اردو صحافت کے 200 سال: صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے... معین شاداب

کسی اخبار کے اجرا کے اسباب و علل اور اغراض ومقاصد پر بات ہوتی ہے تو اکبر الہ آبادی کا یہ شعر بے ساختہ زبان یا نوک قلم پر آجاتا ہے ’کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو، جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو‘

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

معین شاداب

صحافت اور شعرو ادب کا ازلی رشتہ ہے۔ صحافت بھی قلم کاری کا ایک شعبہ ہے۔ ادیب اور صحافی کی ذمہ داری کم و بیش ایک ہی ہے۔ اردو میں شاعری اور صحافت میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جس اردو کے زیادہ تر صحافی مجاہد آزادی بھی رہے ہیں اسی طرح بیشتر صحافی ادیب یا شاعر رہے ہیں۔ اردو صحافت کے بنیاد گذاروں میں حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، محمد علی جوہر، ظفرعلی خاں وغیرہ اور ان کے بعد آنے والے صحافی سب اعلیٰ پایہ کے شاعر و ادیب اور خطیب تھے۔ احمد علی شوق، پنڈت تربھون ناتھ ہجر، رتن ناتھ سرشار، منشی خواجہ پرشاد برق، اکبر الہ آبادی وغیرہ شعرا صحافت سے وابستہ تھے۔

شعرو ادب کی ترجمانی اردو صحیفوں کی نیچر کا حصہ ہے۔ اخبار ’جام جہاں نما ‘میں شیخ ابراہیم ذوق، بہادر شاہ ظفر، مرزا غالب، حافظ غلام سول، مرزا محمد علی بخت مرزا، حیدر شکوہ، مرزا نورالدین کا کلام تواتر سے شائع ہوتا تھا۔ ذوق اور غالب کی چپلقش اور ادبی معرکوں کی خبروں کو بھی اس میں جگہ دی جاتی تھی۔ اکبر الہٰ آبادی، اقبال، برج نرائن چکبست، فراق، جوش، حالی، مجاز، اسمٰعیل میرٹھی، شبلی نعمانی، مجاز، افسرمیرٹھی وغیرہ کے وطن پرستی، حب الوطنی اور قومی اتحاد کے نغمے اخبارات کا حصہ رہے ہیں۔ آج بھی یہ روایت جاری ہے۔ شاید ہی کوئی ایسا اخبار یا جریدہ ہو جس میں سیاسی اور سماجی عکاسی کے ساتھ ساتھ شعرو ادب کو جگہ نہ ملتی ہو۔

کسی اخبار کے اجرا کے اسباب وعلل اور اغراض ومقاصد یا جواز پر آج بھی اگر بات ہوتی ہے تو اکبر الہٰ آبادی کا یہ شعر بے ساختہ زبان یا نوک قلم پر آجاتا ہے:

کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو

جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو


اخبارات کی لوح پر شعر کندہ کئے جانے کی روایت بھی ابتدا سے ہی چلی آرہی ہے۔ یادگار زمانہ اور موقر اخبا مدینہ کی پیشانی پر جو شعر درج ہوتا تھا اس کا تذکرہ آج بھی ہوتا ہے۔ یہ شعر شاعر کی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظہر بھی ہے:

معجزہ شق القمرکا ہے مدینہ سے عیاں

مہ نے شق ہو کر لیا ہے دین کو آغوش میں

کیا خوبصورت صنعت کا استعمال اس شعر میں ہواہے۔ لفظ ’مدینہ‘ کا اولین حرف ’میم‘ اور آخری حرف ’ہ‘ لئے جائیں تو لفظ ’مہ‘ بنتا ہے جبکہ ان دنوں حروف کے درمیان میں جو حروف ہیں وہ ’د، ی، ن‘ ہیں، جن سے لفظ ’دین‘ بنتا ہے۔ اس طرح ’مہ‘ کی جلو میں ’دین‘ آجاتا ہے۔

بنگلور سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ’نشیمن‘ کے ٹائٹل پر شائع ہونے والا یہ شعربھی بہت مشہور ہے:

نشیمن پر نشیمن اس طرح تعمیرکرتا جا

کہ بجلی گرتے گرتے آپ خود بیزار ہوجائے

دہلی سے ایک ادبی گلدستہ ’زبان‘ کے نام سے شائع ہوتا تھا جس میں ہندوستان کے مشاہیر شعرا کا کلام چھپتا تھا۔ اس اخبار کی لوح پر داغ کا ایک شعر جو حسب ذیل ہے درج ہوتا تھا:

ہے بلندی پہ، ترقی پہ، وہ شان دہلی

کہ زمانے میں ہے مشہور زبان دہلی

دہلی سے ہی ایک گلدستہ نسیم نکلتا تھا۔ اس ادبی رسالہ کے سروق پر مندرجہ ذیل شعر درج ہوتا تھا:

وہ تازگی ہو غنچہ دل منھ سے بول اٹھے

جھونکا جدھر سے آئے نسیم بہار کا


اردو کے نمائندہ ترقی پسند شاعر فیض احمد فیض کی یہ انقلابی نظم کسے یاد نہیں ہوگی۔ جس کا ایک ایک شعر دل ودماغ میں پیوست ہوجاتا ہے۔ یہ نظم قلم کاروں اور صحافیوں کا ترانہ بن گئی ہے:

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول زباں اب تک تیری ہے

جب قلم پر پابندیاں لگتی تو اقبال کا یہ شعر کسی صحافی کے دل کا ترجمان بھی بن جاتا ہے:

یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں

یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری

حبیب جالب نے تو اس ذیل میں کمال کی نظمیں لکھی ہیں ۔ایک نظم کے یہ شعر دیکھیں:

خوب آزادی صحافت ہے

نظم لکھنے پہ بھی قیامت ہے

دعویٰ جمہوریت کا ہے ہر آن

یہ حکومت بھی کیا حکومت ہے

وہ موضوعات جن پر شعرا نے طبع آزمائی کی ہے بے شمار ہیں۔ صحافت کو بھی شاعروں نے موضوع سخن بنایا ہے۔ صحافت کے مقاصد، عزائم، تقاضے اور کمٹمنٹ پر راست شاعری بھی کی گئی ہے اور علامتی طور پر بھی۔ صحافت کے شعبے، اس کے مضمرات اور اس سے وابستہ اصطلاحات و لفظیات کو علامت اور استعارہ بنا کر بھی شاعری کی گئی ہے۔ صحافی، اخبار، صحیفہ، رسالہ، سرخی، خبر، نامہ نگار جیسے بہت سے الفاظ کو علائم اور تلاذمات کی شکل میں استعمال کیا گیا ہے:

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہے

کبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

(ادا جعفری)

ذرا سی چائے گری اور داغ داغ ورق

یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشہ ہے

(عامر سہیل)

ایسے مر جائیں کوئی نقش نہ چھوڑیں اپنا

یاد دل میں نہ ہو اخبار میں تصویر نہ ہو

(خلیل مامون)

سرخیاں اخبار کی گلیوں میں غل کرتی رہیں

لوگ اپنے بند کمروں میں پڑے سوتے رہے

(زبیر رضوی)


اخبار حادثوں اور فسادات کی خبر سے بھرے ہوتے ہیں۔ ایک عام تاثر یہ ہے، جو کسی حد تک حقیقت بھی ہے کہ اخبار زیادہ تر حادثوں اور فسادات یا جرائم کا روزنامچہ بن کر رہ گئے ہیں۔ کیا بھی کیا جا سکتا ہے کہ وقت کا تقاضہ شاید یہی ہے۔ اخباروں میں مثبت خبریں کم ہوتی ہیں جب کہ منفی خبروں کے دفتر کے دفتر ہوتے ہیں۔ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اخبار ناپسندیدہ واقعات اور لہو لہو مناظر کا دستاویز اور انسانی زندگی کے المناک پہلوؤں کا استعارہ یا اشاریہ بن گئے ہیں:

گمنام ایک لاش کفن کو ترس گئی

کاغذ تمام شہر کے اخبار بن گئے

(عشرت دھولپور)

سرخیاں خون میں ڈوبی ہیں سب اخباروں کی

آج کے دن کوئی اخبار نہ دیکھا جائے

(مخمور سعیدی)

بم پھٹے لوگ مرے خون بہا شہر لٹے

اور کیا لکھا ہے اخبار میں آگے پڑھیے

(ظہیر غازی پوری)

ہرایک لفظ سے چنگاریاں نکلتی ہیں

کلیجہ چاہئے اخبار دیکھنے کے لئے

(راحت اندوری)

مجھ کو اخبار سی لگتی ہیں تمہاری باتیں

ہر نئے روز نیا فتنہ بیاں کرتی ہیں

(بشیر مہتاب)

کوئی کالم نہیں ہے حادثوں پر

بچا کر آج کا اخبار رکھنا

(عبدالصمد تپش)

صحیفہ نگاروں کی جاں فشانی اور ان کی زندگی کے المناک پہلوؤں کو بھی اشعارمیں ڈھالا گیا ہے۔ سلیم شیرازی جو خود بھی ایک صحافی ہیں ان کا ایک شعر ہے:

سوچتا ہوں بچوں کو کیا جواب میں بھیجوں

شاہ سرخیاں لکھوں اور جیب خالی ہے

(سلیم شیرازی)

صحافی کی ژرف نگاہی اور پڑتال کی عادت پر ایک شعر ملاحظہ کریں:

صحافیوں کو کہاں حال دل سنا بیٹھے

ذرا سی بات کئی زاویوں سے لکھیں گے

(معین شاداب)

شاعروں نے زرد صحافت اور مصلحت کوش صحافیوں کو بھی نہیں بخشا۔ یعنی سب کی خبر لینے والوں کی خبر بھی لی گئی ہے۔ اس کھرے شعبے میں بھی جو کھوٹ در آیا ہے اس پر بھی چوٹ کی گئی ہے۔ صحافت کس طرح سیاست سے متاثر ہو رہی ہے، قلم بے حرمت ہوتا جا رہا ہے، اس پر ادیبوں کی نظر ہے:

ہم شیخ نہ لیڈر نہ مصاحب نہ صحافی

جو خود نہیں کرتے وہ ہدایت نہ کریں گے

(فیض)

بس اس قدر تھا کہ دربار سے بلاوا تھا

گداگرانِ سخن کے ہجوم سامنے تھے

(احمد فراز)

دربدر جو تھے وہ دیواروں کے مالک ہو گئے

جتنے مخبر تھے وہ اخباروں کے مالک ہوگئے

(راحت اندوری)

سب کی پگڑی کو ہواؤں میں اچھالا جائے

سوچتا ہوں کوئی اخبار نکالا جائے

(راحت اندوری)


موسم گل یہ تری زرد صحافت کیسی

پھول معصوم ہیں پھولوں سے سیاست کیسی

(خورشید احمد ملک)

رات کے لمحات خونی داستاں لکھتے رہے

صبح کے اخبار میں حالات بہتر ہو گئے

(نصرت گوالیاری)

ہمارے شہرمیں ہر شے کی اک قیمت مقرر ہے

سیاست کیا، وزارت کیا، صحافت کیا، عدالت کیا

حبیب جالب کی ایک نظم عام قلکاروں کے ساتھ ساتھ صحافیوں پر بھی تازیانہ ہے:

قوم کی بہتری کا چھوڑ خیال

فکر تعمیر ملک دل سے نکال

تیرا پرچم ہے تیرا دست سوال

بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل

اب قلم سے ازار بند ہی ڈال

(حبیب جالب)

ذیل میں صحا فت پر کچھ اور اشعار ملاحظہ کریں۔ ان اشعار میں صورت حال کے بہت سے خوشگوار، نا خوش گوار رنگ اور مختلف بھلی بری کیفیتیں دیکھی جاسکتی ہیں:

جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبر

ہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھنا

عبید اللہ علیم

اس وقت وہاں کون دھواں دیکھنے جائے

اخبار میں پڑھ لیں گے کہاں آگ لگی تھی

انور مسعود

کون پڑھتا ہے یہاں کھول کے اب دل کی کتاب

اب تو چہرے کو ہی اخبار کیا جانا ہے

(راجیش ریڈی)

دس بجے رات کو سو جاتے ہیں خبریں سن کر

آنکھ کھلتی ہے تو اخبار طلب کرتے ہیں

(شہزاد احمد)

وہ خوش نصیب تھے جنہیں اپنی خبر نہ تھی

یاں جب بھی آنکھ کھولیے اخبار دیکھیے

(شہزاد احمد)

کوئی نہیں جو پتا دے دلوں کی حالت کا

کہ سارے شہر کے اخبار ہیں خبر کے بغیر

(سلیم احمد)

ہم صبح پرستوں کی یہ ریت پرانی ہے

ہاتھوں میں قلم رکھنا یا ہاتھ قلم رکھنا

(خالد علیگ)

سچ بات ہی یا رب میرے خامے سے رقم ہو

اس کے سوا لکھوں تو مرا ہاتھ قلم ہو

(نامعلوم)

قلم سے آگ بجھاؤ کہ جل رہا ہے چمن

خموش بیٹھے ہو، کیسے ادیب لگتے ہو

(نامعلوم)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔