طنزانچے کا موجد قلمکار اسد رضا

اسد رضا کو ملنے والے انعامات و اعزازات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے۔ جن میں سب سے زیادہ اہم ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہے، جو انہیں بچوں کا ادب تخلیق کرنے کے لئے دیا گیا۔

اسد رضا
اسد رضا
user

جمال عباس فہمی

پیتل کے برتنوں اور برتنوں کی نقاشی کے لئے دنیا بھر میں مشہور اتر پردیش کے شہر مراد آباد کو جگر مراد آبادی نے ادبی پہچان دلائی۔ آج کے دور میں منصور عثمانی، سبحان اسد، شاکر اصلاحی، مجاہد فراز، معراج نقوی اور اسد رضا اپنے قلم کے دم پر مراد آباد کا نام دنیا بھر میں روشن کر رہے ہیں۔ اسد رضا کا تعارف مختصر طور پر ممکن نہیں ہے۔ ان کی شخصیت ہمہ گیر اور ہمہ جہت ہے۔ وہ صحافی ہیں۔ شاعر ہیں۔ مصنف ہیں، طنز و مزاح نگار ہیں۔ مضمون نگار ہیں۔ مترجم ہیں، مرتب ہیں۔ ان کی درجنوں کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ان کی بیشتر کتابوں کو مختلف ریاستی اردو اکیڈمیاں انعامات کے لئے منتخب کر چکی ہیں، ساہتیہ اکادمی سمیت درجنوں انعامات و اعزازات سے اسد رضا کو نوازہ جا چکا ہے۔ ان کی شخصیت اور مزاح نگاری پر تھیسس لکھی جا چکی ہے۔ ان کی تحریر کردہ ایک کہانی مغربی بنگال میں چھٹی کلاس کے نصاب کا حصہ ہے۔ ان کا ایک بڑا ادبی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اردو کے نثری ادب میں ایک صنف کا اضافہ کیا ہے۔ وہ طنزانچے کے موجد ہیں۔ طنزانچہ کی تعریف ہم بعد میں کریں گے پہلے ہم اسد رضا اور ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

مراد آباد کے محلہ لاکڑی والان میں 2 جنوری 1952 کو پیدا ہونے والے اسد رضا کا مکمل نام سید اسد رضا نقوی ہے۔ اسد رضا کے دادا سید مظہر علی نقوی ریاسث اصغرآباد کے جنرل منیجر تھے۔ والد مرحوم سید ظفرعلی نقوی ڈپٹی انسپیکٹر آف اسکولس تھے۔ گھر میں تعلیم کا دور دورہ تھا اس لئے اسد رضا کو ابتدا سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا۔ انگریزی اور اردو میں ایم اے کیا۔ درس و تدریس کے شوق نے بی ایڈ کرا دیا۔ ضلع مظفر نگر کےایک انٹر کالج میں انگریزی کے لیکچرار رہے۔ آٹھ برس تک لیکچرار رہنے کے بعد صحافت کے جراثیم کسی طرح بدن میں داخل ہو گئے اور متحدہ روس جو اس زمانے میں USSR کہلاتا تھا، دہلی میں اس کے پریس سیکشن سے بحیثیت ایڈیٹر منسلک ہو گئے۔ سات برس تک اس شعبے سے وابستہ رہے۔ روس کے حصے بخرے ہونے کے بعد پریس سیکشن بند ہوا اور اسد رضا باقاعدہ صحافت میں سرگرم ہو گئے۔ کچھ عرصہ اردو ویکلی 'نئی دنیا' سے وابستہ رہے اور اس کے بعد سہارا پریوار کا حصہ بن گئے اور ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچے۔ 25 برس تک سہارا پریوار کے ساتھ رہے۔ اس دوران اردو روز نامہ 'راشٹریہ سہارا'، ہفتہ وار 'عالمی سہارا' اور ماہنامہ 'بزم سہارا' کے وسیلے سے صحافتی اور ادبی خدمات انجام دیتے رہے۔ فی الحال اسد رضا اتراکھنڈ کے دہرا دون میں اپنے فرزند کے ساتھ رہائش پذیر ہیں اور قلمی معرکے سر کرنے میں مصروف ہیں۔


ویسے تو اسد رضا نے قومی اور عالمی سیاست اور حالات پر بہ کثرت مضامین تحریر کئے ہیں لیکن ان کے اندر مزاح اور طنز کی ایک زبردست حس موجود ہے جس نے ان سے مزاحیہ ادب تخلیق کرایا۔ یہ بھی کم ہی دیکھا گیا ہے کہ کوئی طنز و مزاح نگار بچوں کا ادب بھی تحریر کرے۔ اسد رضا کے اندر یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ ان کے قلم نے بچوں کے لئے مزاحیہ مضامین بھی لکھے، نظمیں بھی لکھیں اور کہانیاں بھی تحریر کیں۔ ان کا تخلیق کردہ بچوں کا ادب اتنا معیاری ہے کہ ساہتیہ اکادمی نے انہیں اس کے لئے انعام سے نوازہ اور بچوں کے لئے تحریر کہانی 'چاند نگر کی سیر' کو مغربی بنگال حکومت نے چھٹی کلاس کے نصاب میں شامل کیا ہے۔

اسد رضا نے 2011 سے 2015 تک راشٹریہ سہارا میں حالات حاضرہ پر قطعات بھی لکھے اور 1991 سے 2011 تک اخبار میں طنز یہ کالم 'تلخیاں' لکھا۔

خوب کھایا ہے خوب کھائیں گے

جلنے والا جلا کرے کوئی

فرقہ وارانہ ان فسادوں میں

مرنے والا مرا کرے کوئی


اسد رضا روایتی طرز کے شاعر نہیں ہیں۔ صحافیانہ نظر ان کی شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔ ان کے یہاں حالات و واقعات کا گہرا مشاہدہ ہے۔ وہ منافقت پر چھینٹا کشی کرتے ہیں۔ نفرت کی سیاست کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں۔ ان کے کلام میں شوخی بھی ہے اور طنز بھی۔

دوستی دو رخی دشمنی دو رخی

ہے ترے شہر میں زندگی دو رخی

اس کو اقرار سمجھوں کہ انکار میں

ہے لبوں پر ترے خامشی دو رخی

دل میں حرص و ہوس اور سجدے میں سر

اس نئے دور کی بندگی دو رخی

مدعا کس طرح پھر سمجھتا کوئی

آپ نے جب بھی کی بات کی دو رخی

اس کے الفاظ کچھ اور مفہوم کچھ

ہے اسد آپ کی شاعری دو رخی

....

سینوں میں اگر ہوتی کچھ پیار کی گنجائش

ہاتھوں میں نکلتی کیوں تلوار کی گنجائش

نفرت کی تعصب کی یوں رکھی گئیں اینٹیں

پیدا ہوئی ذہنوں میں دیوار کی گنجائش

پاکیزگی روحوں کی نیلام ہوئی جب سے

جسموں میں نکل آئی بازار کی گنجائش

اس طرح کھلے دل سے اقرار نہیں کرتے

رکھ لیجئے تھوڑی سی ان کار کی گنجائش

سمجھیں کہ نہ سمجھیں وہ ہم نے تو اسد رکھ دی

اشعار کے ہونٹوں پر اظہار کی گنجائش

انہوں نے طنزیہ اور مزاحیہ غزلیں بھی لکھی ہیں۔

ان کو نفرت سے محبت ہے خدا خیر کرے

بس محبت سے ہی نفرت ہے خدا خیر کرے

کھولے بیٹھے ہیں وہ مسلک کی دوکانیں ہر سو

ہائے مذہب میں خیانت ہے خدا خیر کرے

وہ الیکشن میں بھی انویسٹ کیا کرتے ہیں

لیڈری ان کی تجارت ہے خدا خیر کرے

جن کو اکثر میں دیا کرتا ہوں دعوت گھر پر

ان کو ہی مجھ سے عداوت ہے خدا خیر کرے

چمچہ گیری کسی افسر کی منسٹر کی اسد

آج کل عین سعادت ہے خدا خیر کرے

اسد رضا کی مختلف موضوعات پر درجن بھر سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں جن میں بیشتر کسی نہ کسی ریاستی اکیڈمی کے انعام کے لئے منتخب ہو چکی ہیں۔ شعری مجموعہ 'آئینے احساس کے 'شعری مجموعہ 'شہر احساس' طنزیہ اور مزاحیہ مضامین کا مجموعہ 'شوخی قلم' بچوں کے لئے مزاحیہ مضامین کا مجموعہ 'چاند نگر کی سیر' طنزیہ اور مزاحیہ مضامین کا مجموعہ' ادبی اسپتال' بچوں کے لئے مزاحیہ کہانیوں کا مجموعہ' ننھے منوں کی سرکار 'طنزیہ اور مزاحیہ مضامین کا مجموعہ' شوشے 'بچوں کے لئے نظموں اور کہانیوں کا مجموعہ 'کرکٹی مشاعرہ' مزاحیہ ناول 'نمائش خانہ' اتر پردیش میں اردو میڈیا 'مختصر مزاحیہ افسانوں کا مجموعہ 'طنزانچے' اردو صحافت (تاریخ) 'سچ کی سمجھ' (بچوں کے لئے) 'ننھے منوں کی سرکار' (ہندی) شائع ہو چکی ہیں۔ جبکہ ان کی تین کتابیں، قطعات کا مجموعہ 'آئینہ' مزاحیہ ناول 'الو نامہ' اور اردو شعرا اور ادیبوں کے 'خاکے' زیر تحریر و ترتیب ہیں۔ اسد رضا نے ہندی ناول 'ونائک' کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ وہ 'نشتر خانقاہی' کتاب کو بھی مرتب کر چکے ہیں۔ ان کا تحریر کردہ مزاحیہ سیریل 'فائیو اسٹار نرسنگ ہوم' ڈی ڈی اردو پر نشر ہوچکا ہے۔


اسد رضا ایک منجھے ہوئے صحافی اور ادیب ہیں۔ ٹیکنالوجی کے عروج سے پہلے کا دور بھی دیکھے ہوئے ہیں اور ٹیکنالوجی کے عروج کو بذات خود برت بھی رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ آج کا انسان شارٹ کٹ پسند ہوگیا ہے۔ کم سے کم وقت میں وہ بہت کچھ حاصل کرلینے کا خواہاں ہے۔ اس کی اسی شارٹ کٹ سوچ کو مد نظر رکھتے ہوئے اسد رضا نے افسانچہ کی طرز پرمختصر طنزیہ اور مزاحیہ مضامین لکھنا شروع کئے اور اس کو نام دیا طنزانچہ۔ اس طرح اسد رضا ہی طنزانچہ کے بانی اور موجد قرار پائے۔ اسد رضا کو طنزانچہ کا موجد ہونے کی سند بھی ان اساتذہ نے دی ہے جو’’مستند ہے میرا فرمایا ہوا‘‘ والے اہل قلم کی صف میں شامل ہیں۔ پروفیسر شہپر رسول اور پروفیسر خواجہ اکرام کی سند کے بعد اسد رضا مستند طور پر طنزانچہ کے موجد ہیں۔ مختصر لکھتے لکھتے اسد رضا چند سطری طنزیہ و مزاحیہ مضامین تک پہنچ گئے۔ ان کے بعض مضامین دس یا دس سے بھی کم سطروں میں سمٹے ہوئے ہیں۔ گرد و پیش کو دیکھنے کا ان کا انداز عام لوگوں سے جداگانہ ہوتا ہے۔ وہ حالات، واقعات، سماجی، سیاسی، مذہبی اور اقتصادی تبدیلیوں کا گہرائی اور گیرائی سے جائزہ لیتے ہیں اس کے بعد ان کا قلم حرکت میں آتا ہے۔ انہوں نے ان موضوعات پر تحریر کیا جن کو عام طور پر لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے۔ اسد رضا نے سماجی برائیوں پر بھی لکھا۔ گونا گوں وقوع پذیر معاشرتی اور سیاسی تبدیلیوں پر بھی لکھا۔ اخلاقی قدروں کے انحتاط پر بھی ان کا قلم چلا۔ طنزیہ اور مزاحیہ مضامیں لکھنا ویسے بھی دشوار ہوتا ہے اور وہ بھی مختصر ترین طور سے لکھنا نہایت ہی مشکل مرحلہ ہے اور اسد رضا اس مشکل مرحلے کو بہ آسانی طے کرجاتے ہیں۔

اسد رضا کو کئی امتیازات حاصل ہیں۔ جو ان کے ادبی قد کو مزید بلندی عطا کرتے ہیں۔ میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی کی ایک اسکالر نے اسد رضا کی طنز نگاری پر 'ایم فل' کی تھیسس لکھی ہے۔ جامعہ اردو علی گڑھ نے انہیں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا ہے۔ یو پی اردو اکیڈمی انہیں 'لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ' دے کر سرفراز کرچکی ہے۔ اسد رضا کی ادبی اور صحافتی خدمات کا مختلف مواقع پر مختلف اداروں، اکیڈمیوں اور انجمنوں نےاعتراف کیا ہے اور انہیں انعامات و اعزازات سے نوازہ ہے۔ اردو ادب اور صحافت کے فروغ کے لئے انجمن ترقی اردو ہند انہیں اعزاز سے نواز چکی ہے۔ اسد رضا کو ملنے والے انعامات و اعزازات کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے۔ جن میں سب سے زیادہ اہم ساہتیہ اکادمی ایوارڈ ہے، جو انہیں بچوں کا ادب تخلیق کرنے کے لئے دیا گیا۔ اسد رضا کی قلمی کاوشیں بڑی شد و مد اور آب و تاب کے ساتھ جاری ہیں۔ امید ہے کہ ایک ذمہ دار اور ایماندار قلم کار کی حیثیت سے وہ صحت مند ادب کی تخلیق کا اپنا فرض ادا کرتے رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔