بہار میں بی جے پی کا کمیونل کارڈ فلاپ... م۔افضل

ایک طویل عرصہ کے بعد مرکز اور ریاستی حکومت کے خلاف عوام بالخصوص نوجوانوں میں ایسی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے، اسے ہندوستان کی سیاست کے لئے ایک اچھی خبر کہی جاسکتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

م. افضل

یہ ایک اتنہائی تلخ مگر ناقابل تردید سچائی ہے کہ اب تک ہر الیکشن میں بی جے پی کمیونل کارڈ کھیل کر کامیابی حاصل کرتی آئی ہے، شاید اسی سبب اسے اب تک یہ خوش فہمی تھی کہ وہ یہی کارڈ کھیل کر اس بار بھی بہار کا الیکشن آسانی سے جیت لے گی، مگر افسوس اس بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے، ہرچند کہ بی جے پی کی طرف سے پرانے حربوں کو استعمال کرنے کی دانستہ کوشش ہوتی رہی ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ جب بہار میں بے روزگاری ایک بڑا ایشو بن چکا ہے، مہاگٹھ بندھن جس میں کانگریس، آرجے ڈی اور کمیونسٹ پارٹیاں شامل ہیں کے لیڈروں نے بڑی خوبصورتی سے اس الیکشن کا رخ غربت، ترقی، بے روزگاری اور نوکریوں کی طرف موڑ دیا ہے۔

آر جے ڈی کے جوان لیڈر تیجسوی یادو نے اقتدارمیں آتے ہی دس لاکھ نوجوانوں کو نوکری دینے کا اعلان کرکے این ڈی اے کی چولیں ہلا کررکھ دی ہیں، اس کے جواب میں پہلے تو نتیش کمار اور سشیل کمار مودی نے یہ کہہ کر سوال کھڑے کرنے کی کوشش کی کہ اتنے لوگوں کو نوکریاں دینے کے لئے فنڈ کہاں سے آئے گا؟ اس کا تجیسوی یادو نے بھرپور جواب دیا اور یہ بتایا کہ اپنے اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ کیا کریں گے، بی جے پی نے جب دیکھا کہ اس اعلان کا نوجوانوں نے پرجوش استقبال کیا ہے تواس نے نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی غرض سے اپنے انتخابی منشور میں 19 لاکھ لوگوں کو نوکری دینے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ وضاحت بھی کی کہ نوکریاں صرف 4 لاکھ لوگوں کو ہی دی جائیں گی اور بقیہ 15 لاکھ لوگوں کے لئے بعد کے دنوں میں نوکریوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کے اس اعلان پر نوجوان طبقہ نے کوئی توجہ نہیں دی۔

بہار میں جو انتخابی جلسے ہو رہے ہیں ان میں نوجوانوں کی ناراضگی اور ان کا جوش دونوں صاف دیکھا جاسکتا ہے، این ڈی اے اور خاص طور پر نتیش کمار کے خلاف نوجوان نسل کی ناراضگی کا عالم یہ ہے کہ وہ ان کی زبان سے اب کچھ نہیں سننا چاہتے اور شاید اسی لئے وہ ان کے انتخابی جلسوں میں بھی نہیں جاتے، لوگ یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ اتنے دنوں کی حکومت میں اس سے پہلے نوجوانوں کو روزگار اور نوکریاں دینے کے بارے میں کیوں نہیں سوچا گیا؟ اس کا جواب نہ تو بی جے پی کے پاس ہے اور نہ نتیش کمار کے پاس، دوسری طرف مہاگٹھ بندھن کی ہونے والی انتخابی ریلیوں میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نظر آرہی ہے ان میں زبردست جوش وخروش بھی دکھائی دیتا ہے۔

پچھلے دنوں کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور وزیر اعظم نریندرمودی کی ایک ہی دن میں کئی جگہ ریلیاں ہوئیں ان میں بہار کے عوام کا بدلا ہوا سیاسی رویہ صاف نظر آیا، وزیر اعظم کی ریلیوں میں کرسیاں خالی رہیں لوگوں میں کوئی جوش وخروش نظر نہیں آیا، اس کے برخلاف راہل گاندھی کی ریلیوں میں نہ صرف زبردست بھیڑجمع ہوئی بلکہ انہوں نے جو کچھ کہا سب نے تالیاں بجاکر اس کی تائید کی راہل گاندھی، تجیسوی یادو یا پھر کنہیاکمار ان کی انتخابی ریلیوں میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر نظر آتا ہے اور امید افزا بات یہ ہے کہ ان میں نوجوان بڑی تعداد میں اگلی صفوں میں نظرآتے ہیں جو اس بات کا صاف اشارہ ہے کہ بہار کے نوجوان مودی اور نتیش کمار دونوں سے سخت مایوس ہوچکے ہیں اس لئے اس بار وہ بہار میں سیاسی تبدیلی لانے کو بے چین نظر آتے ہیں۔ بہار کے نوجوانوں کا یہ بدلا ہوا رویہ اس بات کا بھی مظہر ہے کہ اب وہ مذہب کی سیاست کے دائرہ سے باہر آچکے ہیں، آرایس ایس اور بی جے پی کے لئے یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے، کیونکہ اب تک ان کی سیاست کا محور یہ نوجوان ہی تھے جنہیں مذہبی نعروں سے گمراہ کرکے بی جے پی اپنا سیاسی فائدہ حاصل کر رہی تھی۔

وزیراعظم نریندرمودی نے اپنی انتخابی ریلیوں میں اپوزیشن کو ہی ملک کی تباہی اور بہار کی پسماندگی کے لئے ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی، بہارکے جنگل راج کا بھی وہ مسلسل حوالہ دے رہے ہیں، لیکن ان کی تقریر میں نہ تو پہلے جیسا جوش ہے اور نہ ہی عوام کی طرف سے پہلے جیسی گرم جوشی کا مظاہرہ ہی دیکھنے کو ملا ہے، فرقہ وارانہ صف بندی کے لئے یوگی آدیتہ ناتھ کو بھی بہار بھیجا گیا، انہوں نے اپنی تقریرمیں یہاں تک کہا کہ میں رام کی سرزمین سے آیا ہوں لیکن پھر بھی کوئی بات نہیں بنی ان کی ریلیوں میں عوام کی موجودگی امید سے کہیں زیادہ کم رہی، لوگوں نے جگہ جگہ ان کی مخالفت بھی کی اور برا بھلا بھی کہا اس کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔

مشہور کہاوت ہے کہ آدمی کے دن خراب چل رہے ہوں تو وہ ہر کام غلط کرنے لگتاہے، اس کا نظارہ اس وقت دیکھنے کو ملا جب مرکزی وزیر نرملاسیتارمن نے بہار کے لئے بی جے پی کا انتخابی منشورجاری کیا، منشورمیں کئی طرح کے وعدوں کے ساتھ یہ اعلان بھی موجود ہے کہ جب بہار میں این ڈی اے سرکار آئے گی تو ہر شہری کو کورونا ویکسین مفت دی جائے گی گویا ووٹروں کو لالچ دینے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کو لیکر بی جے پی جہاں اپوزیشن کے نشانہ پر آگئی، وہیں سوشل میڈیا پر بھی لوگوں نے بی جے پی کا خوب مذاق اڑیا، بہار کے عوام نے بھی اس بات کو پسند نہیں کیا، اہم بات یہ ہے کہ 19 لاکھ لوگوں کو نوکریاں دینے کا جھانسہ ہو یا مفت کورونا ویکسین دینے کا اعلان کسی نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

وزیراعظم نریندرمودی اپنی ریلیوں میں حسب معمول دفعہ 370 کے خاتمہ، طلاق بل اور رام مندرکی تعمیر کا ذکر کر رہے ہیں، چینی فوجیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے بہار کے فوجی جوانوں کا خاص طور پر ذکر کرکے انہیں اپنا جذباتی خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، گویا 2019 کے پارلیمانی الیکشن میں جس طرح انہوں نے پلوامہ حملے کو کیش کیا تھا بہارکے فوجی جوانوں کی شہادت کو بھی ووٹ میں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر بات بنتی نظر نہیں آرہی ہے، بہار میں سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی بے ہتھیار ہوچکی ہے، ہر طرف لوگ بے روزگاری کو لیکر بی جے پی سے سوال کر رہے ہیں، جس کا ان کے کسی لیڈرکے پاس کوئی جواب نہیں، اس کے باوجود حیرت کی بات تو یہ ہے کہ گودی میڈیا کا ایک حلقہ اپنے سروے میں بی جے پی اور نتیش کمار کی کامیابی کی پیشن گوئی کر رہا ہے، تجیسوی یادو کی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ لوگ دیوانہ وار ان کی طرف بھاگتے ہیں وہ جہاں جاتے ہیں عوام تالیوں اور نعروں کی گونج میں ان کا استقبال کرتے ہیں، مگر گودی میڈیا نتیش کمار کو وزیراعلیٰ کی دوڑ میں آگے دکھا رہا ہے، شاید لوگوں کو گودی میڈیا کے ذریعہ گمراہ کرنے کی یہ آخری سازش ہے جس کی کامیابی کا امکان نہ کے برابر ہے۔

بہارمیں اس وقت چارمحاذ زور آزمائی کر رہے ہیں ایک طرف تو یوپی اے کا اتحاد ہے دوسری طرف این ڈی اے ان کے درمیان پپو یادو اور اسدالدین اویسی کا گٹھ بندھن بھی لڑ رہا ہے، اویسی کے ساتھ مایاوتی اور اوپندرکشواہا ہیں تو پپو یادو نے بھی کچھ چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے، بہار میں مسلم آبادی اترپردیش سے زیادہ ہے، اب تک یہ سیکولر پارٹیوں میں تقسیم بھی ہوتا رہا ہے، پچھلے الیکشن میں اس کا فائدہ اٹھاکر بی جے پی نے کئی سیٹیں جیت لی تھیں، لیکن ایسا لگتاہے کہ اس بار نتیش کمار سے بہار کے مسلم ووٹر بھی ناراض ہیں، البتہ کچھ سیٹوں پر مجلس اتحاد المسلمین کے امید وار نتائج پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، لیکن راہل گاندھی، تجیسوی یادو اور کنہیا کمار کی ریلیوں میں جس طرح لوگ مذہب، ذات اور برادری سے اوپر اٹھ کر شریک ہو رہے ہیں وہ نہ صرف بہار بلکہ پورے ملک کے لئے ایک مثبت اشارہ ہے، بے روزگاری کے خلاف نوجوان نسل کی یہ ناراضگی بہارکی سرحدوں سے نکل کر دوسری ریاستوں تک بھی پھیل سکتی ہے اور تب شاید دوسری ریاستوں میں بھی بی جے پی کے کمیونل کارڈ کا وہی حشر ہوگا جو بہار میں ہوتا نظر آرہا ہے۔

ایک طویل عرصہ کے بعد مرکز اور ریاستی حکومت کے خلاف عوام بالخصوص نوجوانوں میں ایسی ناراضگی دیکھنے کو مل رہی ہے، ہندوستان کی سیاست کے لئے اسے ایک اچھی خبر کہی جاسکتی ہے، ملک میں دوسروں کے مقابلہ نوجوان ووٹروں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، ایسے میں بہار کے نوجوان ملک کے دوسرے نوجوانوں کے لئے ایک نظیر بن سکتے ہیں، چنانچہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ بہار الیکشن کے نتائج قومی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا نقطہ آغاز ہوسکتے ہیں۔

Published: 25 Oct 2020, 11:11 PM
next