نظم: شنگرفی فضائیں... ڈاکٹر گلشن مسرّت

شنگرفی فضاؤں کے ابرِ جان لیوا ہیں؛ پھول اور پتوں کے ننھے ننھے جسموں کو؛ خوف سے بچانا ہے

علامتی تصویر
i
user

ڈاکٹر گلشن مسرّت

google_preferred_badge

شنگرفی فضاؤں کے دھول دھول بادل نے

پھول اور پتوں کے ننھے ننھے جسموں پر

زہر زہر قطروں سے

بارشیں جو کر دی ہیں

اب کی آبیاری سے

ایسا کیسے ممکن ہے

گل کھلیں محبت کے، گل کھلیں مروت کے

ایسا اب نہیں ہوگا

شنگرفی فضاؤں کے ابرِ جان لیوا ہیں

پھول اور پتوں کے ننھے ننھے جسموں کو

خوف سے بچانا ہے

پھر سے زندہ کرنا ہے۔

پھر سے سانس لینے کا وہ ہنر سکھانا ہے

جس میں گل مہکتے ہیں

اور مسکراتے ہیں

... ڈاکٹر گلشن مسرّت (Gulshan119@gmail.com)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


    Published: 14 Nov 2021, 6:40 PM