کے پاس جاؤ۔ افغانستان میں پچاس روپے لیٹر پٹرول ہے۔ وہاں اسے کوئی استعمال نہیں کر رہا ہے۔ وہیں جاؤ اور اپنی ٹنکی فل کرا لو۔ رام رتن پیال واحد بی جے پی لیڈر نہیں ہیں جو ایسے بیہودہ بیانات دے رہے ہوں۔ ان سے پہلے بہار بی جے پی کے ایک لیڈر ہری بھوشن ٹھاکر نے کہا کہ جس کو ہندوستان میں ڈر لگ رہا ہو وہ افغانستان چلا جائے۔ وہاں تیل بھی سستا ہے۔ وہ بسفی اسمبلی حلقہ کے ممبر ہیں۔

ایک طرف بی جے پی لیڈران طالبان کے مخالف بھی ہیں اور دوسری طرف ان کے طریقہ کار کے مداح بھی ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو تری پورہ سے بی جے پی کے ایم ایل اے ارون چندرا بھومک اپنے حامیوں سے یہ نہیں کہتے کہ ٹی ایم سی اور کانگریس کے کارکنوں پر طالبانی اسٹائل میں حملہ کرو۔ انھوں نے کہا کہ مغربی بنگال کے ٹی ایم سی لیڈران تری پورہ کی بی جے پی حکومت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لہٰذا میں لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ان پر طالبانی اسٹائل میں حملے کریں۔


شاعر منور رانا کے ایک بیان پر بھی تنازعہ پیدا ہو گیا ہے۔ حالانکہ ہم ان کے بیان کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ لیکن ہم ان کی بھی مذمت کرتے ہیں جو ان کے بیان کو اتنا خطرناک مان رہے ہیں کہ انھیں افغانستان بھیجنے کی بات کرنے لگے ہیں۔ بی جے پی کے ایم ایل اے رامیشور شرما نے کہا کہ منور رانا کو افغانستان بھیج دینا چاہیے۔ انھوں نے یو پی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے یہ مطالبہ تک کر ڈالا کہ اس کی جانچ کی جائے منور رانا اے کے 47 تو نہیں چھپائے ہوئے ہیں۔ شرما جی کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ہتھیاروں کی تلاش کرنی ہی ہے تو وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لوگوں کے گھروں میں کی جائے۔

کلکتہ کے اخبار ’’دی ٹیلی گراف‘‘ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ بی جے پی کے اندرونی ذرائع کہتے ہیں کہ افغانستان سے جو تصاویر سامنے آرہی ہیں وہ بی جے پی کی داخلی سیاست کو مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی طالبان کا ریکارڈ بجانا شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے اسمبلی میں بولتے ہوئے کہا کہ طالبان کی جانب سے عورتوں اور بچوں پر ظلم ڈھانے کے باوجود کچھ لوگ یہاں طالبان کی حمایت کر رہے ہیں۔ ایسے تمام لوگوں کے چہرے بے نقاب کیے جانے چاہئیں۔ ان کا اشارہ سماجوادی ایم پی ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کی طرف تھا۔


اخبار کا دعویٰ ہے کہ بی جے پی کے منیجروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی آمد ایسے موقع پر ہوئی ہے جب اترپردیش میں انتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی اس کی تیاری کر رہی ہے۔ اس سے پولرائزیشن کرنے اور یوگی حکومت کی ناکامیوں سے عوام کی توجہ دوسری طرف مبذول کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا خیال ہے کہ یہ صورت حال عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے میں تعاون دے گی۔

اس سے قبل بی جے پی رہنما رام مادھو نے، جنھیں ایک بار پھر آر ایس ایس میں بھیج دیا گیا ہے، کیرالہ کے کوزی کوڈ میں بولتے ہوئے کہا کہ 1921 کی موپلا بغاوت ہندوستان میں طالبانی ذہنیت کا پہلا مظاہرہ تھا۔ جبکہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ اور آر ایس ایس کے نظریہ ساز راکیش سنہا کا کہنا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کو بغیر کسی لاگ لپیٹ کے طالبان کی مخالفت کرنی چاہیے۔ یعنی اگر وہ مخالفت نہیں کریں گے تو انھیں طالبان حامی سمجھا جائے گا۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے ہر موقع پر مسلمانوں سے کیوں امید کی جاتی ہے کہ وہ مذمتی بیانات دیں۔ اگر وہ بیان نہیں دیں گے تو کیا وہ ملک کے وفادار نہیں سمجھے جائیں گے۔


بی جے پی کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی طالبان کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ماحول سازی کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر منور رانا سے طالبان کے بارے میں سوال کرنے کا کیا جواز ہے۔ کیا منور رانا طالبان امور کے ماہر ہیں۔ کیا وہ حکومت ہند کے یا وزارت خارجہ کے کسی عہدے پر فائز ہیں۔ آخر ان سے کیوں سوال کیا گیا۔ صرف اس لیے کہ وہ ابھی کچھ ایسا بول دیں گے جس کی بنیاد پر ایک چٹپٹی خبر بن جائے گی اور اس کے نام پر مسلمانوں کو ہدف بنانے کا موقع مل جائے گا۔

میڈیا کی جانب سے ایسے مسلمانوں کی تلاش کی جا رہی ہے جو طالبان کی حمایت میں بیان دے دیں۔ اگر کسی نے اپنے طور پر ہی کوئی بیان دے دیا ہے تو میڈیا فوراً اسے لپک لیتا ہے اور اسے تمام مسلمانوں کا بیان بتانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ خواہ وہ ڈاکٹر شفیق الرحمن برق کا بیان ہو یا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا سجاد نعمانی کا۔ ہم ان کے بیانات کے بارے میں کوئی رائے ظاہر کرنا نہیں چاہتے۔ لیکن مسلمانوں سے یہ اپیل کرنا ضرور چاہیں گے کہ خدارا موجودہ ملکی ماحول میں ایسی کوئی بات نہ کہیں جس سے مسلم مخالف اور امن دشمن طاقتوں کو کوئی موقع مل سکے۔


اگلے سال کے اوائل میں پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس جذباتی ایشوز کی تلاش میں ہیں۔ مسلمانوں کو ہوشیاری سے کام لینا چاہیے اور بی جے پی و آر ایس ایس اور میڈیا کے جال میں پھنسنے سے بچنا چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 22 Aug 2021, 8:11 PM