پاکستانی روپیہ ریکارڈ نچلی سطح پر، پہلی بار ڈالر کے مقابلے 205 کے پار پہنچا

پاکستانی کرنسی میں گراوٹ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے، تیل کی ادائیگی زیر التوا ہونے اور بین الاقوامی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب پاکستانی کرنسی دباؤ میں ہے۔

شہباز شریف، تصویر آئی اے این ایس
شہباز شریف، تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

پاکستان کے فوریکس ایسو سی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستانی روپیہ میں منگل کے روز اوپن مارکیٹ میں 4 پی کے آر کی گراوٹ ہوئی، جس کے بعد یہ ایک امریکی ڈالر کے مقابلے گر کر تاریخ میں پہلی بار 205 کی نچلی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس درمیان درآمدگی ادائیگیوں کے سبب گرین بیک کے بڑھتے مطالبہ پر انٹراڈے کاروبار کے دوران بازار میں اس نے امریکی ڈالر کے مقابلے اپنی گراوٹ جاری رکھی، جو اب تک کی سب سے نچلی سطح 202.75 روپے پر آ گئی۔

’جیو نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق مقامی کرنسی میں گراوٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ ایسا اس لیے کیونکہ درآمد کی طلب کے سبب روپے کی طلب اس کی فراہمی کے مقابلے میں زیادہ ہے جو تیل ادائیگی کے سبب بڑھی ہے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق عارف حبیب لمیٹڈ بروکریج فرم کے ایک تجزیہ کار طاہر عباس نے کہا کہ تیل ادائیگی زیر التوا ہونے اور بین الاقوامی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے سبب پاکستانی کرنسی دباؤ میں ہے۔


طاہر عباس کا کہنا ہے کہ ’’ایک بڑے درآمدگی بل کی وجہ سے گراوٹ آئی اور کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھ گیا۔‘‘ تجزیہ کار نے کہا کہ بازار بین انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ پروگرام کے معاملات پر گہری نظر رکھ رہا ہے، جس کے بجٹ کے اعلان کے بعد پھر سے شروع ہونے کی امید ہے کیونکہ سرکار مقرر شرائط کو پورا کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔

پی کے آر نے گزشتہ بار 26 مئی کو 202 کا ہندسہ پار کیا تھا، جب آئی ایم ایف قرض پروگرام کی باز آبادکاری پر اب کے مقابلے میں زیادہ غیر یقینی تھی۔ غور طلب ہے کہ پاکستان میں ان دنوں جاری سیاسی بحران کی وجہ سے طویل مدت سے جاری معاشی بحران مزید گہرا گیا ہے۔ عمران خان کو ہٹا کر اقتدار میں آئی شہباز شریف کی قیادت والی اتحادی حکومت لگاتار ہاتھ پیر تو مار رہی ہے، لیکن اس کا کوئی ٹھوس نتیجہ نکلتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔