گونا گوں صلاحیتوں کا مالک قلم کار، ڈاکٹر کیفی سنبھلی

کیفی سنبھلی نثر اور نظم کے میدانوں کے شہسوار ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں شائع ہو کر اردو کے باذوق قارئین کی داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔

کیفی سنبھلی
کیفی سنبھلی
user

جمال عباس فہمی

مغربی اتر پردیش اردو علم و ادب کے لئے ہمیشہ زر خیز علاقہ رہا ہے۔ میرٹھ، مراد آباد، امروہہ، رامپور، بریلی اور سنبھل جیسی سر زمینوں سے تعلق رکھنے والے قلمکاروں نے اردو کے شعری اور ادبی سرمایہ میں اپنی نگارشات سے بیش قیمت اضافہ کیا ہے۔ سنبھل کی ادبی فضا رامپور، مراد آباد اور امروہہ کی ادبی سرگرمیوں سے ہمیشہ متاثر رہی ہے۔ دلّی کی ٹکسالی زبان کے استاد شاعر داغ دہلوی کے چہیتے شاگرد اور جانشین باغ سنبھلی نے اسی شہر کی ادبی فضا میں پرورش پائی اور سنبھل میں دہلی اسکول کی داغ بیل ڈالی۔ سنبھل نے نثر اور نظم کے میدانوں میں اہم قلمکار پیدا کئے، جنہوں نے اپنی قلمی سرگرمیوں سے اردو ادب کو زینت بخشی۔ اسی سنبھل کی سرزمین نے معجز سنبھلی جیسا قادرالکلام اور معجز بیان شاعر اردو کی غزلیہ اور مدحیہ شاعری کو عطا کیا۔ جن کے متعدد شاگرد ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اردو ادب کی خدمت کر رہے ہیں۔ معجز سنبھلی کے شاگردوں میں ایک اہم نام ڈاکٹر کیفی سنبھلی کا ہے۔ کیفی سنبھلی نثر اور نظم کے میدانوں کے شہسوار ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں شائع ہو کر اردو کے باذوق قارئین کی داد و تحسین حاصل کرچکی ہیں۔ ڈاکٹر کیفی سنبھلی خود تو اردو ادب کی خدمت انجام دے ہی رہے ہیں انہوں نے مستقبل میں اردو شعر و ادب کی خدمت کا بندوبست اپنے فرزند امیر امام کی شکل میں کر دیا ہے۔ امیر امام نے بہت کم عمری ہی میں غزلیہ شاعری کے میدان میں اپنی الگ شناخت قائم کر لی ہے۔ ڈاکٹر کیفی سنبھلی کی ادبی خدمات پر تفصیل سے بات کریں گے لیکن ان کے خاندانی پس منظر، تعلیم و تربیت اور ان کی فکری بنیادوں پر پہلے بات کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

کیفی سنبھلی کا اصل نام اقبال قاسم ہے۔ والد کا نام سید محمد عابس تھا۔ کیفی سنبھلی 30 جون 1960 میں سنبھل کی نوریوں سرائے میں پیدا ہوئے۔ گھر کا ماحول روایتی طور پر مذہبی اور تعلیمی تھا اس لئے بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کے شوقین رہے۔ حالانکہ ان کے خاندان میں کوئی صاحب قلم نہیں گزرا، لیکن کیفی سنبھلی کے مزاج میں بچپن سے ہی ادب رچا بسا ہوا تھا یہی سبب ہے کہ محض بارہ برس کی عمر میں ہی شعر گوئی کرنے لگے تھے۔ دوران تعلیم سخن گوئی کا ذوق پروان چڑھتا رہا۔ اردو ادب کے اسی ذوق نے اردو میں ایم اے کرنے کو مجبور کیا، نجی سیکٹر کے پرتھما بینک میں ملازمت کی۔ اردو کے اکثر مشاہیر قلمکاروں کی طرح کیفی سنبھلی کے شوق اور پیشے میں باہم کوئی ہم آہنگی نہیں تھی۔ کہاں بینک کا حساب کتاب اور پیسوں کے لین دین کی ملازمت اور کہاں سخن گوئی۔ لیکن کیفی سنبھلی کی مشق سخن اس بے رس ملازمت کو بھی رنگین بناتی رہی۔ اسسٹنٹ منیجر کی پوسٹ سے ریٹائر ہو کراب وہ مکمل طور سے تصنیف و تالیف اور مشق سخن میں مصروف ہیں۔


سخن گوئی کے ابتدائی دور میں ہی کیفی سنبھلی کو شاعر معجز بیان معجز سنبھلی کی رہنمائی حاصل ہو گئی تھی، جس کی وجہ سے کیفی سنبھلی کا فن نکھرتا چلا گیا۔ ان کی طبیعت کی جولانی کو دیکھتے ہوئے معجز سنبھلی نے ان پر خاص توجہ دینا شروع کی اور فن شاعری کی باریکیوں سے آگاہ کیا۔ رفتہ رفتہ کیفی سنبھلی معجز سنبھلی کے چہیتے شاگرد بن گئے۔ جہاں تک شعر گوئی کا سوال ہے تو کیفی سنبھلی نے بیشتر اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ انہوں نے غزل، نظم، سلام، منقبت، قطعہ، رباعی ور مرثیہ جیسی اصناف میں اپنے قلم اور تخیل کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری کےچار مجموعے 'زرد موسم'، 'حرف پریشاں'، 'انتقام' اور 'پاسنگ' شائع ہو کر مقبولیت عوام حاصل کر چکے ہیں۔ جبکہ مدحیہ قطعات کا ایک مجموعہ 'نذر اہل بیت' سلاموں کے تین مجموعے 'اجر رسالت'، 'آب گریہ' اور 'زنبیل' اور 'پل صراط' کے عنوان سے منقبتوں کے مجموعہ۔ دو مراثی 'کربلا' اور'مملکت صبر' شائع ہو کر کیفی سنبھلی کو ایک معتبر مرثیہ گو شاعر کی صف میں شامل کر چکے ہیں۔ ان کے مراثی کا ایک اور مجموعہ 'مشکیزہ' بھی شائع ہو چکا ہے۔ اس مجموعے میں سات مراثی ہیں۔ 'فلسفہ عشق'، 'بغض و حسد'، 'اشک عزا'، 'روشنی'، 'کونو مع الصادقین'، 'معراج فکر' اور 'کربلا'۔ مرثیہ 'کربلا' الگ سے بھی کتاب کی شکل میں سامنے آچکا ہے۔ اس طرح کیفی سنبھلی اب تک مختلف عنوانات کے تحت آٹھ، مراثی نظم کر چکے ہیں۔

کیفی سنبھلی نثر میں بھی زور قلم کے جوہر دکھاتے رہتے ہیں۔ انہوں نے مختف موضوعات پر درجنوں مضامین سپرد قرطاس کئے ہیں جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہو چکے ہیں۔ کیفی سنبھلی افسانہ نگاری بھی کرتے ہیں ان کے کئی افسانے انقلاب اخبار اور اودھ نامہ میں شائع ہو کر مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ کیفی سنبھلی اپنے مضامین اور افسانوں کا مجموعہ بھی شائع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کیفی سنبھلی اردو کے منفرد لب و لہجہ کے شاعر جون ایلیا پر ڈاکٹریٹ کر چکے ہیں۔ انہوں نے 2014 میں جون ایلیا کی حیات اور شاعری کے عنوان سے تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ انہیں اس مقالہ کی بنیاد پر 2017 میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری تفویض ہوئی۔ کیفی سنبھلی نے پروفسر عابد حیدری کی نگرانی میں اپنا تحقیقی مقالہ تحریر کیا۔ جہاں تک کیفی سنبھلی کی مدحیہ اور رثائی شاعری کا تعلق ہے وہ محمد اور آل محمد کی مدح و ثنا اور مصائب کے نئے نئے گوشے اور زاویہ نظم کرتے ہیں۔ سادہ اور با محاورہ زبان ان کے اسلوب بیان کا خاص وصف ہے۔ کیفی سنبھلی کے نظم کردہ مدح اور منقبت کے کچھ اشعار تو بہت مقبول ہوئے۔


چاروں طرف سے گھیرے ہوئے تھی گلوں کی بھیڑ

خنجر پہ ایسا وقت ابھی تک پڑا نہ تھا

.....

کرب و بلا سے آتے ہو جبریل یہ بتاؤ

پیروں تلے زمین تھی یا آسمان تھا

.....

یوسف دوبارہ مصر میں بکنے نہ آئیو

جھولی میں اب فقیر کی اشک عزا بھی ہے

.....

جنگ جیتا ہوا ہے تو تو یزید

نیند کیوں رات بھر نہیں آتی

.....

پیاسا نہ رکھ سکے گا سکینہ کو اب یزید

اشکوں کا مانسون اٹھا کربلا کے بعد

کیفی سنبھلی کا یہ قطعہ بھی بہت مقبول ہوا

رب سے بولے یہ حضرت یوسف

یہ کرم مجھ پہ بھی کیا ہوتا

اتنے بھائی دیئے نہ ہوتے مجھے

ایک عباس دے دیا ہوتا

کیفی سنبھلی کی اس رباعی نے بھی خواص و عوام کی پذیرائی حاصل کی۔

ویران سی آنکھیں ذرا پرنم کرلوں

زخموں کے لئے سوئی کو مرہم کرلوں

پھر ہاتھ بڑے شوق سے کرلینا قلم

رک جاؤ ذرا شبیر کا ماتم کرلوں


جہاں تک غزل کا تعلق ہے کیفی سنبھلی روایتی عشقیہ مضامین اور محبوب کے لب و رخسار کی باتیں کرنے والے شاعر نہیں ہیں۔ روایتی محبوب اور عاشق ان کی شاعری سے ندارد ہیں وہ انسان کی مختلف ذہنی، مزاجی اور جذباتی کیفیات کو بڑی خوبی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔ البتہ کربلائیت کو برتنا کیفی سنبھلی خوب جانتے ہیں۔ کربلائی استعارے، تشبیہات، کنایات اور تلمیحات کا استعمال ان کے اشعار میں جابجا اور موثر انداز میں ملتا ہے۔ مثال کے طور ان کی غزلوں کے یہ اشعار پیش ہیں۔

بیعت درہم و دینار نہیں کر پائے

خود کو ہم وقت کی رفتار نہیں کر پائے

.....

ایسی اک تشنہ دہانی کی مسافت ہم تھے

کچھ سمندر بھی جسے پار نہیں کر پائے

.....

آگیا کون یہ زد پر سر میدان قتال

ہاتھ میں تیغ تھی اور وار نہیں کر پائے

.....

دیکھنا یہ کہیں میں خود تو نہیں

کون ہے یہ لہو لہو مجھ میں

.....

میں ہوں اپنے تضاد کا منظر

تشنگی مجھ میں آب جو مجھ میں

.....

در پہ آئے ہیں کیسے وقت چراغ

بوند بھر جب نہیں لہو مجھ میں

.....

ابھی سے ہی عادت رکھو تشنگی کی

یزیدوں کی بستی میں جانا پڑے گا

.....

ادھر ہی ر خ ہے فوج تشنگی کا

ذرا کوئی سمندر کو بچا لو

.....

کہ پھر تیغوں کا موسم آرہا ہے

ذرا سوئے ہوئے بازو جگا لو

.....

یوں تو کہنے کو مرے خون کے پیاسے ہیں سبھی

سر قلم کون کرے گا کہ نہتے ہیں سبھی

.....

تشنہ لبی کی اپنی انا کا سوال ہے

ٹھوکر پہ آگیا توسمندر بھی کچھ نہیں

کیفی سنبھلی ایک دور میں مدح و ثنا کی محفلوں اور مشاعروں کے مقبول شاعر تھے لیکن رفتہ رفتہ وہ گوشہ نشین ہوتے چلے گئے۔ معاصرانہ چپقلشوں اور نکتہ چینیوں سے کیفی سنبھلی بہت دلبرداشتہ رہے۔ اس کا اظہار بر ملا طور سے ان کی شاعری میں نظر آتا ہے۔ اپنے اشعار کی زبانی وہ اپنے حریفوں کو پیغام دیتے ہیں کہ وہ دباؤ اور تنقیدوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں۔

کیفی کسی سے اور مری دشمنی ہے کیا

سب کو ملال یہ ہے کہ ان سا نہیں ہوں میں

.....

پانی پہ تیرتی مری میت گواہ ہے

دریا ترے غرور میں ڈوبا نہیں ہوں میں

.....

سورج کی طرح ڈوب کے ابھروں گا حشر تک

دنیا سے ہار ماننے والا نہیں ہوں میں

.....

سورج ہوں رویہ تو بدلنے سے رہا میں

تاروں کی طرح شب کو نکلنے سے رہا میں

.....

حالات پہ تنقید بہر حال کروں گا

پر تیری طرح زہر اگلنے سے رہا میں

.....

تمام دوست کمیں گاہ سے نکل آئے

کوئی تھا تیغ بکف اور کوئی کمان کے ساتھ

.....

گلے کٹانے کا موسم جواں رہے کیفی

نہ ہم تھکے ہیں نہ اب تک تھکی ہیں شمشیریں

.....

کچھ اور دوستی کا ابھی حق ادا کرو

سینے کے آر پار یہ خنجر بھی کچھ نہیں

.....

کیفی جو میں اڑان میں شامل ہوا کبھی

میرے خلاف میرے ہی پر ہو کے رہ گئے

.....

کیفی وہ پھر بہاروں کی کرتے بھی قدر کیا

عادی تمام لوگ تو فصل خزاں کے تھے


لوگوں کی تنقید اور نکتہ چینیوں نے کیفی سنبھلی کو ادبی طور سے کچھ زیادہ ہی سرگرم کر دیا۔ ناقدوں اور نکتہ چینوں کا منھ بند کرنے کے لئے انہوں نے اردو میں ایم اے کیا۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور گوشہ نشینی کو تصنیف و تالیف کے لئے استعمال کیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ نثر اور نظم دونوں میدانوں میں انہوں نے اپنی ادبی تخلیقی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ نثر اور نظم میں ان کی درجن بھر کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور کئی کتابیں زیر ترتیب ہیں۔ بحیثیت ایک مرثیہ نگار کیفی سنبھلی یہ دعویٰ کرنے میں حق بجانب نظر آتے ہیں۔

کیفی نہ میں انیس نہ کوئی دبیر ہوں

پر مجلس حسین میں چرچا مرا بھی ہے

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔