کرتارپور کے لئے پاس پورٹ لازمی: پاکستانی فوج

پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سیکورٹی وجوہات سے لوگوں کو قانونی طریقے سے پاس پورٹ پر مبنی شناخت پر پرمٹ کے ذریعہ داخلہ دیا جائے گا اور سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے اعلان کو خارج کرتے ہوئے پاکستانی فوج نے کہا ہے کہ کرتارپور گلیارے سے آنے والے ہندوستانی اور غیر مقیم ہندوستانیوں کے لئے پاس پورٹ لازمی ہوگا۔

ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ سیکورٹی وجوہات سے لوگوں کو قانونی طریقے سے پاس پورٹ پر مبنی شناخت پر پرمٹ کے ذریعہ داخلہ دیا جائےگا اور سلامتی اور خود مختاری سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

گزشتہ یکم نومبر کو پاکستانی وزیراعظم نے ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کرتارصاحب گرودوارے کے درشن کے لئے آنے والے ہندوستانی سکھوں کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت، بیس ڈالر کی فیس اور دس دن پہلے رجسٹریشن کرانے کی شرائط ختم کردی ہیں۔

ہندوستان نے اس سلسلے میں پاکستانی حکومت سے اسی دن وضاحت مانگی تھی اور پوچھا تھا کہ اگر ان کی حکومت نے ایسا فیصلہ کیا ہے تو اسی کے مطابق دوطرفہ سمجھوتے میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ ہندوستان پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت سفر کو آسان بنانے کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرتی ہے تو وہ کسی بھی لمحہ سمجھوتے کی ترمیم کی شکل پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن پاکستان کی جانب سے ہندوستان کو کوئی جواب نہیں ملا ہے۔

گرونانک دیو کے 550ویں پرکاش اوتسو کے موقع پر نو نومبر کو ڈیرا بابا نانک سے کرتارپور صاحب تک نو تعمیر شدہ گلیارے کا افتتاح کیا جائے گا۔ دونوں طرف پروگراموں کا انعقاد کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی ڈیرا بابا نانک اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کرتارپور میں تقریب سے خطاب کریں گے۔