نظم: یادوں کی لائبریری...ام ماریہ حق

میرے ذہن کی لائبریری میں کچھ کتابیں سجی ہیں یادوں کی، جن کے اوراق پر میں نے، ماضی کے کچھہ لمحے وقت سے چرا کر تہہ در تہہ تحریر کئے ہیں...

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

ام ماریہ حق

میرے ذہن کی لائبریری میں

کچھ کتابیں سجی ہیں

یادوں کی

جن کے اوراق پر میں نے

ماضی کے کچھہ لمحے

وقت سے چرا کر

تہہ در تہہ تحریر کئے ہیں

جب بھی !

فرصت کے خوشنما جھونکے

ان کتابوں سے ٹکراتے ہیں

ہر صفحے کی منجمد یادیں

ذہن قرطاس پر پھیل جاتی ہیں

گیلی مٹّی کی

سوندھی خوشبو بن کر

کبھی میری روح سے

لپٹ جاتی ہیں

اور کبھی آنکھوں میں

سلگتے منظر دے کر

درد کے کالے بادل بن کر

پرانے زخم پھر سے

ہرے کر جاتی ہیں

* * *

ام ماریہ حق

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔