پاکستان پر حملے کی تیاری کر رہا طالبان، دورنڈ لائن پر باڑ کو لے کر کشیدگی

کابل میں طالبان کی قیادت والی حکومت نے کہا ہے کہ وہ دورنڈ لائن پر مزید باڑ لگانے کی اجازت نہیں دے گی، پہلے چاہے کچھ بھی ہوا ہو لیکن اب اس کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

قومی آوازبیورو

کابل میں طالبان کی قیادت والی حکومت نے کہا کہ وہ ڈورنڈ لائن پر مزید باڑ لگانے کی اجازت نہیں دے گی، جو کہ افغانستان-پاکستان سرحد پر واقع ہے۔ میڈیا کی رپورٹ سے یہ جانکاری ملی۔ مشرقی علاقہ کے لیے بارڈر فورس کے کمانڈر مولوی ثناء اللہ سنگین نے بدھ کو ٹولو نیوز کو بتایا کہ ہم کسی بھی وقت کسی بھی شکل میں باڑ لگانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انھوں نے پہلے جو کچھ بھی کیا ہو، لیکن ہم اب اس کی اجازت نہیں دیں گے۔

ثناء اللہ سنگین کا تبصرہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیان کے جواب میں تھا کہ ڈورنڈ لائن پر باڑ لگانے کے ایشو پر سفارتی چینلوں کے ذریعہ سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ دورنڈ لائن پر پاکستانی فوج کی آمد و رفت کو روکنے کے لیے طالبان 30 سے زائد چوکیاں بنا رہا ہے۔


کمانڈر ثناء اللہ سنگین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج طویل وقت سے کنار علاقہ پر حملے شروع کر رہی ہے اور افغان فریق اب سے اسی طرح کی کارروائی کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ آپ نے کچھ دن پہلے دیکھا کہ انھوں نے (پاکستانی فوج نے) کچھ مورٹار داغے تھے۔ جس کے جواب میں ہم نے 32 مورٹار داغے تھے۔

ٹولو نیوز نے بتایا کہ کنار کے باشندوں نے طالبان سے لائن پر باڑ لگانے سے روکنے کی اپیل کی ہے۔ ایک باشندہ مٹیولا مومند نے کہا کہ پاکستان کے ذریعہ بنائی گئی باڑ نے ہمارے بھائیوں، رشتہ داروں اور قبائلیوں کو الگ کر دیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔