اردو عالمی سطح پر معاشرے میں ہم آہنگی کو فروغ دینے کا فرض ادا کرتی ہے: باصر کاظمی

بزم صدف انٹر نیشنل کی جانب سے آن لائن مذاکرہ بہ عنوان ’اردو: آزادی اور امن کی زبان-ایک عالمی تناظر‘میں منعقد۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی/دوحہ: بر صغیر سے باہر یورپ کے مختلف ملکوں میں وہاں کی حکومت اور انتظامیہ بھی یہ بات قبول کرتی ہیں کہ اردو سے سماجی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ بات برطانیہ کے ممتاز شاعر و ادیب باصر سلطان کاظمی نے بزم صدف انٹر نیشنل کی جانب سے منعقد آن لائن مذاکرہ بہ عنوان ’اردو: آزادی اور امن کی زبان۔ایک عالمی تناظر‘میں خطبہ صدارت پیش کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو مختلف طبقوں اور اقوام کے درمیان ایشیائی زبانوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا تو برطانیہ اور دوسرے یوروپی ممالک میں اردو کے لیے ماحول سازگار ہے۔ وہاں اسکولوں میں دوسری زبان کے بہ طور یورپ کی مختلف زبانوں کے ساتھ مساوی حیثیت سے اردو کا نام متعین ہے۔ انہوں نے یورپ اور بالخصوص برطانیہ میں اردو کو درس و تدریس کا حصہ بنائے جانے کے امور پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے بتایا کہ برطانیہ کی پولیس بھی اردو زبان سے واقف افراد کی اس وجہ سے قدر کرتی ہے کیوں کہ یہ طبقہ مختلف زبانوں کے بولنے والوں سے بہ آسانی رابطہ کرسکتا ہے۔

ممتاز ادیب اور دہلی یونی ورسٹی کے آرٹ فیکلٹی کے ڈین اور شعبہ اردو کے سربراہ پروفیسر ارتضیٰ کریم نے امن اور آزادی کے امور پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انقلاب اور محبت کی صفات کی آمیزش سے اردو کی عالمی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ انھوں نے اردو کے مزاج کے حوالے سے جگر مرادآبادی کا مصرعہ پیش کیا: اپنا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ اردو محبت اور شرافت کی زبان ہے، اس لیے اس میں نفرت اور تنگ نظری کا شائبہ تک نہیں دیکھا جا سکتا۔ انھوں نے اس پیغام سے اپنی گفتگو ختم کی کہ اردو کی تعلیم کو بڑھائیں اور اس کے پیغام کو ان لوگوں تک پہنچائیں جہاں اب تک یہ زبان کسی وجہ سے نہیں پہنچ سکی ہے۔

مذاکرے میں موضوع کا تعارف بزم صدف کے ڈائرکٹر کالج آف کامرس، آرٹس اینڈ سائنس، پٹنہ کے صدر شعبہ اردو پروفیسر صفدر امام قادری نے کرایا۔ انھوں نے تاریخی تسلسل کے ساتھ مذاکرے کے موضوع امن اور آزادی کی زبان اردو کے مختلف پہلوؤں کی نشاندہی کی۔ پروفیسر قادری نے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی کہ اردو بادشاہوں کی گود اور درباروں میں پلی بڑھی۔ انھوں نے اردو کے پہلے شاعر حضرت ِ امیر خسرو کی مثال پیش کی کہ دربار سے وابستگی کے باوجود انھوں نے اپنی مثنویوں میں امن و امان اور رعایہ کی فلاح کی باتیں کہیں۔ بادشاہ کی عظمت اس طور پر بتائی کہ اُس کی تلوار سوئی رہے۔ انھوں نے جعفر زٹلی، مرزا عبدالقادر بیدل، نظیر اکبر آبادی، مرزا رفیع سودا سے لے کرمرزا غالب تک کی مثالیں پیش کر کے یہ واضح کیا کہ اردو کے قدیم شعرا ایک طرف آزادیِ فکر کے امین رہے اور دوسری طرف انھوں نے سماج میں امن و امان اور خیرسگالی کے جذبات کو فروغ دینے میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

مذاکرے میں مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے بزم صدف کے چیرمین شہاب الدین احمد نے بتا یا کہ وبائی صور ت حال سے پوری دنیا نبرد آزما ہے اور اس کی زد میں دنیا کے لاکھوں لوگ آتے جا رہے ہیں۔ انھوں نے خاص طور سے ممتاز شاعر راحت اندوری کے انتقال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اُن کے مخصوص شاعرانہ مزاج کے پیشِ نظر اس مذاکرے کا عنوان رکھا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ راحت اندوری صرف شاعر نہیں تھے بلکہ امن و آزادی کے پیامبر بھی تھے۔ وہ بے امنی اور ظلم و ستم کے دشمن بھی تھے۔ انھوں نے کہا کہ جمہوری قدروں کی حفاظت کے لیے سینہ سپر رہنے والے اس شاعر کا جانا ہمارے لیے ایک مستقل نقصان ہے۔ انھوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ پتا نہیں، ایسی انقلابی آواز ہمیں پھر میسر آئے گی یا نہیں۔

ڈاکٹر واحد نظیر(جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) نے مذاکرے میں اردو کے ابتدائی دور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے صوفیہ نے سماج کے مجبور، مقہور اور مظلوم لوگوں کی تربیت اور اصلاح کے لیے اردو زبان کا استعمال کیا اور امن، انصاف، نجات اور آزادی کے پیغامات سے اس زبان کو مالامال کیا۔ انھوں نے اردو کی پوری تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ زبان محبت و اخوت اور امن و آشتی کی ترجمان رہی ہے۔

next