جھارکھنڈ کے بی جے پی وزیر کی دیدہ دلیری قابل مذمت ہے... سہیل انجم

سی پی سنگھ نے جے شری رام کا نعرہ لگوانے کے چکر میں وہ سب کہہ دیا جو عام طور پر مسلمانوں کو چڑانے کے لیے ہندو کہتے ہیں۔ یعنی کہ تم رام ہی کے ونشج ہو، انھیں کا خون ہو، انھیں کی اولاد ہو۔ وہی پوروج ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

سہیل انجم

اگر کوئی وزیر بھرے مجمع میں اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے ایک ممبر اسمبلی سے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کرے تو اسے آپ کیا کہیں گے۔ یہی نا کہ مذہبی منافرت کا رنگ اب نہ صرف نام نہاد گئو رکشکوں اور خود ساختہ رام بھکتوں پر چڑھ گیا ہے بلکہ اب اس سے وزرا بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا بھی ذہن خراب ہونے لگا ہے۔ جے شری رام کے نعرے کو جس طرح سیاسی رنگ میں بدلنے کے بعد نفرت انگیز رخ دے دیا گیا ہے وہ بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

یہ واقعہ ہے جھارکھنڈ کا جہاں ایک وزیر سی پی سنگھ نے کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان انصاری سے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کی۔ عرفان انصاری کانگریس کے سابق ممبر آف پارلیمنٹ فرقان انصاری کے بیٹے ہیں۔ یہ معاملہ ہنسی مذاق میں شروع ہوا اور پھر اس نے نفرت انگیز رخ اختیار کر لیا۔ یہ لوگ اسمبلی ہاؤس کے باہر میڈیا والوں کے درمیان گھرے تھے کہ سی پی سنگھ نے عرفان انصاری سے کہا کہ ’’ایک بار زور سے جے شری رام بولیے۔ جے شری رام بولیے‘‘۔

اس پر عرفان انصاری نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اپنا بازو دکھایا۔ انھوں نے بازو کیوں دکھایا؟ اس لیے کہ انھوں نے اپنی کلائی پر دھاگے باندھ رکھے تھے جنھیں ’’کلیوا‘‘ یا ’’مَولی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دھاگہ عام طور پر بلاؤں سے نجات پانے کے لیے ہندو اپنی کلائی پر باندھتے ہیں۔ گویا عرفان نے یہ جتانے کی کوشش کی کہ ان کو اپنے سے الگ مت سمجھو۔ انھوں نے بھی وہ پوتر دھاگہ باندھ رکھا ہے جس کی ہندووں میں بڑی مانیتا ہے۔ خیر ہم ان کے اس عمل پر کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ انھوں نے دھاگہ کیوں باندھ رکھا ہے، یہ ان کا ذاتی فعل ہے اور اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔

لیکن سی پی سنگھ نے جے شری رام کا نعرہ لگوانے کے چکر میں وہ سب کہہ دیا جو عام طور پر مسلمانوں کو چڑانے کے لیے ہندو کہتے ہیں۔ یعنی یہ کہ تم رام ہی کے ونشج ہو، انھیں کا خون ہو، انھی کی اولاد ہو۔ وہی تمھارے پوروج یعنی اسلاف ہیں۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی۔ لیکن بولتے بولتے وہ یہ بھی بول گئے کہ تم لوگ بابر، تیمور لنگ، غزنی اور غوری کی اولاد نہیں ہو۔

اس پر عرفان انصاری نے بڑے صبر و ضبط سے کام لیا۔ انھوں نے اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے کہا کہ رام کا نام بدنام مت کیجیے۔ لوگوں کو نوکری چاہیے۔ سڑکیں چاہئیں۔ بجلی چاہیے۔ وہ نالیوں کی صفائی چاہتے ہیں۔ رام سب کے ہیں ان کو بدنام مت کرو۔ جاکر ایودھیا میں دیکھو کہ رام کس حالت میں پڑے ہیں۔

اچھا ہوا کہ عرفان انصاری نے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بجائے ایشوز پر بات کی اور عوامی مسائل کو اٹھایا جس پر ان کی تعریف ہو رہی ہے۔ لیکن بی جے پی والوں کو عوامی مسائل سے دلچسپی کیوں ہو سکتی ہے۔ جب الیکشن جیتنے کے لیے رام کا نام موجود ہے۔ لہٰذا سی پی سنگھ نے عرفان کے کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے پاس جواب تھا ہی نہیں جو وہ دیتے۔ بی جے پی کے لوگوں نے جس طرح جذباتی ماحول بنا کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کے دلوں میں زہر بھرا ہے وہ ان کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔

جہاں تک بابر کی اولاد نہ ہونے کی بات ہے تو بھائی مسلمان کہاں کہتے ہیں کہ وہ بابر تیمور غزنی یا غوری کی اولاد ہیں۔ یہ تو پہلے وشو ہندو پریشد والوں نے کہنا شروع کیا کہ مسلمان بابر کی اولاد ہیں اور پھر بی جے پی اور پھر دوسرے ہندووں نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا۔ جبکہ یہاں کے مسلمان خود کو نہ تو بابر کی اولاد کہلوانے کا شوق رکھتے ہیں اور نہ ہی غزنی و غوری کی۔ وہ تو مسلمان ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے آبا و اجداد نے مشرف بہ اسلام ہو کر دنیا کا بہترین دین اپنا لیا۔

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ سارے مسلمانوں کے اسلاف ہندو نہ رہے ہوں۔ کیونکہ ہندوستان میں عرب سے جو مسلمان آئے ان کی بھی تو اولادیں اسی ملک میں ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو یہ کہنا کہ اس کے آبا و اجداد ہندو تھے مناسب نہیں ہے۔ اور پھر جہاں تک رام کی بات ہے تو مسلمان انھیں احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو سوا لاکھ انبیا آئے ہیں ممکن ہے کہ رام اور کرشن بھی انھیں میں سے ہوں۔

لیکن آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، شیو سینا اور بی جے پی کے لوگوں نے اتنی بار یہ بات دوہرائی ہے کہ مسلمانوں کے پوروج بابر نہیں رام چندر ہیں کہ لوگ اسے درست ماننے لگے ہیں۔ اور پھر اگر بفرض محال اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا یہ ضروری ہے کہ مسلمان ان بزرگوں کے نام کا نعرہ لگائیں۔ اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو فتح مکہ کے بعد بتوں سے خانہ کعبہ کو خالی نہیں کرایا جاتا۔ مسلمان اپنے مشرک اسلاف کے ناموں کے بھی نعرے لگاتے، اپنے گھروں میں ان کی یادگاریں رکھتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔

جب کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس کا رشتہ سابقہ مذہب سے پوری طرح منقطع ہو جاتا ہے۔ اس کو پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ مسلمانوں سے دوسرے مذاہب کے احترام کے لیے بھی کہا گیا ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم دوسرے مذاہب کے خداؤں کو برا مت کہو۔ اور مسلمان دوسرے مذاہب کے خداؤں اور اوتاروں کو برا بھلا کہتے بھی نہیں ہیں۔

اسلام میں اس کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے مسلمان ہندو مذہب کے رہنماؤں کی توہین کرتے ہیں، انھیں روز اور صبح و شام گالیاں دیتے ہیں اور اس کا ازالہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ جے شری رام کا نعرہ لگائیں۔

آج جس طرح جے شری رام کا نعرہ لگانے پر لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے اس سے بہت سے ہندو بھی خوش نہیں ہیں۔ وہ اس رویے کے مخالف ہیں اور اس پر قدغن لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں 49 سرکردہ شخصیات نے وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب میں جے شری رام کو سیاسی نعرہ لگانے اور اسے جنگی للکار میں بدلنے کی روش پر قابو پانے کی اپیل کی ہے۔ لیکن ان کی یہ اپیل کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہوئی اور اس کے جواب میں 60 سے زائد شخصیات نے بھی ایک خط جاری کر دیا۔

یہ بات قارئین کو یاد ہوگی کہ جب کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے جھارکھنڈ کو موب لنچنگ کا اڈہ بتایا تھا تو وزیر اعظم مودی کو بہت برا لگا تھا۔ لیکن وہ اسے کیا کہیں گے کہ جھارکھنڈ میں یہ زہر اس قدر پھیل گیا ہے کہ اب ایک وزیر ایک ممبر اسمبلی سے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں موب لنچنگ کے بے شمار واقعات ہو چکے ہیں اور اسی ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک مرکزی وزیر نے موب لنچنگ میں سزا یافتہ مجرموں کو ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا تھا۔

اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو حالات زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ ابھی تو منسٹر صاحب نے ہنسی مذاق میں جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہی حالات رہے تو وہ نام نہاد رام بھکتوں کی مانند نعرہ نہ لگانے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM