2019 راہل گاندھی کا سال ہوگا...سہیل انجم

کچھ لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ راہل گاندھی نے نرم ہندوتوا کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات اس بات کی بڑی سخت ضرورت پیش آجاتی ہے کہ زہر کو زہر سے کاٹا جائے۔

سہیل انجم

ایک سال قبل تک کوئی آسانی سے یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ 2019 میں وزیر اعظم نریندر مودی کو سب سے زیادہ اگر کوئی چیلنج دے گا تو وہ راہل گاندھی ہوں گے۔ لیکن جوں جوں اگلے پارلیمانی انتخابات کے دن قریب آتے جا رہے ہیں راہل نامی چیلنج مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس نئی اور تقریباً اچانک پیدا ہونے والی صورت حال نے بحیثیت جماعت بی جے پی کو کم اور نریند رمودی اور امت شاہ کو زیادہ پریشان کر دیا ہے۔ دونوں سر جوڑ کر کوئی ایسا فارمولہ نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اس نئے چیلنج کا مقابلہ کر سکے۔ حکومت کی جانب عوام کو لبھانے کے لیے جو اقدامات شروع کیے جا رہے ہیں وہ مذکورہ جوڑی کی گھبراہٹ کا واضح ثبوت ہے۔

جب راہل گاندھی کو کانگریس پارٹی کا صدر مقرر کیا گیا تو اس سے عین قبل گجرات میں اسمبلی انتخابات ہوئے تھے۔ اس الیکشن میں اگرچہ کانگریس اور بالخصوص راہل گاندھی نے جی توڑ محنت کی تھی اور سیاسی مناظر کانگریس کی واپسی کا اشارہ دے رہے تھے لیکن راہل گاندھی گجرات کو مودی شاہ اینڈ کمپنی سے چھیننے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن اس الیکشن نے کانگریس کے لیے ایک اچھا اشارہ دے دیا تھا۔ اس اشارہ نے چھتیس گڑھ، راجستھان اور مدھیہ پردیش میں عملی صورت اختیار کی۔ ان تینوں ریاستوں میں کانگریس کی جانب سے سب سے زیادہ محنت خود راہل گاندھی نے کی۔

بی جے پی کی جانب سے جہاں رمن سنگھ، وسندھرا راجے سندھیا اور شیو راج سنگھ چوہان کا چہرہ پیش کیا گیا تھا وہیں کانگریس کی مہم بے چہرہ تھی۔ اس کی جانب سے اگر کوئی چہرہ سامنے تھا تو راہل گاندھی کا تھا۔ مذکورہ تینوں وزرائے اعلی کے سامنے کانگریس کی طرف سے صرف سوالیہ نشان تھا۔ لیکن عوام نے اس سوالیہ نشان کو مذکورہ تینوں چہروں پر فوقیت دی اور کانگریس کی حکومتیں بن گئیں۔ ایسا صرف راہل گاندھی کی شخصیت میں بتدریج پیدا ہونے والی کرشماتی خوبیوں اور بہت ہی سوچ سمجھ کر بنائی جانے والی حکمت عملی کی وجہ سے ہوا۔

کچھ لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ راہل گاندھی نے نرم ہندوتوا کا راستہ اختیار کیا۔ لیکن ایسے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ بعض اوقات اس بات کی بڑی سخت ضرورت پیش آجاتی ہے کہ زہر کو زہر سے کاٹا جائے، لوہے پر لوہے سے نشانہ لگایا جائے۔ زہر کو شربت سے بے اثر نہیں کیا جا سکتا اور لوہے کو پلاسٹک سے توڑا نہیں جا سکتا۔ اس گُر کو راہل گاندھی نے سمجھ لیا اور اسی کے مطابق حکمت عملی ترتیب دی۔ وزیر مالیات ارون جیٹلی نے گجرات انتخابات کے موقع پر مندروں میں راہل کی حاضری پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب ایک اصلی ہندو پارٹی موجود ہے تو لوگ نقلی ہندو پارٹی کے پاس کیوں جائیں گے۔

لیکن تین ریاستوں کے حالیہ انتخابات نے یہ ثابت کر دیا کہ عوام کو مذہب کی بنیاد پر بہت زیادہ دنوں تک بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا۔ اور پھر راہل گاندھی کی مندروں کی حاضری کانگریس کو ہندو پارٹی بنانے کے لیے نہیں تھی بلکہ بی جے پی کو اسی کے ہتھیار سے شکست دینے کی تھی۔ بہت سے مسلمانوں نے ان کے اس طریقہ کار پر ناپسندیدگی کا مظاہرہ کیا لیکن مسلمانوں کی اکثریت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ یہ محض ایک انتخابی حکمت عملی ہے۔

کانگریس نے دو ایک برسوں میں بی جے پی سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ بالخصوص گوا اور دوسری ریاستوں میں جس طرح اس نے حکومتیں بنائی تھیں اس نے کانگریس کو فوری کارروائی کرنے کی اہمیت کا احساس دلا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کو چال چلنے کا موقع نہیں ملا۔ اگر کانگریس نے گوا وغیرہ کی مانند کاہلی کا مظاہرہ کیا ہوتا تو وہاں حکومت بنانی مشکل ہو جاتی۔ ایسا اگر ہوا تو صرف راہل گاندھی کی سرگرمی اور ان کی سیاسی پختگی کی وجہ سے ہوا۔

چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں جس طرح تجربہ کار سیاست دانوں کو وزرائے اعلیٰ کا منصب دیا گیا اور نوجوان قیادت کو بھی ایڈجسٹ کیا گیا وہ صرف راہل کی سیاسی دور اندیشی تھی۔ ان کو کارکردگی کی فکر ہے۔ صرف حکومت سازی کی نہیں۔ اسی لیے انھوں نے پرانے کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں باگ ڈور سونپی ہے۔ لیکن نئے خون سے بھی کام لینے کے ہنر کا مظاہرہ کیا ہے۔

تینوں ریاستوں میں کانگریس کی فتح اور بی جے پی کی شکست اور راہل گاندھی کے سیاسی منظرنامہ پر تیزی سے ابھرنے کی وجہ سے ہی بی جے پی کے اندر مودی کے خلاف بغاوت کے سُر پھوٹنے لگے ہیں۔ نتن گٹکری کے بیانات محض ان کے اپنے بیانات نہیں ہیں بلکہ آر ایس ایس کے منظور شدہ بیانات ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بی جے پی کے اندر اس گروہ کے احساسات کو زبان دی ہے جو مودی شاہ کی جوڑی سے خوش نہیں ہے اور ان کی جگہ پر دوسروں کو چاہتا ہے۔ یہ سب کیوں ہوا اور کیسے ہوا، یہ جاننا مشکل نہیں ہے۔ اس کا سہرا بھی اگر کسی کے سر جاتا ہے تو وہ راہل گاندھی ہیں۔

لیکن یہاں یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اگر راہل مودی کے سامنے چیلنج بن کر ابھرے ہیں تو جنرل الیکشن راہل کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہوگا۔ انھیں اپنی اس مقبولیت کو نہ صرف برقرار رکھنا ہے بلکہ اسے اور پروان بھی چڑھانا ہے۔ اس کے لیے انھیں بہت سوچ سمجھ کر حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ پارٹی کے تجربے کار اور بزرگ سیاست دانوں کی دانشمندی سے بھی کام لینا ہوگا اور نوجوان نسل کے جوش کو بھی بہت سلیقے کے ساتھ استعمال کرنا ہوگا۔

اگر وہ اس میں کامیاب ہو گئے تو 2019 کا سال یقینی طور پر راہل گاندھی کا سال ہوگا۔

Published: 30 Dec 2018, 12:40 PM