پاکستان: سرسید ایکسپریس اور ملت ایکسپریس ٹرین حادثہ کی خوفناک تصویریں آئیں سامنے

جیو نیوز نے گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ کے حوالے سے بتایا کہ اس حادثے میں 13 سے 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے اور آٹھ ڈبے بری طرح ٹوٹ گئے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

اسلام آباد: پاکستان میں جنوبی صوبہ سندھ کے ضلع گھوٹکی میں پیر کے روز دو مسافر ٹرینوں کے ٹکرانے سے کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 50 دیگر زخمی ہوگئے۔ اطلاعات کے مطابق لاہور سے کراچی جانے والی سرسید ایکسپریس ٹرین ملت ایکسپریس سے ٹکرا گئی جو کراچی سے سرگودھا جارہی تھی اور راستے میں پٹری سے اتر گئی اور مخالف ٹریک پر چلی گئی۔ حادثے کے سبب ملت ایکسپریس ٹرین کے متعدد ڈبے الٹ گئے۔

جیو نیوز نے گھوٹکی کے ڈپٹی کمشنر عثمان عبد اللہ کے حوالے سے بتایا کہ اس حادثے میں 13 سے 14 ڈبے پٹری سے اتر گئے اور آٹھ ڈبے بری طرح ٹوٹ گئے۔ جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اس حادثے میں کم از کم 30 افراد جاں بحق اور 50 دیگر مسافرین زخمی ہوگئے۔ بہت سے لوگ اب بھی ٹرین کے ڈبے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تعداد بڑھ سکتی ہے۔ مسافروں اور ان کے اہل خانہ کی سہولت کے لئے کراچی، سکر، فیصل آباد اور راولپنڈی میں ہیلپ لائن شروع کردی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے اس حادثے میں لوگوں کی ہلاکت پر تعزیت کی ہے اور واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ عمران خان نے ٹوئٹ کیا کہ "گھوٹکی میں آج صبح ہونے والے خوفناک ٹرین حادثے سے حیران اور رنجیدہ ہوں جس میں 30 مسافروں کی موت ہوگئی ہے۔ وزیر ریلوے سے کہا گیا ہے کہ وہ جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کے لئے طبی امداد کو یقینی بنائیں اور جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو امداد فراہم کریں۔ ریلوے سیکورٹی میں گڑبڑی کی جامع تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

جیو نیوز کے مطابق، ریلوے کے حکام نے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے، جس کی سربراہی 21 گریڈ کے ایک افسر کریں گے۔ جائے وقوعہ پر ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں ہنگامی حالت کا اعلان کیا گیا ہے اور زخمیوں کو اسپتالوں میں لے جایا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔