مضحکہ خیز نیوکلیائی عزائم سے دنیا میں یکا و تنہا پاکستان، چینی کالونی میں تبدیل

نیویارک ٹائمز کے 30 اگست 2019 کے ادارتی صفحے پر پاکستانی وزیر اعظم نے لکھا ہے کہ اگر کشمیر اور وہاں کے لوگوں پر ہندوستانی حملہ کو دنیا نے نہیں روکا تو پوری دنیا کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا

عمران خان
عمران خان
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہشت گردی کو ریاستی پالیسی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے والے گمراہ ملک پاکستان کو برداشت کرتی چلی آئی دنیا نے اس وقت منھ لگانا بند کردیا ہے، جب اس بے ہنگم نیوکلیائی ملک کے سیاسی رہنماوں نے مضحکہ خیز دعوے کرنا شروع کر دیئے۔ اسی سال 19 اگست کو پاکستان کے وفاقی وزیر شیخ رشید نے ایک ملکی نیوز چینل کو ایک انٹرویو میں ہندوستان کے ساتھ نیوکلیائی محاذ آرائی کا معاملہ اٹھایا اور یہ کہہ دیا کہ ’’پاکستان کے پاس بہت سارے چھوٹے اور بڑے ایسے سمت بند ہتھیار ہیں کہ وہ مسلم زندگیوں کو بچائیں گے اور صرف ہندو آبادی کے مراکز کو نشانہ بنائیں گے‘‘۔ جہاں تک نیوکلیائی ہتھیاروں سے ہونے والی ہلاکتوں اور تباہیوں کا تعلق ہے تو یہ نقصان مذہبی پہچان کے ساتھ نہیں ہو سکتی اور ایسے غیر ذمہ دارانہ بیانات نیوکلیائی ہتھیاروں سے لیس کسی ذمہ دار ملک کے سیاسی رہنما شاید ہی کبھی دیتے ہوں۔ لیکن بر صغیر کی سیاست کے ماہرین کے مطابق یہ پاکستانی سیاسی قیادت کے لئے بالکل معمول کی باتیں ہیں اور یہ کوئی پہلا موقع نہیں جب پاکستان نے ہندوستان کو ایٹمی جنگ کی دھمکی دی ہو، 2019 میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے متعدد مواقع پر ہندوستان کے ساتھ نیوکلیائی جنگ کے بارے میں عوامی تقریریں کیں۔

نیویارک ٹائمز کے 30 اگست 2019 کے شمارے کے ادارتی صفحے پر پاکستانی وزیر اعظم نے لکھا ہے کہ ’’اگر کشمیر اور وہاں کے لوگوں پر ہندوستانی حملہ کو دنیا نے نہیں روکا تو پوری دنیا کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ دو نیوکلیائی طور پر مسلح ممالک براہ راست فوجی تصادم کے قریب پہنچ جائیں گے‘‘۔ پاکستانی ایسٹیبلشمنٹ بین الاقوامی مجالس میں کشمیر کے مسئلے کو اٹھانے سے تو نہیں تھکی لیکن اقوام عالم کو اب تھکان محسوس ہونے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق کچھ ایسی میڈیا اطلاعات بھی ہیں جو وادی گلوان میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی فوج (سی سی پی آرمی) کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے حالیہ تصادم کی کڑی پاکستانی چالوں اور منصوبہ بندیوں سے جوڑتی ہیں۔ ان اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ ’’امریکی انٹلیجنس کی ایک رپورٹ کے مطابق لداخ کی گلوان وادی میں 15 جون کے تصادم سے پہلے، ہندوستان کی فوج کی پوزیشنوں اور نقل و حرکت کے بارے میں پاکستان کی بدولت سی سی پی کو بہتر اندازہ تھا‘‘۔

حالیہ کورونا زدہ حالات میں ایک طرف جہاں سی سی پی اور پاکستانی فوجی کے مابین مضبوطی بڑھی ہے وہیں اطلاعات ہیں کہ پاکستان نے جولائی 2020 میں ہندوستان کے ساتھ اپنی سرحد کے قریب اپنے غیر قانونی قبضے والے خطے میں بیس ہزار اضافی فوجیوں کو منتقل کیا ہے۔ غالب امکان ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں برسر اقتدار رہنے والوں کے کانوں تک جارج سنتایانہ کے یہ مشہور الفاظ نہیں پہنچے کہ ’’جو لوگ تاریخ کو بھول جاتے ہیں وہ اسے دہرانے کی بدبختی سے باز نہیں آتے‘‘۔ پاکستانی خاکی وردی والوں نے علامہ اقبال کے یہ الفاظ تو یاد رکھے کہ "کوئی بھی کمیونٹی اپنی تاریخ سے روشنی حاصل کرتی ہے۔ اپنی تاریخ کو یاد کر کے وہ خود سے آگاہ ہوتی ہے لیکن تاریخ بہر حال اسٹریٹجک پاکستانی منصوبہ ساز وں کو یہ بتاتی ہے کہ راولپنڈی کو کبھی بھی کشمیر میں مداخلت کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، پاکستان نے جب جب ایسا کیا ہے، جنگ ہارا ہے اور اسے اپنے لئے تباہ کن نتائج کا سامنا رہا۔ مزید برآں ہندوستان کے ساتھ اس کی تمام جنگوں میں چینی کمونسٹ پارٹی نے کبھی بھی پاکستانی غلط کارروائیوں کی کھل کر یا پوشیدہ طور پر حمایت نہیں کی۔

بیجنگ میں 21 اگست 2020 کو دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں جاری کردہ حالیہ مشترکہ بیان میں بھی پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ "مساوات اور باہمی احترام کی بنیاد پر بات چیت کے ذریعے خطے میں تنازعات اور مسائل کو حل کریں"۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے اسٹریٹجک پارٹنر - سی سی پی کے اس مشترکہ بیان سے زیادہ واضح اور اشارہ نہیں ہوسکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے حالیہ اقدامات کی وجہ سے اس کے عرب دوستوں نے بھی اس کے نفرت اور دہشت بھرے بیانیہ سے دور ی اختیار کر لی ہے۔ پاکستان لیکن اس کے ادراک سے قاصر ہے۔

فلسطینیوں کی حالت زار پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی قبول نہیں کرے گا اور متحدہ عرب امارات سمیت اُن عرب ممالک کی پیروی نہیں کرے گا جنہوں نے حال ہی میں اسرائیل کو تسلیم کیا ہے اور یہودیوں کے ملک کے ساتھ امن معاہدہ قبول کیا ہے۔ اتفاق سےتقریباً اسی موقع پر مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے واقعات نے پاکستانی وزیر اعظم کو اس وقت شرمندہ کر دیا جب وہاں کے ایک نامور سیاستدان نے پاک مقبوضہ کشمیر سے پاک فوج کے فوجی قبضے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

ماہرین کے مطابق کشمیر کو عملی طور پر دیکھتے ہوئے، کٹھ پتلی وزیر اعظم عمران کے لئے یہ یاد رکھنا ضروری ہوگا کہ حالیہ دنوں میں جن چار اسلامی ممالک نے کشمیر کے مسئلہ پر (جو مسئلہ ہے ہی نہیں) بات کی ہے، ان میں سے کسی ایک کا بھی دنیا پر کوئی اثر رسوخ نہیں ہے۔

next